Updated: April 06, 2026, 9:06 PM IST
| Washington
امریکہ اور ایران کے درمیان ۴۵؍ روزہ جنگ بندی کی تجویز کو وہائٹ ہاؤس نے متعدد آپشنز میں سے ایک قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے عارضی جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے جنگ کے مکمل خاتمے اور مضبوط ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے، مؤقف اپنایا کہ وقفہ دشمن کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دے گا۔ ادھر یورپی یونین نے واضح کیا کہ پائیدار امن صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے جبکہ شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔
(۱) وہائٹ ہاؤس: ۴۵؍ روزہ امریکہ ایران جنگ بندی تجویز محض ایک آپشن
وہائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ ۴۵؍ دن کی جنگ بندی اس وقت زیر غور متعدد تجاویز میں سے صرف ایک ہے۔ ایکسیوس کے رپورٹر بارک راویڈ نے ایکس پر بتایا کہ اہلکار نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ نے اس پر دستخط نہیں کئے ہیں، اور آپریشن ایپک فیوری جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ واشنگٹن میں دوپہر ایک بجے ہونے والی پریس کانفرنس میں مزید تفصیلات فراہم کریں گے۔ یہ وضاحت ان رپورٹس کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی جن میں ۴۵؍ روزہ جنگ بندی کی تجویز کا ذکر کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: بسوا شرما کی اہلیہ کے پاس ۳؍ ملکوں کے پاسپورٹ!
(۲) ایران کا مؤقف: جنگ بندی نہیں، مکمل جنگ کا خاتمہ درکار
ایران نے واضح طور پر عارضی جنگ بندی کی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے ’’مسلط کردہ جنگ کے مکمل خاتمے‘‘ کا مطالبہ کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ جنگ بندی صرف مخالف فریق کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’کوئی بھی عقلمند شخص ایسی جنگ بندی قبول نہیں کرے گا جو دشمن کو دوبارہ حملے کا موقع دے۔‘‘ ان کے مطابق ایران اس بات کی ضمانت چاہتا ہے کہ مستقبل میں ایسا تنازع دوبارہ جنم نہ لے۔ بقائی نے مزید کہا کہ بین الاقوامی اداروں پر مکمل بھروسہ ممکن نہیں، اور ایران کو اپنی قومی سلامتی خود یقینی بنانا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقی ضمانت وہی ہوگی جب مخالف کو اس حد تک نقصان پہنچے کہ وہ دوبارہ جارحیت کا سوچ بھی نہ سکے۔
یہ بھی پڑھئے: ڈنکن ڈونٹس کا ۲۰۲۶ء تک ہندوستان میں فرنچائز ختم کرنےکا فیصلہ، جانئے وجہ
(۳) یورپی یونین: کشیدگی امن کا حل نہیں، صرف مذاکرات ہی راستہ
یورپی یونین کے کونسل صدر انتونیو کوسٹا نے کہا کہ ایران میں بڑھتی کشیدگی سے نہ جنگ بندی ممکن ہے اور نہ ہی امن حاصل ہوگا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’صرف مذاکرات ہی دیرپا حل فراہم کر سکتے ہیں، خاص طور پر علاقائی شراکت داروں کی قیادت میں ہونے والی کوششیں۔‘‘ انہوں نے توانائی تنصیبات سمیت شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کو غیر قانونی قرار دیا۔ کوسٹا نے مسعود پیزشکیان کے ساتھ اپنی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں حملے بند کرے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مکمل آزادی بحال کرے۔ ان کے مطابق، جاری تنازع کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو ہو رہا ہے۔