Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران امریکہ کےپھر ایک دوسرے پر حملے،حالات دھماکہ خیز

Updated: June 04, 2026, 9:40 AM IST | Agency | New York

جنگ بندی مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کا اندیشہ۔ ایران نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اورکہا کہ ایرانی مفادات پر حملے کا جواب شدید انداز میں دیا جائیگا۔

Prime Minister Ahmed Abdullah And Others Inspect The Kuwaiti Airport Damaged In The Iranian Attack.Photo:INN
ایران کے حملے میں تباہ کویتی ایئرپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعظم احمد عبداللہ اور دیگر-تصویر:آئی این این
ایران امریکہ کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے ۔ایک دوسرے کے اہداف پر حملوں کے سبب خلیج فارس میں کسی بھی وقت جنگ کا دائرہ وسیع  ہوسکتا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر فوجی تصادم شروع ہو گیا ہے۔
کہاں کس نے حملہ کیا؟
ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جزیرہ قشم پر امریکی حملے کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ ایران کے مطابق میزائلوں اور ڈرونز نے امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ ہیڈ کوارٹر، ملٹری ایئر بیس اور ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا۔ ادھر امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے کویت اور بحرین پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اطلاع دی ہے کہ کویت پر فائر کیے گئے دو ایرانی میزائل درمیانی فضا میں گر کر تباہ ہوگئے، جب کہ بحرین کو نشانہ بنانے والے تین میزائلوں کو امریکی اور بحرین کی دفاعی فورسیز نے ناکارہ بنا دیا۔ مزید برآں، کویت میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے کئی ڈرون کو بغیر کسی نقصان کے بے اثر کر دیا گیا۔ 
پاسداران انقلاب کاامریکہ کو انتباہ
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خلیج میں رات گئے ہونے والی کارروائیوں کی مزید تفصیلات جاری کرتے ہوئے امریکہ کو سخت پیغام دیا ہے کہ ایرانی مفادات پر کسی بھی حملے کا جواب پہلے سے زیادہ شدید انداز میں دیا جائے گا۔ پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی کہا ہے کہ حالیہ جوابی کارروائیاں امریکا کے لیے سبق ہونی چاہئیں اور خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے امن و استحکام کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
اس سے قبل امریکی افواج نے ایران کے جزیرہ قشم پر فوجی اڈوں اور زمینی کنٹرول اسٹیشن پر بھی فضائی حملے کیے تھے۔ سینٹ کام نے یہ بھی اطلاع دی کہ اس نے تین ایک طرفہ حملہ کرنے والے ڈرون" کو مار گرایا جو ایران کی طرف سے قانونی طور پر علاقائی پانیوں کی منتقلی کرنے والے شہری ملاحوں کی طرف شروع کیے گئے تھے۔ فائرنگ کے اس شدید تبادلے نے ایران امریکہ جنگ بندی معاہدے میں بحران کو مزید شدت پیدا کر دی ہے۔سینٹ کام کے مطابق  تازہ ترین تنازع منگل کو اس وقت شروع ہوا جب امریکی افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کرنے والے ایک خالی ٹینکر کو روکا۔ بوٹسوانا کے جھنڈے والے ٹینکر، جس کا نام ایم/ٹی لیکسی ہے، کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب اس کے عملے نے۲۴؍ گھنٹے کی مدت میں بار بار کی وارننگ کو نظر انداز کیا۔ یہ ٹینکر کویت کے قریب آبنائے کے شمال میں واقع ایران کے جزیرہ خرج کی طرف جا رہا تھا۔
 
 
امریکہ نے ایران پر مالیاتی پابندیاں عائد کیں
دوسری جانب ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی کوششیں جاری ہیں امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹر کے مطابق امریکی محکمۂ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں اور یہ پابندیاں چار ایرانی شہروں اور کرپٹو ایکسچینج پر لگائی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پابندیاں عائد کرتے ہوئے امریکی محکمۂ خزانہ نے جواز پیش کیا ہے کہ نوبی ٹیکس ایران کے مرکزی بینک اور پاسداران انقلاب کے لیے کروڑوں ڈالر کے مالی لین دین کا ذریعہ بن چکا تھا اور انٹرنیٹ بندش کے دوران بھی لاکھوں ڈالر کے لین دین جاری رکھے ہوئے تھا۔
 
 
معاہدہ کیوں تعطل کا شکار ہوسکتا ہے؟
ایرانی اثاثوں کو منجمد کرنے اور ایران مخالف پابندیاں ہٹانے کا مسئلہ اب بھی مذاکرات میں تعطل کا سبب بنا ہوا ہے۔ اگرچہ معاہدے کے وسیع خاکہ پر اتفاق ہو چکا ہے لیکن ڈونالڈ ٹرمپ نئی ترامیم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں جسے ایران کی جانب سے ناقابل اعتبار تصور کیا جاسکتا ہے۔اس معاملے پر جارج ٹاؤن یونیورسٹی قطر میں گورنمنٹ کے پروفیسر مہران کامروا نے اسپوتنک کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانیوں اور امریکیوں کے پاس اس بات کے دو بالکل مختلف تصورات ہیں کہ معاہدہ کیسا ہونا چاہیے۔ ایرانی بہت سست رفتار معاہدہ چاہتے ہیں۔ وہ معاہدے کے لیے اپنا وقت لینا چاہتے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ کوئی تیز رفتار اور فوری معاہدہ چاہیں جبکہ امریکی ایک تیز رفتار اور فوری معاہدہ چاہتے ہیں۔ اسرائیل نے معاہدہ پر بارہا اپنے اعتراضات کا اظہار کیا ہے، ایک وائلڈ کارڈ بنا ہوا ہے جو امن معاہدے کو ناکام بنا سکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK