ایران کی قیادت نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ’’اندرونی تقسیم‘‘ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے قومی اتحاد پر زور دیا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای اور مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران متحد ہے، جبکہ واشنگٹن کے بیانات کو ’’نفسیاتی جنگ‘‘ قرار دیا گیا۔
EPAPER
Updated: April 24, 2026, 9:07 PM IST | Tehran
ایران کی قیادت نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ’’اندرونی تقسیم‘‘ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے قومی اتحاد پر زور دیا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای اور مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران متحد ہے، جبکہ واشنگٹن کے بیانات کو ’’نفسیاتی جنگ‘‘ قرار دیا گیا۔
ایران کی اعلیٰ قیادت نے ایک بار پھر امریکہ کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے قومی اتحاد اور مزاحمت پر زور دیا ہے۔ جمعرات کو جاری بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایرانی عوام کے درمیان ’’غیر معمولی اتحاد‘‘ نے دشمن کو کمزور کر دیا ہے اور اس میں دراڑ ڈال دی ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ اس اتحاد پر ’’عملی شکرگزاری‘‘ ضروری ہے تاکہ قومی ہم آہنگی مزید مضبوط ہو اور دشمن مزید کمزور ہو جائے۔ ان کے مطابق، بیرونی قوتیں میڈیا اور نفسیاتی حربوں کے ذریعے ایرانی معاشرے کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے آٹھ خواتین کی پھانسی روکنے کے ٹرمپ کے دعوے کو’’جھوٹی خبر‘‘ قرار دیا
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی قیادت کے اندر ’’سخت گیر‘‘ اور ’’اعتدال پسند‘‘ دھڑوں کے درمیان شدید اختلافات ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو ’’پاگل پن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو خود یہ معلوم نہیں کہ اس کا اصل لیڈر کون ہے۔ ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکہ کا آبنائے ہرمز پر ’’مکمل کنٹرول‘‘ ہے اور کوئی بھی جہاز امریکی اجازت کے بغیر وہاں سے گزر نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ گزرگاہ اس وقت تک ’’سیل‘‘ رہے گی جب تک ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ نہیں کرتا۔
ان بیانات کے جواب میں مسعود پیزشکیان نے ایکس پر واضح کیا کہ ایران میں کسی قسم کی اندرونی تقسیم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم سب ایرانی ہیں، انقلابی ہیں، اور قوم اور حکومت کے آہنی اتحاد کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ایران ایک مضبوط نظریاتی وحدت کے تحت کام کر رہا ہے۔ ایک خدا، ایک قوم، ایک رہنما اور ایک راستہ — یہی ہمارے ایران کی کامیابی کا راستہ ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایرانی سفارت خانے کا طنزیہ حملہ: ٹرمپ انتظامیہ ’’رجیم چینج‘‘ سے گزر رہی ہے
ماہرین کے مطابق، یہ بیانات دراصل جاری کشیدگی کے دوران دونوں ممالک کی جانب سے بیانیہ جنگ کا حصہ ہیں، جہاں ایک طرف امریکہ دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ایران داخلی استحکام اور اتحاد کا تاثر دینے پر زور دے رہا ہے۔ حالیہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ یہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ کسی بھی قسم کی کشیدگی یا ناکہ بندی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ فی الحال دونوں فریق سخت بیانات دے رہے ہیں، جبکہ سفارتی سطح پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔