Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ: امریکہ نے میناب کی طرح لامرد میں بھی اسکولی بچوں پر حملہ کیا، نئے میزائل کا استعمال کیا

Updated: March 31, 2026, 4:06 PM IST | New York

رپورٹ میں ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ لامرد میں امریکی حملے میں معصوم بچوں سمیت کم از کم ۲۱ افراد ہلاک ہوئے۔ مہلوکین میں ۱۰ اور ۱۱ سال کی دو طالبات اور ان کی والی بال کوچ بھی شامل تھیں۔ جس اسپورٹس ہال کو نشانہ بنایا گیا، وہ اس وقت لڑکیوں کی والی بال ٹیم کے زیرِ استعمال تھا۔

The sports hall targeted in the U.S. attack, and (inset) the missile used in the strike. Photo: X
امریکی حملہ کا نشانہ بننے والا اسپورٹس ہال اور (انسیٹ میں) اس محلہ میں استعمال کیا گیا میزائل۔ تصویر: ایکس

موقر روزنامہ دی نیویارک ٹائمز نے ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں الزام لگایا کہ امریکہ نے ۲۸ فروری کو جنوبی ایران کے شہر لامرد میں ایک اسپورٹس ہال اور اس سے ملحقہ ایلیمنٹری اسکول پر حملہ کیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس حملے میں استعمال کیا گیا میزائل غیر آزمودہ تھا اور اس سے قبل اس میزائل کی جنگی میدان میں آزمائش نہیں کی گئی تھی۔ 

واضح رہے کہ امریکہ نے اسی دن ایرانی شہر میناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر حملہ کیا تھا جس میں ۱۷۵ سے زائد افراد شہید ہوئے تھے۔ مہلوکین میں اکثریت معصوم طالبات کی تھی۔ اس حملے میں ٹوما ہاک (Tomahawk) میزائل استعمال کیا گیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: یو این سربراہ نے لبنان میں اسرائیلی حملے میں امن فوجی کےقتل کی مذمت کی، جنوبی لبنان میں ۳ صحافی ہلاک

رپورٹ میں ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ لامرد حملے میں معصوم بچوں سمیت کم از کم ۲۱ افراد ہلاک ہوئے۔ متاثرین میں ۱۰ اور ۱۱ سال کی دو طالبات اور ان کی والی بال کوچ بھی شامل تھیں۔ جس اسپورٹس ہال کو نشانہ بنایا گیا، وہ اس وقت لڑکیوں کی والی بال ٹیم کے زیرِ استعمال تھا۔ رپورٹ میں اس نکتہ پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ یہ دونوں مقامات ایرانی فوج یا سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی سے وابستہ تنصیبات کے قریب واقع تھے، جس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ اصل اہداف فوجی مقامات رہے ہوں گے۔

حملہ میں ’پریسیژن اسٹرائیک میزائل‘ کا استعمال

جنگی ماہرین اور تصدیق شدہ بصری شواہد کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لامرد حملہ میں ’پریسیژن اسٹرائیک میزائل‘ کے نشانات ملے ہیں۔ یہ مختصر فاصلے کا بیلسٹک میزائل ہے جسے امریکی فوج نے اسلحہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ مبینہ طور پر اس ہتھیار کے پروٹو ٹائپ کی جانچ ۲۰۲۵ء میں مکمل ہوئی تھی اور اس سے قبل اسے باقاعدہ جنگ میں استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ امریکہ، ایران کو اپنے نئے میزائلوں کی جانچ کے میدان کی طرح استعمال کر رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: جوہری خطرہ بڑھ گیا، یو این میں ہلچل، ایران کا امریکہ پر زمینی حملے کا الزام

نیویارک ٹائمز کی تحقیقات کے مطابق، اس حملے کی ویڈیوز میں ایک مخصوص ساخت کا میزائل دیکھا گیا، جس کے بعد فضا میں ہونے والا دھماکہ میں ’پریسیژن اسٹرائیک میزائل‘ کے ڈیزائن سے مشابہت رکھتا ہے۔ یہ میزائل اپنے ہدف کے اوپر پھٹنے کیلئے بنایا گیا ہے، جس سے ایک وسیع علاقے میں ٹنگسٹن کے چھرّے بکھر جاتے ہیں۔ جائے وقوعہ کی فوٹیج اور تصاویر میں عمارتوں پر چھوٹے نشانات دیکھے گئے، جو نقصان کے متوقع پیٹرن سے میل کھاتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان میں سے ایک حملہ اسکول اور اسپورٹس ہال سے تقریباً ۹۰۰ فٹ دور رہائشی علاقے میں ہوا۔ واقعات کے تسلسل اور استعمال شدہ ہتھیار کی نوعیت کی تصدیق کیلئے متعدد ویڈیوز اور سیکوریٹی کیمروں کی فوٹیج کا تجزیہ کیا گیا۔ ایک گمنام امریکی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ لامرد حملے میں ’پریسیژن اسٹرائیک میزائل‘ استعمال کیا گیا تھا۔ تاہم، امریکی محکمہ دفاع نے باضابطہ طور پر اس واقعے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK