ایک رپورٹ کے مطابق بیرون ملک جنوبی کوریائی قیدیوں کی تعداد میں چار سالوں میں ۲۵؍ فیصد اضافہ ہوا ہے، چین میں قید جنوبی کوریائی شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ، جبکہ ویتنام میں سب سے تیز اضافہ درج کیا گیا۔
EPAPER
Updated: August 06, 2026, 10:02 PM IST | Seul
ایک رپورٹ کے مطابق بیرون ملک جنوبی کوریائی قیدیوں کی تعداد میں چار سالوں میں ۲۵؍ فیصد اضافہ ہوا ہے، چین میں قید جنوبی کوریائی شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ، جبکہ ویتنام میں سب سے تیز اضافہ درج کیا گیا۔
یونہاپ نیوز ایجنسی نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران بیرون ملک قید جنوبی کوریائی شہریوں کی تعداد میں۲۵؍ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔حکمران جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن اسمبلی کم جونہوان نے وزارت خارجہ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جون کے آخر تک۵۴؍ ممالک میں قید جنوبی کوریائی شہریوں کی تعداد۱۳۲۵؍ تک پہنچ گئی۔ یہ تعداد ۲۰۲۲ء میں درج کی گئی۱۰۵۵؍ کے مقابلے میں۲۵؍ اعشاریہ ۶؍ فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تھائی لینڈ: فٹبال میچ کے دوران آسمانی بجلی گری، نوجوان کھلاڑی ہلاک، متعدد زخمی
بعد ازاں چین میں قید جنوبی کوریائی شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ۴۲۴؍ ہے، اس کے بعد جاپان (۲۵۴؍)ویتنام (۲۰۴؍)، امریکہ (۱۳۸؍)، فلپائن (۶۱؍)، کمبوڈیا (۵۴؍) اور تھائی لینڈ (۴۳؍) ہیں۔ تاہم ویتنام میں سب سے تیز اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں یہ تعداد۲۰۲۲ء کے ۴۲؍ سے تقریباً پانچ گنا بڑھ کر۲۰۴؍ ہو گئی۔ان قیدیوں کے ذریعے کئے گئے جرائم میں دھوکہ دہی سب سے عام جرم تھا، جس کے ۳۳۲؍ معاملات تھے، اس کے بعد منشیات سے متعلق جرائم (۲۹۱؍)، قتل (۱۲۸؍)جوئے بازی (۹۱؍)، چوری (۶۹؍) اور جنسی زیادتی یا ہراسانی (۵۲؍) کےمعاملات تھے۔اس کے علاوہ مزید۳۴؍ جنوبی کوریائی شہری منظم جرائم سے منسلک اغوا کے الزامات پر قید ہیں، جن میں روزگار کے فراڈ (جعلسازی) بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دنیا کے ’خوبصورت ترین گاؤں‘ کو سیاحوں کے پارکنک چالان سے ۵۸؍ لاکھ روپے کی آمدنی
واضح رہے کہ کوریائی شہری، روزگارکی تلاش میں دیگر ممالک کا سفر کرتے ہیں، اس کے علاوہ بنادستاویز بھی کسی ملک میں بہتر مستقبل کی تلاش میں ترک وطن کرتے ہیں، جہاں بہتر روزگار کے مواقع نہ ملنے اور جانے انجانے میں وہ جرائم سے وابستہ ہوجاتے ہیں،اس کے علاوہ متعدد افراد جلد سب کچھ پا لینے کی خواہش کے سبب جرائم کا راستہ اپناتے ہیں، جو آخر کار انہیں جیل تک پہنچادیتا ہے۔