آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی ختم ہونے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے جبکہ آج برینٹ خام تیل کی قیمت ۱۱۸؍ ڈالر تک پہنچنے کے باعث دنیا بھر میں ایندھن، گیس اور توانائی کے دیگر وسائل کی شدید قلت کے خدشات نے سر اٹھا لیا ہے۔
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 7:03 PM IST | Tehran
آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی ختم ہونے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے جبکہ آج برینٹ خام تیل کی قیمت ۱۱۸؍ ڈالر تک پہنچنے کے باعث دنیا بھر میں ایندھن، گیس اور توانائی کے دیگر وسائل کی شدید قلت کے خدشات نے سر اٹھا لیا ہے۔
آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی ختم ہونے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے جبکہ آج برینٹ خام تیل کی قیمت ۱۱۸؍ ڈالر تک پہنچنے کے باعث دنیا بھر میں ایندھن، گیس اور توانائی کے دیگر وسائل کی شدید قلت کے خدشات نے سر اٹھا لیا ہے۔ یورپ کے لیے اقوام متحدہ کے اقتصادی کمیشن (ای سی ای) کے سربراہ ڈیریو لیگوٹی نے بتایا ہے کہ اس بحران کے اثرات سب سے پہلے جنوب مشرقی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں محسوس کیے گئے لیکن اب یہ مزید پھیل رہا ہے اور یورپ میں گاڑیوں کے مالکان کو بھی ایندھن کے مسائل درپیش ہیں۔
ان کا کہنا ہے، چونکہ دنیا بھر کی معیشتیں اب بھی بڑی حد تک معدنی ایندھن پر انحصار کرتی ہیں اور علاقائی یا جغرافیائی سیاسی دھچکوں سے متاثر ہوتی ہیں اس لیے ای سی ای ایسے طریقے تلاش کر رہا ہے جن سے معدنی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے یا کم از کم انہیں زیادہ موثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔ قدرتی گیس (میتھین) بھی ایسا ہی ایک ذریعہ ہے جسے کہیں زیادہ موثر طریقے سے کام میں لایا جا سکتا ہے۔
اس گیس کو جلانے کے بجائے محفوظ کر کے ضرورت کے وقت استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے توانائی کے بنیادی ذرائع پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔ کمیشن میتھین کے اخراج کو کم کرنے کی کوششوں میں بھی قائدانہ کردار دا کر رہا ہے کیونکہ یہ گیس عالمی حدت بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔
قابل تجدید توانائی کی اہمیت
ڈیریو لیگوٹی نے زور دیا ہے کہ موجودہ بحران ایک واضح اشارہ ہے کہ ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی کو تیز کرنا ہو گا اور اس ضمن میں خاص طور پر نقل و حمل اور حرارت سے متعلق شعبوں میں بجلی کے استعمال کو فروغ دینا ضروری ہے۔ قابل تجدید توانائی کے استعمال کو تیزی سے بڑھانا ہو گا کیونکہ یہ نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ بجلی کے تحفظ کے اعتبار سے بھی زیادہ محفوظ اور خودمختار ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:نوازالدین کی فلم’’ تُمْبَاڈ۲‘‘ میں عالیہ بھٹ شامل
لبنان میں غذائی عدم تحفظ
لبنان میں جنگ کے معاشی اثرات نے لوگوں کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بڑھتی ہوئی قیمتیں اور رسد میں رکاوٹیں غذائی عدم تحفظ کو مزید بڑھا رہی ہیں اور ملک کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی شدید بھوک کا شکار ہے۔ غذائی تحفظ کے مراحل کی مربوط درجہ بندی (آئی پی سی) کے مطابق، اگست تک اندازاً ۱۲؍ لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے جو ۲۰۲۵ء کے آخر اور ۲۰۲۶ ءکے آغاز میں متاثرہ ۸؍ لاکھ ۷۴؍ ہزار افراد کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے کہا ہے کہ ادارہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں میں اضافہ کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:گجرات نے بنگلورو کو چار وکٹوں سے شکست دی
عوامی خدمات پر دباؤ
نقل مکانی اور کمزور عوامی خدمات کے باعث یہ بحران مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اسپتالوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں خون کے ذخائر کی معاونت بھی شامل ہے تاکہ ہنگامی حالات میں زندگیوں کو تحفظ مل سکے۔ ان تمام کوششوں کے باوجود امدادی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ ضروریات وسائل سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہیں اور آبنائے ہرمز کا بحران صرف علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی دھچکا ہے جو پہلے سے موجود مسائل کو تباہ کن حد تک بڑھا رہا ہے۔