تاشقند میں تمغہ جیتنے کے بعد گھر لوٹنے سے قبل یاسر اپنی والدہ کیلئے ایک اچھا سا سوٹ خریدنے کی تیاری کررہے ہیں ، ان کیلئے ماں کے چہرے پرسکون دیکھنا سب سے بڑا خواب اور میڈل ہے۔
یاسر راجوری میں اپنی والدہ کے ساتھ-تصویر:آئی این این
زندگی کبھی کبھی ایسے امتحانات سامنے رکھ دیتی ہے کہ بڑے بڑے لوگ ہار مان لیتے ہیں مگر کچھ لوگ انہی تلخیوں کو اپنی طاقت بنا لیتے ہیں۔ جموں کشمیر کے سرحدی ضلع راجوری سے تعلق رکھنے والے ۱۴؍ سالہ محمد یاسر کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ غربت، بے گھری، یتیمی، بھوک، منشیات کے خوفناک ماحول اور معاشی تنگی جیسے مسائل کے درمیان پلنے والا یہ لڑکا آج ہندوستان کیلئے امید کی نئی علامت بن کر ابھرا ہے۔ گزشتہ ہفتے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں منعقد ہونے والی ایشین انڈر۱۵؍ باکسنگ چمپئن شپ میں محمد یاسر نے ۵۸؍ کلوگرام زمرہ میں گولڈ میڈل جیت کر نہ صرف ملک بلکہ اپنے چھوٹے سے شہر راجوری کا نام بھی روشن کر دیا۔لیکن اس کامیابی کے پیچھے ایک ایسی جدوجہد چھپی ہے جو محض کھیل کی کہانی نہیں بلکہ سماجی ناہمواری، غربت، ماں کی قربانی، خوابوں کی طاقت اور حوصلے کی زندہ مثال ہے۔
گھر منہدم کیاگیا اور زندگی بدل گئی
یاسر کی زندگی کا ایک بڑا موڑ ۲۰۱۸ء میں آیا جب بیلا کالونی میں واقع ان کا گھر انسداد تجاوزات مہم کے دوران منہدم کر دیا گیا۔ بے گھر ہونے کے بعد ان کا خاندان ضلع انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ کے ایک خستہ حال رہائشی کمپلیکس میں منتقل ہو گیا جہاں پہلے سے کئی غریب اور بے سہارا خاندان مقیم تھے۔یہ علاقہ صرف غربت کا شکار نہیں تھا بلکہ منشیات کے عادی افراد کی سرگرمیوں کی وجہ سے بدنام بھی تھا۔ محمد یاسر یاد کرتےہیں کہ اگر وہ اور ان کا چھوٹا بھائی کھیل کے میدان تک نہ پہنچتے تو شاید وہ بھی نشے کی لعنت میں مبتلا ہو جاتے۔یاسر نے بتایاکہ اگر میں اور میرا بھائی باکسنگ شروع نہ کرتے تو شاید ہم بھی منشیات کی طرف چلے جاتے۔ ہمارے آس پاس کا ماحول بہت خراب تھا۔ والدہ ہمیں گھر کے باہر کھیلنے بھیج دیتی تھیں تاکہ ہم غلط صحبت سے بچ سکیں۔محمد یاسر کی مشکلات صرف بے گھری تک محدود نہیں رہیں۔ وہ محض چھ برس کے تھے جب ان کے والد ندیم، جو ایک تعمیراتی مزدور تھے، دل کا دورہ پڑنے کے باعث دنیا سے رخصت ہو گئے۔گھر کی تمام ذمہ داری ان کی والدہ نسیم کے کندھوں پر آ گئی۔ دو بیٹوں اور ایک بیٹی کی پرورش، کرایہ، کھانے پینے کے اخراجات،سب کچھ ایک اکیلی ماں کے لئےکسی آزمائش سے کم نہ تھا۔نسیم نے دوسروں کے گھروں میں کام کرنا شروع کیا۔ وہ روزانہ تین گھروں میں صفائی اور گھریلو کام کرتیں اور ہر گھر سے تقریباً دو ہزار روپے کماتیں۔نسیم نے نم آنکھوں سے بتایاکہ شوہر کے انتقال کے بعد زندگی بہت مشکل ہو گئی تھی۔ کئی راتیں ایسی گزریں جب کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ کبھی صرف پانی پی کر سو جاتے، کبھی ایک روٹی کو بچوں میں بانٹ دیتی۔ مگر میں نے کبھی اپنے بچوں کے خواب مرنے نہیں دیے۔
باورچی کا کام اور خوابوں کی قیمت
محمد یاسر آج بھی محنت مزدوری سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ کھیل کے ساتھ ساتھ وہ گزشتہ تین برسوں سے راجوری کے گورنمنٹ میڈیکل کالج کے ایم بی بی ایس طلبہ کے لئے جزوقتی باورچی کے طور پر کام کرتے ہیں تاکہ والدہ کا ہاتھ بٹا سکیں۔
ان کے لئےباکسنگ صرف کھیل نہیں بلکہ زندگی بدلنے کا راستہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ میڈل جیتنے کے باوجود انہیں واپس کچن میں جا کر کام کرناپڑتا ہے۔یاسر کہتے ہیں کہ میں نے تین سال کھانا پکا کر گھر چلانے میں ماں کی مدد کی ہے۔ جب میں نے ازبکستان میں گولڈ جیتا تو سب سے پہلے ذہن میں یہی آیا کہ جلد واپس جا کر اپنے بھائی کا بوجھ کم کروں گا، جو میری جگہ کام کر رہا تھا۔
کھیل کا میدان، جہاں قسمت بدل گئی
محمد یاسر اور ان کے چھوٹے بھائی فرید کی شروعات کسی اسپورٹس اکیڈمی سے نہیں ہوئی تھی۔ دونوں بھائی راجوری اسٹیڈیم میں باکسرس کے لیے پانی لاتے، میدان میں سفید پاؤڈر سے لائنیں کھینچتے اور چھوٹے موٹے کام کرتے تھے۔ اس کے بدلے انہیں کبھی ۱۰؍ یا ۱۵؍ روپے مل جاتے، اور کئی بار کچھ بھی نہیں ملتا تھا۔یاسر ہنستے ہوئے مگر تلخ حقیقت بیان کرتے ہیں کہ کئی دن ایسے ہوتے تھے کہ ہم صرف پانی پی کر رہ جاتے یا چینی کے ساتھ روٹی کھاتے۔ بعض باکسرز ہمیں کام کے پیسے نہیں دیتے تھے، پھر ہماری ان سے لڑائی ہو جاتی تھی۔یہی لڑائیاں دراصل ان کی قسمت بدلنے کا ذریعہ بن گئیں۔ راجوری کے کھیلو انڈیا سینٹر میں کوچ محمد اشتیاق ملک نے دونوں بھائیوں کی لڑنے کی صلاحیت دیکھی۔ ملک، جو بیجنگ اولمپکس کے کانسہ کا تمغہ جیتنے والے وجندر سنگھ کے کوچ جگدیش سنگھ کے شاگرد رہ چکے ہیں، نے فوراً محسوس کیا کہ یہ لڑکے عام نہیں۔انہوں نے بتایاکہ میں نے دیکھا کہ یاسر اور فرید اسٹیڈیم میں سینئر لڑکوں سے لڑ جاتے تھے جب وہ انہیں پیسے نہیں دیتے تھے۔ ان میں فطری فائٹنگ اسکلز تھیں۔ یاسر کے پنچ شروع سے ہی مضبوط تھے، بس انہیں درست تربیت کی ضرورت تھی۔ابتدا میں کوچ نے ان کی والدہ کو یہ بھی نہیں بتایا کہ دونوں باکسنگ سیکھ رہے ہیں۔
مقامی مقابلوں سے ایشیائی چمپئن تک
محمد یاسر نے۲۰۲۴ء میں جموں کشمیر سب جونیئر چمپئن شپ میں ۵۵؍ کلوگرام زمرے کا خطاب جیتا۔ اس کے بعد قومی سطح پر سب جونیئر نیشنل ٹائٹل حاصل کیا جس نے ان کے لئے قومی کیمپ کے دروازے کھول دیے۔پھر آیا تاشقند کا وہ لمحہ جس نے ان کی زندگی بدل دی۔ایشین انڈر ۱۵؍ باکسنگ چمپئن شپ میں یاسر نے پہلے کرغیزستان کے اکبرزوہان دژانوف کو شکست دی، پھر قازقستان کے میئرلان بئیس خان کو ہرایا اور سیمی فائنل میں ایران کے ایس موسیٰ کو زیر کیا۔فائنل میں ان کا مقابلہ میزبان ملک ازبکستان کے عبداللہ کریم جونوف سے تھا۔ ہوم کراؤڈ کے دباؤ کے باوجود یاسر نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلائی تمغہ جیت لیا۔
’’میرے پاس تحفہ نہیں، سونے کا تمغہ ہے‘‘
یاسر کے لئے سب سے جذباتی لمحہ وہ تھا جب انہیں احساس ہوا کہ ان کے پاس والدہ کے لئے کوئی تحفہ خریدنے کے پیسے نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ ازبکستان سے ماں کے لئے کچھ خرید سکوں، لیکن میں سونے کا تمغہ لے کر گھر جا رہا ہوں۔ شاید یہ ان کے لئے سب سے بڑا تحفہ ہو۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جب نسیم فون پر اپنے بیٹے کی کامیابی کے بارے میں بات کر رہی تھیں، تو انہیں بات بیچ میں روکنی پڑی کیونکہ گھر کے باہر منشیات کے عادی افراد آپس میں لڑ رہے تھے۔یہ منظر خود اس تلخ حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ محمد یاسر کس ماحول سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچے ہیں۔نسیم کہتی ہیںکہ اب وہ میڈل لے کر آ رہا ہے، مجھے سکون محسوس ہو رہا ہے۔ میں نے بہت مشکل وقت دیکھا ہے، مگر اب لگتا ہے کہ میرے بچوں کی محنت رنگ لا رہی ہے۔ محمد یاسر کا خواب یہیں ختم نہیں ہوتا۔ وہ ایک دن ہندوستان کے لئے اولمپکس میں میڈل جیتنا چاہتے ہیں۔ روزانہ کی پریکٹس کے بعد وہ ڈاکٹروں سے موبائل فون مانگ کر قازق، ازبک اور ہندوستانی پروفیشنل باکسر نشانت دیو کی ویڈیوز دیکھا کرتے تھے۔یاسر پراعتماد لہجے میں کہتے ہیںکہ تاشقند میں جیتنے کے بعد مجھے یقین ہوا ہے کہ شاید ایک دن میں اولمپکس میں بھی ہندوستان کے لئے میڈل جیت سکتا ہوں۔فی الحال وہ جموں سے راجوری واپسی پر اپنی والدہ کے لئے ایک اچھا سوٹ خریدنے کی تیاری کر رہے ہیں کیونکہ ایک ایسے بیٹے کے لئے جس نے بھوک، غربت اور بے گھری دیکھی ہو، شاید دنیا کا سب سے بڑا خواب صرف میڈل جیتنا نہیں بلکہ اپنی ماں کے چہرے پر سکون دیکھنا ہے۔