Inquilab Logo Happiest Places to Work

یورپی یونین کا اسرائیل پرغیر قانونی یہودی آبادکاروں کے ناقابل قبول تشدد روکنے پر زور

Updated: March 11, 2026, 10:35 PM IST | Tel Aviv

یورپی یونین نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی یہودی آباد کاروں کے ’’ناقابل قبول‘‘ تشدد کو روکے، یونین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے فلسطینیوں پر غیر قانونی آباد کاروں کے تشدد کے خلاف کارروائی نہ کی تو مقبوضہ مغربی کنارے میں تنازع مزید بڑھ سکتا ہے۔

Illegal Israeli settlers. Image: X
غیر قانونی اسرائیلی آباد کار۔ نتصویر: ایکس

یورپی یونین نے منگل کے روز کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد کی سطح ناقابل قبول ہے اور اسرائیلی حکام پر زور دیا کہ وہ فلسطینی شہریوں کے خلاف مزید حملوں کو روکنے کے لیے فوری اقدام کریں۔یورپی یونین کے ترجمان نے بتایا کہ۲۸؍ فروری سے اب تک غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں میں چھ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ایک بیان کے مطابق، اس تشدد نے متعدد علاقوں کو متاثر کیا ہے، جس  کے نتیجے میں املاک کو نقصان پہنچا، روزگار کے ذرائع تباہ ہوئے اور فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے، جس سے بہت سے لوگ بے گھر ہو گئے۔بعد ازاں یورپی یونین نے اسرائیلی حکام پر زور دیا کہ وہ مزید حملوں کو روکنے اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدام کریں۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان: مسجد اقصیٰ مسلسل ۱۱؍ ویں دن بند، اعتکاف پر پابندی تشویش کا باعث

 ترجمان نے کہا کہ ایسے اقدامات پرکارروائی نہ کرنے سے مزید تشدد کا سبب بن سکتی ہے۔یورپی یونین نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں فلسطینی آبادی کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پابندی کرے۔واضح رہے کہ۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میںیہودی آبادکاروں کے تشدد میں شدت آئی ہے، جہاں اسرائیلی افواج اور غیر قانونی اسرائیلی آباد کار ایسے حملے کر رہے ہیں جن میں قتل، گرفتاریاں، املاک کی تباہی، گھروں کو مسمار کرنا، بے دخلی اور آباد کاری میں توسیع شامل ہیں۔ان حملوں میں کم از کم ۱۱۲۱؍ فلسطینی ہلاک اور۱۱۷۰۰؍ زخمی ہوئے ہیں، جبکہ تقریباً ۲۲۰۰۰؍ فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جرمنی: ۱۲؍ مارچ سے لفتھانسا کے پائلٹ ۴۸؍ گھنٹوں کی ہڑتال پر، سیکڑوں پروازیں متاثرہوں گی

فلسطینیوں کو خدشہ ہے کہ یہ خلاف ورزیاں اسرائیل کے لیے مقبوضہ مغربی کنارے کو باضابطہ طور پر الحاق کرنے کی راہ ہموار کر سکتی ہیں، جس سے اقوام متحدہ کی قراردادوں میں تصور کی گئی فلسطینی ریاست کے قیام کا امکان عملی طور پر ختم ہو جائے گا۔بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے کو مقبوضہ فلسطینی علاقہ قرار دیتے ہیں اور وہاں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK