Updated: March 31, 2026, 9:04 PM IST
| Tehran
امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں نے ایران کے مختلف شہروں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ جنگ اب عراق تک بھی پھیل گئی ہے۔ تہران، اصفہان اور زنجان میں دھماکوں کی اطلاعات ہیں، جبکہ ایران نواز گروہوں نے عراق میں بھی حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جس سے جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے۔
اسرائیلی حملوں میں تباہ لبنان کا ایمبولینس کمپائونڈ۔ تصویر: ایکس
(۱) تہران، اصفہان اور زنجان میں دھماکے، حملے تیز
امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے دوران ایران کے دارالحکومت تہران سمیت اصفہان اور زنجان میں شدید دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق مختلف شہروں میں فضائی دفاعی نظام فعال کیا گیا اور شہری علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ’’کئی مقامات پر زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔‘‘ یہ حملے جاری فوجی آپریشن کا حصہ ہیں، جو فروری کے آخر سے مسلسل جاری ہے اور ایران کے مختلف حصوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جنگ اب ایران کے بڑے شہری مراکز تک پہنچ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے امریکی واسرائیلی یونیورسٹیوں کو جائزہدف قراردیا
(۲) امریکی و اسرائیلی حملوں میں فوجی اور اسٹریٹجک تنصیبات نشانہ
رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے اندر فوجی، انٹیلی جنس اور اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان حملوں میں کمانڈ سینٹرز، میزائل لانچ سائٹس اور حساس تنصیبات شامل ہیں۔حکام نے کہا کہ ’’یہ کارروائیاں ایران کی دفاعی صلاحیت کو کمزور کرنے کیلئے ہیں۔‘‘ یہ حملے اس وسیع مہم کا حصہ ہیں جس میں ایران کے جوہری اور فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ جنگ کا ہدف صرف عسکری نہیں بلکہ اسٹریٹیجک بھی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: امریکہ نے میناب کی طرح لامرد میں بھی اسکولی بچوں پر حملہ کیا، نئے میزائل کا استعمال کیا
(۳) عراق تک پھیلتی جنگ، پاپولر موبلائزیشن فورسیز کے ٹھکانوں پر حملے
عراق میں ایران کی حمایت یافتہ پاپولر موبلائزیشن فورسیز (PMF) نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ٹھکانوں کو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’ہمارے مقامات کو براہ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔‘‘ رپورٹس کے مطابق یہ حملے جنگ کے دائرہ کار کو ایران سے باہر لے جا رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ جنگ اب علاقائی سطح پر پھیل رہی ہے اور مختلف ممالک اس کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔