Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ: ۱۵؍ اہم واقعات، عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی پر اثرات

Updated: March 09, 2026, 5:01 PM IST | Tehran

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑے جغرافیائی و سیاسی بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔ فوجی کارروائیاں، عالمی سفارتی ردعمل، توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ اور اطلاعاتی پابندیاں اس جنگ کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کر رہی ہیں۔ ذیل میں اس بحران کے ۱۵؍ اہم واقعات پیش کئے جارہے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

(۱) پوپ لیو کا مشرق وسطیٰ میں تشدد کے خاتمے کا مطالبہ 
ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے آغاز پر ویٹیکن سے پوپ لیو نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تشدد پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں سے فوری جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات شروع کرنے کی اپیل کی۔ پوپ لیو نے خبردار کیا کہ اگر تنازع پھیلتا رہا تو لبنان اور دیگر ہمسایہ ممالک بھی عدم استحکام کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں مزید جنگ پورے عالمی نظام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ویٹیکن کے مطابق انسانی جانوں کا تحفظ اور امن کا قیام عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پوپ نے کہا کہ مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کو مل کر اس بحران کو کم کرنے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بیان اس وقت آیا جب خطے میں فوجی کارروائیوں اور جوابی حملوں کی خبریں مسلسل سامنے آ رہی تھیں۔

(۲) زیلنسکی خلیج میں ڈرون ماہرین بھیجیں گے کیونکہ یوکرین کی نظر امریکی فضائی دفاعی میزائلوں پر ہے 
یوکرین کے صدر وولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین خلیجی خطے میں ڈرون ٹیکنالوجی کے ماہرین بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یوکرین کو خدشہ ہے کہ ایران جنگ کے باعث امریکہ کے جدید فضائی دفاعی میزائل، خاص طور پر پیٹریاٹ سسٹم، مشرقِ وسطیٰ میں زیادہ استعمال ہو رہے ہیں۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو روسی حملوں سے دفاع کے لیے ان نظاموں کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی ذخائر کا بڑا حصہ خلیج میں استعمال ہوتا رہا تو یوکرین کے دفاعی منصوبوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اس بیان نے عالمی سطح پر دفاعی وسائل کی تقسیم کے حوالے سے بحث کو جنم دیا۔ ماہرین کے مطابق یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ میں بیک وقت جاری بحرانوں نے مغربی ممالک کے فوجی وسائل پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔

(۳) اسرائیل ایران کے ساتھ کم از کم ایک ماہ طویل جنگ کی تیاری کر رہا ہے: رپورٹ 
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکومت نے ایران کے ساتھ کم از کم ایک ماہ تک جاری رہنے والی فوجی مہم کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اسرائیلی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کو کمزور کرنے کے لیے طویل فضائی حملے ضروری ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے اضافی ریزرو فوجیوں کو طلب کیا اور فضائی دفاعی نظام کو مزید فعال بنا دیا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو یہ صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کو متاثر کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس منصوبہ بندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل ایک مختصر کارروائی کے بجائے طویل فوجی مہم کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

(۴) امریکہ نے سفارتخانے کے عملے کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیا 
جنگ کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر امریکہ نے سعودی عرب میں اپنے سفارتخانے کے غیر ضروری عملے اور ان کے اہل خانہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ اقدام احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا۔ حکام نے کہا کہ خطے میں سیکیورٹی صورتحال غیر یقینی ہے اور امریکی شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ اس فیصلے کے بعد کئی دیگر مغربی ممالک نے بھی اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سفارتی عملے کی واپسی اکثر اس بات کا اشارہ ہوتی ہے کہ کسی خطے میں سیکیورٹی خدشات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اس اقدام نے اس بات کو مزید واضح کر دیا کہ ایران جنگ کا اثر خلیجی ممالک تک بھی پہنچ رہا ہے۔

(۵) فوٹیج میں ظاہر؛ امریکی میزائل ایرانی پرائمری اسکول کے قریب گری 
جنگ کے دوران سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا کہ ایک امریکی میزائل ایرانی شہر میں ایک پرائمری اسکول کے قریب گرا۔ اس واقعے نے عالمی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا۔ ایرانی حکام نے الزام لگایا کہ حملے میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ امریکی حکام نے اس واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا اور کہا کہ حملے کا ہدف فوجی تنصیب تھی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا کہ شہری علاقوں میں فوجی کارروائیاں ہمیشہ بڑے خطرات کا باعث بنتی ہیں۔ اس واقعے کے بعد جنگ کے انسانی اثرات پر عالمی سطح پر بحث تیز ہو گئی۔


(۶) ایران کے خلاف جنگ جاری رہنے کے باعث تیل کی قیمتیں ۱۰۵؍ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں 
جنگ کے پھیلنے کے ساتھ ہی عالمی توانائی کی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ رپورٹس کے مطابق خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔ ماہرین کے مطابق خلیج ہرمز اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی منڈی میں اس اضافے نے کئی ممالک کی معیشتوں پر دباؤ بڑھا دیا۔ توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو تیل اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی معیشت اور مہنگائی کے خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے۔

(۷) ایران کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے قریب جنگی جہاز پر امریکی حملے میں ۱۰۴؍ افراد ہلاک ہو گئے 
ایران نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملے میں سری لنکا کے قریب ایک ایرانی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا گیا جس میں ۱۰۴؍ افراد ہلاک ہو گئے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ حملہ بین الاقوامی پانیوں میں کیا گیا۔ انہوں نے اسے ’’جارحیت‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس کا جواب دیا جائے گا۔ امریکی حکام نے اس دعوے کی فوری تصدیق نہیں کی۔ تاہم اس واقعے نے سمندری سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے۔ ماہرین کے مطابق اگر سمندری راستوں پر حملے بڑھتے ہیں تو عالمی تجارت اور شپنگ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

(۸) ایرانی ایندھن کے ڈپو پر اسرائیلی حملوں پر امریکہ کو تشویش: رپورٹ 
رپورٹس کے مطابق امریکہ نے ایران کے ایندھن کے ذخائر پر اسرائیلی حملوں پر تشویش ظاہر کی۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ایسے حملے عالمی توانائی کی منڈی کو مزید غیر مستحکم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ شہری علاقوں کے قریب انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن نے اسرائیل سے محتاط کارروائی کی اپیل کی۔ ماہرین کے مطابق توانائی کے ذخائر پر حملے جنگ کے معاشی اثرات کو مزید شدید بنا سکتے ہیں۔

(۹) متحدہ عرب امارات نے ایران کی آبی تنصیب پر حملے کی اسرائیلی میڈیا رپورٹس کی تردید کی 
اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کی ایک آبی تنصیب پر حملہ ہوا ہے۔ تاہم متحدہ عرب امارات نے ان رپورٹس کی سختی سے تردید کی۔ اماراتی حکام نے کہا کہ ایسی خبریں غلط ہیں اور خطے میں غیر ضروری خوف پیدا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی سلامتی کے معاملات میں ذمہ دارانہ رپورٹنگ ضروری ہے۔ اس بیان کے بعد کئی ذرائع نے اپنی رپورٹس کی تصدیق کی کوشش کی۔

(۱۰) ایران میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ دوسرے ہفتے میں داخل: مانیٹرنگ گروپ 
ایک بین الاقوامی مانیٹرنگ گروپ کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ دوسرے ہفتے میں داخل ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے جنگ کے دوران معلومات کے بہاؤ کو محدود کرنے کے لیے نیٹ ورک سروسز کم کر دیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے شہریوں کو معلومات تک رسائی محدود ہو جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق جنگ کے دوران معلوماتی کنٹرول جدید تنازعات کا اہم حصہ بن چکا ہے۔

(۱۱) ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کا فیصلہ اسرائیل کے ساتھ باہمی طور پر کیا جائے گا 
امریکہ کے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران جنگ کے خاتمے کا فیصلہ امریکہ اور اسرائیل مل کر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق کسی بھی امن معاہدے یا جنگ بندی کے لیے اسرائیل کی رضامندی ضروری ہوگی۔ ان کے اس بیان نے عالمی سیاست میں نئی بحث کو جنم دیا۔

(۱۲) ایران کا اگلا لیڈر امریکی منظوری کے بغیر زیادہ دیر نہیں رہے گا: ٹرمپ 
ٹرمپ نے ایک اور بیان میں کہا کہ ایران کی آئندہ قیادت کو امریکہ اور مغربی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق اگر ایران کی نئی قیادت عالمی برادری کے ساتھ تعاون نہیں کرتی تو وہ زیادہ دیر تک اقتدار میں نہیں رہ سکے گی۔ اس بیان پر ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔

(۱۳) ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ کو ڈبو دیا 
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایران کی بحری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ نے ایران کے بیشتر میزائل لانچنگ پلیٹ فارم تباہ کر دیے اور بحریہ کے کئی جہاز ڈبو دیے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

(۱۴) ایران نے خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ کو نیا سپریم لیڈر نامزد کیا: ایرانی میڈیا 
ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر نامزد کیا گیا۔ اس اعلان نے ایران کی داخلی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی۔ کچھ حلقوں نے اسے طاقت کی منتقلی کا غیر معمولی قدم قرار دیا۔

(۱۵) جب تک جنگ مستقل طور پر ختم نہیں ہوتی وہ جنگ جاری رکھے گا: ایرانی وزیر خارجہ 
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران جنگ بندی کے لیے تیار نہیں جب تک امریکہ اور اسرائیل اپنے حملوں کا جواز پیش نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا: ’’جب تک جنگ مستقل طور پر ختم نہیں ہوتی، ہمیں اپنے عوام اور اپنی سلامتی کے لیے لڑائی جاری رکھنی ہوگی۔ یہ ہمارا قانونی حقِ دفاع ہے۔‘‘ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل پر شہری علاقوں، ہسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا الزام بھی لگایا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK