امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہے عمان نے مذاکرات کے اگلے دور کی تصدیق کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تہران ایک مسودہ تجویز تیار کر رہا ہے جو حتمی معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
EPAPER
Updated: February 23, 2026, 8:14 PM IST | Washington/Tehran/Muscat
امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہے عمان نے مذاکرات کے اگلے دور کی تصدیق کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تہران ایک مسودہ تجویز تیار کر رہا ہے جو حتمی معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، امریکہ اور ایران جمعرات کو جنیوا میں انتہائی اہم جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی طاقت میں نمایاں اضافے کے بعد فوجی تصادم کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
ایرانی حکام نے مذاکرات سے قبل محتاط امید کا اظہار کیا۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں ہونے والی گفتگو سے ”حوصلہ افزاء اشارے“ ملے ہیں اور مذاکرات کار تنازع کو روکنے کے مقصد سے ممکنہ معاہدے کی تفصیلات پر کام کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تہران ایک مسودہ تجویز تیار کر رہا ہے جو حتمی معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
عمان، جو دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کررہا ہے، نے مذاکرات کے اگلے دور کی تصدیق کر دی ہے۔ عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے امید ظاہر کی کہ یہ ملاقات دونوں فریقین کو ایک معاہدے کو حتمی شکل دینے کی طرف ”مزید کوششیں“ کرنے پر راغب کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ایران امریکہ تنازع: ہندوستانی شہریوں کو فوری انخلا کی ہدایت
سفارت کاری کے ساتھ فوجی دباؤ
سفارت کاری کی یہ نئی کوشش واشنگٹن کی جانب سے بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ کے درمیان سامنے آئی ہے۔ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں دو طیارہ بردار بحری بیڑے، اضافی لڑاکا طیارے اور فضائی دفاعی نظام تعینات کرکے مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ایران پر ممکنہ حملوں کے لئے آمادگی کا اشارہ دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کئی بار متنبہ کر چکے ہیں کہ اگر تہران معاہدہ نہیں کرتا تو ”انتہائی برے نتائج“ برآمد ہوگے۔ ایران نے جوابی کارروائی کی وارننگ کے ساتھ ٹرمپ کی دھمکیوں کا سخت ردِعمل دیا ہے۔ عراقچی نے کہا کہ حملہ ہونے کی صورت میں تہران اپنا دفاع کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امریکی مفادات اہداف بن سکتے ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ محدود حملوں کو بھی جارحیت کا عمل تصور کیا جائے گا اور اس کا جواب دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ کاایران پرحملے کیلئے امریکہ کو اپنی زمین دینے سے انکار
ایران ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کے لئے تیار ہے: پزشکیان
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بتایا کہ مذاکرات کے گزشتہ ادوار میں عملی تجاویز کا تبادلہ ہوا اور مثبت پیش رفت دیکھی گئی۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ ایران ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے ایران کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تہران علاقائی استحکام کے لئے پرعزم ہے اور امریکی اقدامات کی باریک بینی سے نگرانی کر رہا ہے۔