Updated: April 06, 2026, 7:07 PM IST
| Beirut
ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے اپنی خودمختاری کے دفاع کا اعلان کیا ہے۔ عالمی سطح پر بھی ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں عالمی ادارہ صحت نے لبنان کے اسپتالوں پر حملوں کی مذمت کی ہے۔ اس کے ساتھ ایران کی جانب سے سخت بیانات اور سیاسی ردعمل سامنے آئے ہیں، جبکہ خطے میں انسانی اور سیکوریٹی خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
(۱) ایران کا مؤقف: خودمختاری کا بھرپور دفاع کریں گے، ٹرمپ کی دھمکیاں جنگی جرائم
ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں ’’جنگی جرائم‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری کا بھرپور دفاع کرے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق حالیہ بیانات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کیلئے تمام وسائل استعمال کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا جواب دے گا۔‘‘ رپورٹس کے مطابق ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کے دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اس بیان کے بعد سفارتی سطح پر بھی ردعمل سامنے آیا ہے اور کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: لبنان، اسرائیل اور خلیج میں حملے، متعدد ہلاکتیں اور زخمی
(۲) ڈبلیو ایچ او کا ردعمل: لبنان کے اسپتالوں پر حملے کی مذمت
عالمی ادارہ صحت نے لبنان میں اسپتالوں پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طبی سہولیات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ادارے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’صحت کی سہولیات کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے اور طبی عملے کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔‘‘ رپورٹس کے مطابق حالیہ حملوں میں طبی مراکز کو نقصان پہنچا ہے، جس سے علاج کی سہولیات متاثر ہوئیں۔ ڈبلیو ایچ او نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر اقدامات کریں اور صحت کے نظام کو محفوظ رکھیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ اور ایران کا ۴۵؍ روزہ جنگ بندی پر غور، پاکستان کے ذریعے پیش رفت
(۳) ایرانی ردعمل: ٹرمپ کو داخلی دباؤ اور سیاسی ہلچل کا سامنا ہو سکتا ہے
ایرانی ذرائع نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کو حالیہ بیانات کے بعد داخلی سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ بیان ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں ایران سے متعلق سخت مؤقف اختیار کیا گیا تھا۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’امریکی صدر کو اپنے بیانات کے باعث داخلی سطح پر ردعمل کا سامنا ہو سکتا ہے۔‘‘ ذرائع کے مطابق اس معاملے پر امریکی سیاسی حلقوں میں بھی بحث جاری ہے۔