Updated: April 01, 2026, 10:14 PM IST
| Tehran
ایران نے جنگ کے جواب میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیل کے اندر میزائل حملے اور خلیجی ممالک میں انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اسی دوران ایران نے سفارتی سطح پر بھی دباؤ بڑھاتے ہوئے امریکہ سے خطے سے فوجی انخلا کا مطالبہ تیز کر دیا ہے۔
ایرانی میزائل سے بحرین میں تباہی کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس
(۱) ایران کا جوابی وار، اسرائیل میں میزائل حملے، متعدد زخمی
ایران نے اسرائیل پر میزائل حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی، جس کے نتیجے میں مرکزی اسرائیل میں کم از کم ۱۴؍ افراد زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی ایمرجنسی سروس کے مطابق میزائل حملوں کے بعد مختلف شہروں میں سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت دی گئی۔ حکام نے کہا کہ ’’حملوں کے بعد متعدد افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی۔‘‘ یہ حملے ایران کی جانب سے جاری جوابی کارروائیوں کا حصہ ہیں، جو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں کیے جا رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ جنگ اب براہ راست اسرائیل کے اندرونی علاقوں تک پہنچ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ خطرناک موڑ پر، عالمی لیڈر متحرک، خلیجی مؤقف میں سختی
(۲) خلیجی خطے میں آگ، کویت اور بحرین میں ایرانی حملوں سے نقصان
کویت اور بحرین میں ایرانی حملوں کے بعد مختلف مقامات پر آگ لگنے اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق حملوں کے نتیجے میں توانائی اور صنعتی تنصیبات متاثر ہوئیں، جس سے مقامی سطح پر سروسز متاثر ہو سکتی ہیں۔ حکام نے کہا کہ ’’ہم صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے ہنگامی اقدامات کر رہے ہیں۔‘‘ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ جنگ اب خلیجی ممالک تک پھیل چکی ہے، جو عالمی توانائی سپلائی کیلئے اہم ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ-اسرائیل جنگ: عرب معیشتوں کو ۱۹۴؍ارب ڈالر تک نقصان کا خدشہ: یو این رپورٹ
(۳) ایران کا سفارتی دباؤ، امریکی افواج کے انخلا کا مطالبہ تیز
ایران نے امریکہ پر دباؤ بڑھاتے ہوئے خطے سے امریکی افواج کے فوری انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’’یہ وقت ہے کہ امریکہ اپنی فوجی موجودگی ختم کرے، یہ بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں غیر ملکی افواج کی موجودگی کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہے۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ ایران جنگ کو صرف فوجی نہیں بلکہ سفارتی دباؤ کے ذریعے بھی آگے بڑھا رہا ہے۔