Updated: March 31, 2026, 8:04 PM IST
| Dubai
ایران نے جنگ کے جواب میں اپنی حکمت عملی کو وسعت دیتے ہوئے سمندری راستوں، خلیجی علاقوں اور اتحادی نیٹ ورکس کو متحرک کر دیا ہے۔ دبئی بندرگاہ میں کویتی آئل ٹینکر پر حملہ اس نئی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس سے عالمی توانائی سپلائی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
دبئی میں موجود امریکی ٹھکانوں پر ایرانی حملے۔ تصویر: ایکس
(۱) ایران کی جوابی حکمت عملی، سمندری دباؤ اور اتحادی نیٹ ورکس فعال
ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں اپنی جوابی حکمت عملی کو وسعت دے دی ہے، جس میں سمندری راستوں پر دباؤ، علاقائی اتحادیوں کی سرگرمی اور مختلف محاذوں پر ردعمل شامل ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران اپنے اتحادی گروپوں کے ذریعے مختلف علاقوں میں دباؤ بڑھا رہا ہے تاکہ مخالفین کو ایک سے زیادہ محاذوں پر مصروف رکھا جا سکے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ ’’ہم ہر سطح پر جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ ایران روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ غیر روایتی حکمت عملی بھی اپنا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے امریکی واسرائیلی یونیورسٹیوں کو جائزہدف قراردیا
(۲) دبئی بندرگاہ میں کشیدگی، کویتی آئل ٹینکر ایرانی حملے کا نشانہ
دبئی کی بندرگاہ میں ایک کویتی آئل ٹینکر پر ایرانی حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق حملے کے نتیجے میں جہاز کو نقصان پہنچا، تاہم تفصیلات محدود ہیں۔ حکام کے مطابق ’’یہ حملہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے۔‘‘ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب آبنائے ہرمز پہلے ہی عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔