Inquilab Logo Happiest Places to Work

آبنائے ہرمز ایران کا ’’جوہری ہتھیار‘‘ ہے: دمتری میدیدوف

Updated: April 09, 2026, 7:06 PM IST | Tokyo

روس کی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دمتری میدیدوف نے آبنائے ہرمز کو ایران کا ’’جوہری ہتھیار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی صلاحیت ’’ناقابل تسخیر‘‘ ہے۔ انہوں نے ایکس پر جاری بیان میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی پر بھی شکوک کا اظہار کیا۔ دوسری جانب ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

روس کی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دمتری میدیدوف نے ایک بیان میں آبنائے ہرمز کو ایران کا ’’جوہری ہتھیار‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’’یہ واضح نہیں ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کیسے عمل میں آئے گی۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ ایران نے اپنے جوہری ہتھیاروں کا تجربہ کیا ہے۔ اسے آبنائے ہرمز کہا جاتا ہے۔ اس کی صلاحیت ناقابل تسخیر ہے۔‘‘ میدیدوف کے اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان حالات بدستور کشیدہ ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو ایران کے ساتھ دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھئے: اسپین کا مطالبہ: لبنان حملوں پر اسرائیل سے یورپی معاہدہ معطل کیا جائے

انہوں نے کہا کہ تہران کی جانب سے مذاکرات کے لیے ۱۰؍ نکاتی ’’قابل عمل‘‘ تجویز پیش کی گئی ہے، جسے آئندہ کسی ممکنہ معاہدے کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ جنگ بندی اس وقت سامنے آئی جب صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک ڈیڈ لائن دی گئی تھی، جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ بصورت دیگر ’’پوری تہذیب کی تباہی‘‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل ہی جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کا امریکہ کو انتباہ: جنگ بندی یا جنگ، ایک منتخب کریں

جنگ کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا، جس کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں اور تجارتی راستوں پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔ آبنائے ہرمز کو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے ایک اہم راستے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ میدیدوف کے بیان اور حالیہ پیش رفت نے ایک بار پھر اس اہم سمندری گزرگاہ کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK