Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسلسل شاندار کارکردگی، بہترین فٹنیس، پھر بھی سمیع کے ساتھ ناانصافی کیوں؟

Updated: April 06, 2026, 9:59 PM IST | New Delhi

سید مشتاق علی ۲۰۲۵ء ٹورنامنٹ میں کھیلے گئے ۷؍ میچوں میں۱۶؍ وکٹ۔ رنجی ٹرافی۲۶۔۲۰۲۵ء سیزن میں ۷؍میچوں میں ۷۲ء۱۶؍کی اوسط سے ۳۷؍ وکٹ۔ آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں اب تک ۲؍ میچوں میں ۳؍ وکٹ اور اکانومی صرف ۶۲ء۴؍۔ یہ اعداد و شمار تیز گیند باز محمد سمیع کے ہیں۔

Shami.Photo:X
محمد سمیع۔ تصویر:ایکس

سید مشتاق علی ۲۰۲۵ء ٹورنامنٹ میں کھیلے گئے ۷؍ میچوں میں۱۶؍ وکٹ۔ رنجی ٹرافی۲۶۔۲۰۲۵ء سیزن میں ۷؍میچوں میں ۷۲ء۱۶؍کی اوسط سے ۳۷؍ وکٹ۔ آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں اب تک ۲؍ میچوں میں ۳؍ وکٹ اور اکانومی صرف ۶۲ء۴؍۔ یہ اعداد و شمار تیز گیند باز محمد سمیع کے ہیں، جو پچھلے ایک سال سے ہندوستانی  ٹیم میں واپسی کی راہ دیکھ رہے ہیں۔
چاہے ریڈ بال کرکٹ کا فارمیٹ ہو یا ٹی۲۰، سمیع نے گزشتہ ایک سال میں ہر فارمیٹ اور ہر صورتحال میں اپنی صلاحیت کو مسلسل ثابت کیا ہے۔ اس کے باوجود ہندوستانی ٹیم کے سلیکٹرز انہیں مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں۔ پچھلے سال پہلے آسٹریلیا اور پھر انگلینڈ کے دورے کے لیے سمیع کو ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔ چیف سلیکٹر اجیت اگَرکر نے کہا تھا کہ سمیع مکمل طور پر فٹ نہیں ہیں اور فٹ ہوتے ہی ٹیم میں واپس آئیں گے۔
سب کو امید تھی کہ ایشیا کپ ۲۰۲۵ء کے لیے منتخب ہندوستانی ٹیم میں سمیع کو موقع ملے گا، لیکن انہیں پھر نظر انداز کر دیا گیا۔ 


ٹی۲۰؍ فارمیٹ کو چھوڑیں، سمیع کو ہوم گراؤنڈ پر آسٹریلیا کے خلاف کھیلی گئی ون ڈے سیریز میں بھی شامل نہیں کیا گیا۔ چیف سلیکٹر اجیت اگَرکر نے انہیں انٹرنیشنل میچز کے لیے مکمل طور پر فٹ نہیں مانا۔ اس کے فوراً بعد شمی نے رنجی ٹرافی میں بنگال کی جانب سے کھیلتے ہوئے زبردست کارکردگی دکھائی اور اپنی فٹنس اور فارم دونوں ثابت کیں۔ ۷؍ میچوں میں انہوں نے ۷۲ء۱۶؍ کی اوسط سے ۳۷؍ وکٹیں حاصل کیں۔

آئی پی ایل ۲۰۲۶ء: اورنج کیپ کی دوڑ میں سمیر رضوی سب سے آگے


اس کے باوجود سمیع سلیکٹرز کا اعتماد جیتنے میں ناکام رہے۔ ٹی۲۰؍ فارمیٹ میں ان پر تنقید کرنے والوں کو انہوں نے سید مشتاق علی ٹورنامنٹ میں اپنی کارکردگی سے جواب دیا، جہاں ۷؍ میچوں میں ۱۶؍ وکٹیں حاصل کیں۔ اس شاندار کارکردگی کے باوجود ۲۰۲۶ء کے آغاز میں نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے اور ٹی۲۰؍ سیریز کے لیے بھی انہیں ہندوستانی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔ یہاں تک کہ ہندوستان میں منعقدہ ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے لیے بھی انہیں ٹیم میں جگہ نہیں ملی، جبکہ ۲۰۲۳ء کے ون ڈے ورلڈ کپ میں وہ سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیند باز تھے۔

یہ بھی پڑھئے:آئی پی ایل ۲۰۲۶ء: اورنج کیپ کی دوڑ میں سمیر رضوی سب سے آگے


اس کے باوجود سمیع ہر ٹورنامنٹ اور ہر لیگ میں اپنی قابلیت مسلسل ثابت کر رہے ہیں۔ آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں بھی انہوں نے ابتدائی دو میچوں میں اپنی شاندار فٹنس اور فارم کا مظاہرہ کیا۔ لکھنؤ سپر جائنٹس کی جانب سے کھیلتے ہوئے دہلی کیپیٹلز کے خلاف انہوں نے ۴؍ اوورز میں صرف ۲۸؍ رنز دے کر کے ایل راہل کی اہم وکٹ حاصل کی۔ دوسرے میچ میں سن رائزرز حیدرآباد کے بلے باز ان کی تیز گیندوں کے سامنے بے بس نظر آئے۔ ۴؍ اوورز میں انہوں نے صرف ۹؍ رنز دیے اور ۲؍ وکٹیں حاصل کیں، ان کی اکانومی صرف ۲۰ء۲؍ رہی، جو شاید آج کل ٹیسٹ کرکٹ میں بھی کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اگر سمیع اسی فارم کو پورے ٹورنامنٹ میں برقرار رکھتے ہیں، تو اس بار انہیں نظر انداز کرنا بہت مشکل ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK