Updated: April 23, 2026, 9:08 PM IST
| Mumbai
فوڈ برانڈ Prego نے ’’Connection Keeper‘‘ نامی ایک منفرد ڈیوائس متعارف کروائی ہے جو کھانے کے دوران ہونے والی گفتگو کو ریکارڈ کرتی ہے۔ StoryCorps کے ساتھ شراکت میں تیار اس آلے کا مقصد خاندانی روابط کو مضبوط کرنا بتایا جا رہا ہے، تاہم ڈیٹا پرائیویسی اور نگرانی کے خدشات کے باعث سوشل میڈیا پر شدید تنقید سامنے آئی ہے۔
ٹیکنالوجی اور روزمرہ زندگی کے بڑھتے ہوئے امتزاج کے درمیان، Prego نے ایک غیر روایتی قدم اٹھاتے ہوئے ’’Connection Keeper‘‘ کے نام سے ایک ایسا آلہ متعارف کروایا ہے جو کھانے کی میز پر ہونے والی گفتگو کو محفوظ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ چھوٹا سا ریکارڈر میز کے وسط میں رکھا جاتا ہے اور ایک سادہ بٹن کے ذریعے کام کرتا ہے، دبانے پر ریکارڈنگ شروع اور دوبارہ دبانے پر بند ہو جاتی ہے۔ کمپنی کے مطابق، اس میں نہ کوئی اسکرین ہے، نہ انٹرنیٹ کنکشن اور نہ ہی کوئی موبائل ایپ، جبکہ تمام ریکارڈنگز مقامی طور پر محفوظ ہوتی ہیں اور صارف خود انہیں منتقل کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کھادکی سپلائی متاثر، ہندوستان کو غذائی اجناس کی گرانی کا سامنا
اس پروجیکٹ کو StoryCorps کے ساتھ مل کر تیار کیا گیا ہے، جو زبانی تاریخ کو محفوظ کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد لوگوں کو اسمارٹ فونز سے دور رکھ کر حقیقی گفتگو کی طرف راغب کرنا ہے۔ ڈیوائس کے ساتھ ’’پرامپٹ کارڈز‘‘ بھی فراہم کیے گئے ہیں تاکہ خاندانوں کو بامعنی بات چیت شروع کرنے میں مدد مل سکے۔ کمپنی کے مطابق، صارفین اپنی ریکارڈنگز کو نجی رکھ سکتے ہیں یا انہیں اسٹوری کارپس پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کر کے ایک وسیع تاریخی ذخیرے کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ تاہم، اس تصور نے آن لائن دنیا میں شدید بحث کو جنم دیا ہے۔ متعدد صارفین نے اسے ایک مثبت اقدام کے بجائے ’’نگرانی کے نئے طریقے‘‘ کے طور پر دیکھا ہے۔
ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا، ’’چیزیں اتنی عجیب ہو گئی ہیں کہ میں ۲۰؍ سال پیچھے جا کر فلپ فون اور لینڈ لائن استعمال کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ دوسرے صارفین نے کمپنیوں کے ڈیٹا جمع کرنے کے رجحان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جدید مصنوعات اب صارف کی سہولت کے بجائے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔ ایک تبصرے میں لکھا گیا، ’’میرا سوال یہ ہے کہ وہ اس ڈیٹا کے ساتھ کیا کریں گے؟‘‘ کچھ لوگوں نے کارپوریٹ مصنوعات کے بائیکاٹ کی بات کی، جبکہ مقامی کاروباروں کی حمایت کی اپیل کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: ملک میں کھاد کی پیداوار ۲۵؍ فیصد گھٹ گئی
ماہرین کے مطابق، اگرچہ ڈیوائس کا مقصد بظاہر خاندانی تعلقات کو مضبوط بنانا ہے، لیکن اس طرح کی ٹیکنالوجی ڈجیٹل پرائیویسی، رضامندی اور ڈیٹا کے استعمال جیسے حساس مسائل کو بھی جنم دیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کمپنی نے اس پروڈکٹ کو بڑے پیمانے پر تجارتی لانچ کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ اسے ایک ’’سماجی تجربہ‘‘ قرار دیا ہے، جو جدید دور میں اسکرینز اور ڈجیٹل مصروفیات کے انسانی تعلقات پر اثرات کو اجاگر کرتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں، ’’Connection Keeper‘‘ ایک ایسے مباحثے کا مرکز بن چکا ہے جہاں ٹیکنالوجی، پرائیویسی اور انسانی روابط کے درمیان توازن پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔