• Fri, 11 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شہزادی ڈائنا کا مشہور ’ریونج ڈریس‘ نیلامی کیلئے پیش، اس سے قبل ورلڈ ٹور

Updated: September 11, 2026, 10:05 PM IST | New York

شہزادی ڈائنا کا مشہور سیاہ لباس، جسے ’ریونج ڈریس‘ کے نام سے دنیا بھر میں شہرت ملی، ایک بار پھر خبروں میں ہے اور نیلامی کیلئے پیش کیا جا رہا ہے۔ نیویارک میں نیلامی سے قبل اسے لندن، ہانگ کانگ اور جنیوا میں ڈسپلے کیا جائے گا۔ ۱۹۹۴ء میں پہنا گیا یہ تاریخی لباس فیشن کے ساتھڈائنا کے اعتماد، خودمختاری اور اپنے جذبات کے منفرد اظہار کی علامت بھی بن چکا ہے۔

Lady Diana in the famous `Revenge Dress`, while the second photo shows the dress being auctioned off. Photo: X
لیڈی ڈائنا مشہور ’ریوینج ڈریس میں جبکہ دوسری تصویر میں وہ لباس نیلامی کیلئے رکھا گیا ہے۔ تصویر: ایکس

شہزادی ڈائناکا وہ مشہور سیاہ لباس، جس نے اپنی دلکش اور جرات مندانہ انداز کی وجہ سے پوری دنیا کی توجہ حاصل کی تھی، اب نیلامی کیلئے پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ لباس یونانی ڈیزائنر کرسٹینا اسٹامبولیان نے تیار کیا تھا۔ شہزادی ڈائنا نے اسے لندن کی سرپینٹائن گیلری میں منعقد ہونے والی ایک فلاحی تقریب میں پہنا تھا جس کے بعد یہ لباس فیشن کی دنیا میں ایک نمایاں علامت بن گیا۔ ۱۹۹۴ءمیں جب ڈائنا کی اس سیاہ سلک گاؤن میں تصاویر سامنے آئیں تو وہ دنیا بھر میں خبروں کی زینت بن گئیں۔ اس لباس کو ’’ریونج ڈریس‘‘ یعنی ’’انتقام کا لباس‘‘ کہا جانے لگاکیونکہ ڈائنا نے یہ لباس اسی شام پہنا تھا جب شہزادہ چارلس نے ایک ٹیلی ویژن دستاویزی پروگرام’’Charles: The Private Man, The Public Role ‘‘ میں کمیلا پارکر باؤلز کے ساتھ اپنے تعلقات کا عوامی طور پر اعتراف کیا تھا۔ 
۱۹۹۷ءمیں ۳۶؍ سال کی عمر میں انتقال کر جانے والی شہزادی ڈائنا نے اس لباس کے ذریعے شاہی لباس کے روایتی تصورات کو بھی توڑ دیا تھا۔ سیاہ رنگ، ڈیپ نیک(Deep neck)کی ڈیزائن اور گھٹنوں سے اوپر تک کی لمبائی نے اسے اس دور کے شاہی ملبوسات سے بالکل مختلف بنا دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: دمن : کلیکٹر نے تھار اور فارچیونر کاروں کے مالکان کو سٹرک سلامتی کا عہد دلایا

ڈیزائنر کرسٹینا اسٹامبولیان نے ماضی میں بتایا تھا کہ ڈائنا کافی عرصے سے یہ لباس پہننا چاہتی تھیں لیکن وہ اسے اس لئے پہننے سے گریز کرتی رہی تھیں کیونکہ انہیں یہ لباس کچھ زیادہ ہی بے باک محسوس ہوتا تھا۔ اسٹامبولیان نے کہا تھا کہ شہزادی نے معصوم سفید لباس میں نظر آنے کے بجائے سیاہ لباس کا انتخاب کیا۔ ان کے مطابق، ڈائنا واضح طور پر غصے میں تھیں اور انہوں نے سیاہ لباس کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے سرخ رنگ کی نیل پالش بھی لگائی، جو اس سے پہلے ان کے انداز میں بہت کم دیکھی گئی تھی۔ ووگ کی آنجہانی ایڈیٹر اور کئی برس تک ڈائنا کی اسٹائلسٹ رہنے والی اینا ہاروی نے بھی کہا تھا کہ ڈائنا اس موقع پر ’’بہت شاندار‘‘ دکھائی دینا چاہتی تھیں اور وہ واقعی ایسی ہی نظر آئیں۔

یہ بھی پڑھئے: ۱۱؍ ستمبر حملوں کے متاثرین کی یاد میں نیویارک ہاربر میں ڈرونز کا شاندار مظاہرہ

اب توقع ہے کہ یہ مشہور لباس نیلامی میں تقریباً۲؍ لاکھ ۲۰؍ ہزار پاؤنڈ(تقریباً ۲؍ کروڑ ۵۸؍ لاکھ) میں فروخت ہوگا۔ نیلامی سے قبل اسے اگلے ماہ لندن میں عوام کیلئے بھی نمائش پر رکھا جائے گا۔ یہ لباس دسمبر میں نیویارک میں ہونے والی سوتھبیز کی ’’لگژری ویک‘‘ نیلامی کا حصہ ہوگا۔ اس کی قیمت ایک لاکھ ۵۰؍ ہزارسے سے ۳؍ لاکھ امریکی ڈالرتک لگائی گئی ہے۔ یہ لباس جون۱۹۹۷ء کے بعد پہلی مرتبہ دوبارہ فروخت کیلئےپیش کیا جا رہا ہے۔ اس وقت شہزادی ڈائنا نے اپنے۷۹؍ملبوسات نیلام کئے تھے اور حاصل ہونے والی رقم کینسر اور ایڈز سے متعلق فلاحی کاموں کیلئے عطیہ کی گئی تھی۔ اس بار بھی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم کا ایک حصہ این ایچ ایس لوتھین چیریٹی کو دیا جائے گا، جو رائل ایڈنبرا اسپتال کیلئے اضافی نگہداشت، طبی آلات اور مختلف منصوبوں کی مالی معاونت کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یورپی یونین میں پناہ کی درخواستیں ۲۰۲۱ء کے بعد کم ترین سطح پر

یہ لباس اس کے اصل نیلامی کیٹلاگ کی ایک نقل کے ساتھ فروخت کیا جائے گا، جس پر ڈائنا اور یونانی ڈیزائنر کرسٹینا اسٹامبولیان کے دستخط اور نمبر درج ہیں۔ کیٹلاگ میں اس فلاحی تقریب کے انعقاد کا خیال شہزادہ آف ویلز سے منسوب کیا گیا ہے۔ ’’ریونج ڈریس‘‘۹؍ دسمبر کو ہونے والی براہِ راست نیلامی سے قبل دنیا کے مختلف شہروں میں نمائش کیلئےپیش کیا جائے گا۔ اس کا عالمی نمائشی سفر سوتھبیز کی ہانگ کانگ، جنیوا اور نیویارک کی شاخوں تک جاری رہے گا۔ لندن کے عوام بھی اس لباس کو دیکھ سکیں گے۔ سوتھبیز کے لندن کے نیلام گھر میں اسے۱۸؍ سے۲۴؍ ستمبر تک نمائش کیلئے رکھا جائے گا۔ 
ڈائنا نے اصل میں یہ لباس شاہی بروچ سے تیار کردہ ایک چوکر، سیاہ کلچ اور سیاہ پمپس کے ساتھ پہنا تھا۔ یہ خوبصورت انداز بعد کی کئی دہائیوں تک فیشن اور مقبول ثقافت پر اثرانداز ہوتا رہا۔ اس لباس کی موجودہ مالک، جنہوں نے اسے اس کی پہلی نیلامی کے دوران خریدا تھا، نے کہا:’’میرے مرحوم شوہر اور میں جانتے تھے کہ یہ لباس کچھ خاص ہے۔ شہزادی ڈائنا اپنی زندگی کی شاید بدترین رات کی طرف بڑھ رہی تھیں، لیکن ان کے چہرے اور انداز کو دیکھ کر ایسا بالکل محسوس نہیں ہوتا تھا۔ تصویر کھینچے جانے کے چند لمحوں میں یہ لباس ایک عام کاک ٹیل ڈریس سے ایک طاقتور بیان بن گیا۔ آج۳۰؍ برس بعد بھی دنیا کے کسی بھی حصے میں اس لباس کا نام لیا جائے تو ہر شخص سمجھ جاتا ہے کہ کس لباس کی بات ہو رہی ہے۔ ‘‘سوتھبیز کی عالمی سربراہ برائے ہینڈ بیگز اور فیشن، مورگن حلیمی نے کہا: ’’جب الفاظ ناکافی ثابت ہوں یا انسان کچھ کہنے سے قاصر ہو تو فیشن ایک زبان بن سکتا ہے۔ شہزادی ڈائنا اس بات کو فطری طور پر سمجھتی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش میں خسرہ کی شدید وبا، ایک ہزار سے زائد افراد کی موت

اس لباس کی غیر معمولیت صرف یہ نہیں کہ اسے ایک شہزادی نے پہنا تھا یا یہ کہ سرپینٹائن گیلری کی تقریب میں اس کی تصاویر نے پوری دنیا میں سرخیاں بنائیں۔ اصل اہمیت اس پیغام کی ہے جو اس لباس نے دیا۔ ‘‘حلیمی نے شہزادی ڈائنا کو ان کی زندگی کے انتہائی ’’زیرِ نظر اور جذباتی دور‘‘ میں اس لباس کو ایک ’’طاقتور پیغام‘‘ میں تبدیل کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ سوشل میڈیا کے عام ہونے سے بہت پہلے ایک عالمی وائرل لمحہ بن گیا تھا۔ اس نے ہر شخص، خصوصاً خواتین کو یہ حوصلہ دیا کہ فیشن کو صرف زیب و زینت کیلئے نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے اور بامعنی اظہار کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے؛ فیشن ڈھال بھی بن سکتا ہے اور ہتھیار بھی۔ انہوں نے کہا: ’’دہائیوں گزرنے کے باوجود جو چیز لوگوں کو یاد ہے، وہ اس رات کا اسکینڈل نہیں بلکہ شہزادی ڈائنا کا اعتماد اور اپنے آپ پر اختیار ہے۔ وہ ایک ایسے لمحے میں داخل ہوئی تھیں جب ان کی زندگی کی کہانی دوسروں کی زبان سے بیان کی جا رہی تھی، لیکن انہوں نے اپنے لباس کے انتخاب کے ذریعے اپنی کہانی کا اختیار دوبارہ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK