Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کا یو ٹرن: ایرانی کارروائی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی ماننے سے انکار کر دیا

Updated: April 23, 2026, 10:06 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے دو کارگو جہازوں پر قبضے کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ وہائٹ ہاؤس کے مطابق یہ جہاز نہ امریکی تھے نہ اسرائیلی، اس لیے معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

The ship seized by the Revolutionary Guards. Photo: X
پاسداران انقلاب کے ذریعے ضبط کیا گیا جہاز۔ تصویر: ایکس

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، امریکی انتظامیہ نے ایک اہم موقف اختیار کرتے ہوئے ایران کی حالیہ بحری کارروائی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دینے سے انکار کر دیا ہے۔ وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں دو کارگو جہازوں کو قبضے میں لینے کے واقعے کو ’’تناسب سے باہر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔‘‘  خیال رہے کہ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ اس کی بحریہ نے دو بین الاقوامی کنٹینر جہازوں کو روک کر ایرانی ساحل کی جانب منتقل کیا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق ان میں سے ایک جہاز ’’Epaminondas‘‘ لائبیریا کے جھنڈے کے تحت چل رہا تھا اور ہندوستان کی موندرا بندرگاہ کی طرف جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ فلوٹیلا کا اعلان: راستے میں ملنے والے ہتھیار بردار اسرائیلی جہاز روکے گا

وہائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ چونکہ یہ جہاز نہ تو امریکی تھے اور نہ ہی اسرائیلی، اس لیے اس اقدام کو براہِ راست جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم، ناقدین اس موقف کو کمزور قرار دے رہے ہیں اور اسے امریکی پالیسی میں تضاد کی مثال بتا رہے ہیں، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ ٹرمپ پہلے ایران کو بحری کارروائیوں پر سخت نتائج کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ دوسری جانب، امریکی فوجی حکام کے مطابق یو ایس سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف جاری بحری ناکہ بندی کے تحت کم از کم ۲۹؍ جہازوں کو راستہ بدلنے یا واپس جانے پر مجبور کیا ہے۔ امریکی حکام اس ناکہ بندی کو ایران پر ’’زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ‘‘ ڈالنے کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔
ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوئی مقررہ ٹائم لائن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناکہ بندی ایران کے لیے بمباری سے بھی زیادہ تکلیف دہ ثابت ہو رہی ہے، اور یہی دباؤ اسے مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ یہ پیش رفت ایک نازک سفارتی مرحلے پر سامنے آئی ہے، جب حال ہی میں پاکستان کی ثالثی کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں عارضی توسیع کی گئی تھی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی حکومت کمزور ہو چکی ہے اور مزید فوجی کارروائی کو فی الحال روکا گیا ہے تاکہ مذاکرات کا موقع دیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی اسرائیلی حملوں میں بجلی کے ۲؍ ہزار سے زائد ڈھانچے تباہ ہوئے: ایران

ماہرین کے مطابق، اگرچہ اس واقعے کو باضابطہ طور پر جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کہا گیا، لیکن آبنائے ہرمز جیسے اہم عالمی تجارتی راستے میں اس نوعیت کی کارروائیاں عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی چین کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK