ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ تہران پر عسکری حملہ کی صورت میں اسرائیل اور امریکہ کے عسکری و جہاز رانی مراکز کو جائز اہداف مانیں گے۔
تہران میں پیر کو حکومت نوازوں کی جانب سے نکالی گئی ریلی کا منظر۔ تصویر: آئی این این
امریکہ اور ایران کے درمیان سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ایک جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی قیادت نے فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد مذاکرات کے لئے رابطہ کیا ہے۔وہیں دوسری طرف ایران کےوزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ہم مذاکرات چاہتے ہیں لیکن اگر کوئی جنگ پر آمادہ ہے توہم بھی تیار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایئر فورس ون میں اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کے لیڈران نے گزشتہ روز فون کیا اور ایک ملاقات طے کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران مذاکرات چاہتا ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ممکن ہے ملاقات سے پہلے ہی ہمیں کارروائی کرنا پڑے۔ ایران میںحالیہ حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں ٹرمپ متعدد بار یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی گئی تو امریکہ مداخلت کر سکتا ہے۔ قبل ازیں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ اور اسرائیل کو ایران میں فسادات کا ذمہ دار قرار دیا۔ ایرانی میڈیا کو انٹرویو میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل لوگوں کو ہدایات دے رہے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں جاؤ تخریب کاری کرو، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ایران پر حملہ کیا، ہم کسی غیر ملکی کو قوم میں انتشار کے بیج بونے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نےکیاکہا؟
غیرملکی خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہےکہ ہم جنگ اور مذاکرات دونوں کیلئے تیار ہیں۔ ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہفتے کے آخر میں تشدد میں اضافہ ہوا، دہشت گردوں نے مظاہرین اور سیکوریٹی فورسز کو نشانہ بنایا تاہم اب صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں ایران میں پرامن مظاہرے پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہوگئے، دوہفتوں میں مظاہروں کےدوران۳۵۰؍ مساجدکوآگ لگائی گئی لیکن ایرانی فورسیز نے پرتشدد مظاہروں کے دوران زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا، مظاہرین کے مطالبات جائزتھے اور حکومت انہیں سن بھی رہی تھی۔ ایرانی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی مداخلت کی بات کے بعد احتجاج خونریزہوگئے تاکہ مداخلت کا بہانہ پیدا ہوسکے۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکرنے بھی سخت انتباہ دیا
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے، تہران پر عسکری حملہ کرنے کی صورت میں اسرائیل اور امریکہ کے عسکری و جہاز رانی مراکز کو جائز اہداف قبول کیا جائے گا۔ اتوار کو پارلیمانی اجلاس میں قالیباف نے امریکہ کے صدر ٹرمپ کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ ’’جائز دفاع کے دائرے میں، اپنے خلاف کسی کارروائی کے بعد، ہم خود کو محض جوابی کاروائی تک ہی محدود نہیں رکھتے۔ اگر امریکی فوجی حملہ ہوا تو مقبوضہ علاقے (اسرائیل) بھی اور امریکی فوجی وجہاز رانی مراکز بھی ہمارے لئے جائز اہداف ہوں گے۔ حال میں ایران، اقتصادی، فکری، عسکری اور دہشت گردی جنگ پر مشتمل، چار محاذوں پر اسرائیل اور امریکہ کیساتھ نبرد آزما ہے اور یہ محاذ بیک وقت کھولے گئے ہیں۔ ‘‘
دریں اثناء اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے ایرانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف ’’حتی الامکان احتیاط برتیں اور غیر ضروری یا غیر متناسب طاقت کے استعمال سے گریز کریں۔ سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارچ نے اتوار کو بیان میں کہا کہ سیکریٹری جنرل کو اسلامی جمہوریہ ایران کے مختلف حصوں میں مظاہرین کے خلاف ایرانی حکام کی طرف سے تشدد اور طاقت کے بیجا استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں، سے متعلقہ رپورٹس پر تشویش ہے۔‘‘
غطریس نے اِس بات پر زور دیا کہ تمام ایرانی شہریوں کو بلا خوف و ڈر اپنی شکایات کو پُرامن طریقے سے پیش کرنے کا حق حاصل ہے اور کہا کہ اظہارِ رائےاور پرامن اجتماع کے حقوق جو بین الاقوامی قانون میں درج ہیں انہیں احترام اور تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔
فرعون، نمرود اور رضا شاہ کیساتھ جو ہوا وہی ٹرمپ کیساتھ ہوگا: خامنہ ای
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکہ کی بیجا مداخلت اور اشتعال انگیزیوں پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرعون، نمرود اور رضا شاہ کے ساتھ جو ہوا وہی ٹرمپ کے ساتھ ہو گا۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ’’ غرور میں ڈوبا ایک شخص پوری دنیا کے فیصلے کر رہا ہے۔ ‘‘ ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کا یہ بھی کہنا تھا کہ’’ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ اقتدار کے عروج پر طاقتور ترین حکمرانوں کیساتھ کیا ہوا۔ ‘‘