آئی پی ایل پوائنٹس ٹیبل میں سب سے نچلے مقام پر موجود ممبئی انڈینز اور لکھنؤ سپر جائنٹس پیر کی رات وانکھیڈے اسٹیڈیم میں آخری مقام سے بچنے کے ارادے کے ساتھ ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی۔
EPAPER
Updated: May 03, 2026, 9:09 PM IST | Mumbai
آئی پی ایل پوائنٹس ٹیبل میں سب سے نچلے مقام پر موجود ممبئی انڈینز اور لکھنؤ سپر جائنٹس پیر کی رات وانکھیڈے اسٹیڈیم میں آخری مقام سے بچنے کے ارادے کے ساتھ ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی۔
آئی پی ایل پوائنٹس ٹیبل میں سب سے نچلے مقام پر موجود ممبئی انڈینز اور لکھنؤ سپر جائنٹس پیر کی رات وانکھیڈے اسٹیڈیم میں آخری مقام سے بچنے کے ارادے کے ساتھ ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی۔ دونوں ٹیموں کے چار-چار پوائنٹس ہیں، جہاں ممبئی نویں اور لکھنؤ دسویں نمبر پر ہے۔
سات دن کے وقفے کے بعد واپس آنے والی لکھنؤ سپر جائنٹس کو امید ہے کہ یہ آرام انہیں کولکاتا نائٹ رائیڈرز کے خلاف ملی دل توڑ دینے والی شکست سے نکلنے میں مدد دے گا، جو میچ سپر اوور میں ان کے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ محسن خان کی شاندار گیندبازی ( ۵/۲۳) نے اس میچ کو یادگار بنایا جبکہ آخری گیند پر محمد سمیع کے چھکے نے میچ برابر کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
جیسا کہ سابق ہندوستانی کپتان سنیل گاوسکر اکثر آئی پی ایل کے دباؤ والے مقابلوں میں کہتے ہیں کہ ٹی۲۰؍کرکٹ میں خود پر ترس کھانے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، اور لکھنؤ بھی یہ بات اچھی طرح سمجھتی ہے کہ اب اسے تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا۔
رشبھ پنت کی قیادت والی ٹیم آٹھ میچوں میں چار پوائنٹس کے ساتھ ٹیبل میں سب سے نیچے ہے، لیکن ٹیم کا ماحول اب بھی مثبت ہے۔ ٹیم مینجمنٹ کا ماننا ہے کہ ابھی چھ میچ باقی ہیں، جو قسمت بدلنے کے لیے کافی ہو سکتے ہیں خاص طور پر جب آسٹریلوی وکٹ کیپر بلے باز جوش انگلس اب دستیاب ہیں۔
Rohit bhai ne kya joke maara woh raaz bhi unhi ke sath reh gaya. 😅🫠 pic.twitter.com/pq98wpPWsD
— Mumbai Indians (@mipaltan) May 3, 2026
دوسری جانب ممبئی انڈینز کو زیادہ مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ پوائنٹس ٹیبل میں نویں مقام پر موجود اور گزشتہ میچ میں چنئی سپر کنگز سے شکست کھانے والی ممبئی کے پاس اب زیادہ وقت نہیں بچا۔ پلے آف کی دوڑ میں رہنے کے لیے انہیں اب تقریباً ہر میچ میں بہترین کارکردگی دکھانا ہوگی۔ وانکھیڈے میں ممبئی کو کمزور سمجھنا ہمیشہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ یہاں کی پچ عام طور پر جارحانہ بیٹنگ، تیز رننگ اور دباؤ میں بھی میچ ختم کرنے والے کھلاڑیوں کے لیے سازگار رہی ہے۔ دوسری اننگز میں اوس کا اثر بھی پڑ سکتا ہے، جس کی وجہ سے ایک اور ہائی اسکورنگ مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔اس مقابلے میں لکھنؤ کو نفسیاتی برتری حاصل ہے، کیونکہ دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک کھیلے گئے آٹھ میچوں میں سے چھ میں کامیابی لکھنؤ کو ملی ہے۔ ۲۰۲۵ء سیزن میں لکھنؤ نے ایکانا اسٹیڈیم میں مچل مارش اور ایڈن مارکرم کی نصف سنچریوں کی بدولت ممبئی کو ۱۲؍ رنز سے شکست دی تھی جبکہ بعد کے مقابلے میں ممبئی نے واپسی کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:لا لیگا: بارسلونا ٹائٹل کے قریب، ویاریا ل نے چیمپئن لیگ میں جگہ پکی کر لی
ممبئی کے ممکنہ امپیکٹ پلیئرز میں راج باوا، رگھو شرما، مایانک راوت، شاردُل ٹھاکر اور اشونی کمار شامل ہیں۔ رگھو شرما کا اس مرحلے پر آئی پی ایل میں آغاز کرنا ایک خوشگوار کہانی بن گیا ہے جبکہ اشونی کمار نے تین میچوں میں ۶؍ وکٹ لے کر ٹیم کی بولنگ کو مضبوط بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’ایلوس‘‘ کو پیچھے چھوڑ کر’ ’مائیکل‘‘ دوسری سب سے بڑی میوزیکل بایوپک فلم بن گئی
دوسری جانب لکھنؤ کی ٹیم ہمت سنگھ، اکشت رگھونشی، عبدالصمد، اویش خان اور بائیں ہاتھ کے اسپنر منیمارن سدھارتھ کے درمیان تبدیلی کر سکتی ہے۔ خاص طور پر عبدالصمد ایک ایسے کھلاڑی ہیں جو چند گیندوں میں ہی میچ کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔ ممبئی کے لیے یہ میچ ناک آؤٹ مرحلے سے پہلے ہی ایک طرح کا ’’ناک آؤٹ‘‘ ہے، جبکہ لکھنؤ کے لیے یہ شاید اس بات کو ثابت کرنے کا آخری موقع ہے کہ ان کے سیزن میں ابھی بھی جان باقی ہے۔