Updated: March 30, 2026, 3:01 PM IST
| Tehran
ایران نے موجودہ تنازع میں صرف میزائل اور ڈرون ہی نہیں بلکہ میمز، اے آئی ویڈیوز اور اسٹریٹ آرٹ کو بھی ہتھیار بنا لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایران کی حکمت عملی تیزی سے بیانیہ ترتیب دینے پر مرکوز ہے، جہاں وہ امریکہ اور اسرائیل کو طنز، مزاح اور علامتی ویژولز کے ذریعے نشانہ بنا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز سے لے کر ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ڈجیٹل کردارکشی تک، یہ مہم ایک منظم ’’انفارمیشن وار‘‘ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
میزائل، ڈرون اور بحری ناکہ بندی اپنی جگہ، لیکن اس تنازع میں ایک اور محاذ پوری شدت سے کھل چکا ہے،اور وہ ہے اسکرینوں کی جنگ، جہاں ایران میمز، اے آئی ویڈیوز اور طنزیہ پوسٹس کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل کو نشانہ بنا رہا ہے، اور جنگی بیانیہ میں برتری حاصل کرلی ہے۔ یہ ڈجیٹل مہم کسی بے ترتیب ردعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی دکھائی دیتی ہے، جہاں ہر فوجی پیش رفت کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر اس کا ’’ایرانی ورژن‘‘ پیش کر دیا جاتا ہے، اس سے پہلے کہ کوئی متبادل بیانیہ جگہ بنا سکے۔
پریٹوریا میں ایرانی سفارت خانے کی ایک وائرل پوسٹ اس کی واضح مثال بنی، جس میں آبنائے ہرمز میں امریکی پرچم میں لپٹے تابوت تیرتے دکھائے گئے، اور کیپشن تھا: ’’واحد امریکی چیز جو یہاں سے گزر سکتی ہے۔‘‘
اسی طرح، اینیمیٹڈ ویڈیو ’’لارڈ آف دی اسٹریٹس‘‘ میں ایران کو عالمی جہاز رانی کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے دکھایا گیا، جبکہ امریکی صدر مدد کے لیے منتیں کرتے نظر آتے ہیں،لیکن ہر طرف سے انکار ملتا ہے۔
ایران نے اے آئی کو اس مہم کا مرکزی ہتھیار بنا لیا ہے۔ ایک لیگو اسٹائل ویڈیو میں ٹرمپ کو ایک کھلونا کردار کے طور پر دکھایا گیا ہے، جو ایرانی حملوں کے دوران بے بس کھڑا ہے۔
ایک اور کلپ میں بنجامن نیتن یاہو کو طنزیہ انداز میں ’’جیفری ایپسٹین فائل‘‘ کے ساتھ جوڑا گیا ہے، جبکہ ایک ویڈیو میں ٹرمپ کو ٹیلی ٹیوبیز جیسے لباس میں یورپی لیڈروں سے مدد مانگتے دکھایا گیا ہے،اور جواب میں صرف ہنسی ملتی ہے۔
حیدرآباد میں ایرانی قونصل خانے نے بھی اسی طرز کو اپناتے ہوئے نیتن یاہو کے بیان کے جواب میں ایک درخت کی تصویر پوسٹ کی، جس کے ذریعے اسرائیل کی ’’مختصر تاریخ‘‘ پر طنز کیا گیا۔
ایران کی یہ مہم صرف مزاح تک محدود نہیں، بلکہ جذباتی بیانیہ بھی تیار کرتی ہے۔ ایک اے آئی ویڈیو میں ایک معمر شخصیت (علی خامنہ ای سے مشابہ) کو بچے کے ساتھ دکھایا جاتا ہے، پھر حملہ ہوتا ہے، اور ملبے میں ایک انگوٹھی چمکتی ہے،بعد میں ایک نیا کردار اسے اٹھا کر ’’واپسی‘‘ کی علامت بن جاتا ہے۔
سڑکوں پر بھی یہی بیانیہ زندہ ہے۔ تہران کے انقلاب اسکوائر پر نصب ایک دیوار پر تباہ شدہ امریکی طیارہ بردار جہاز، پھٹتے ہوئے جنگی طیارے اور خون میں ڈوبا امریکی پرچم دکھایا گیا ہے، جس پر لکھا ہے: ’’جو ہوا بوتے ہیں، طوفان کاٹتے ہیں۔‘‘
ریاست سے منسلک چینلز نے ’’ ون وینجنس فار آل‘‘ نامی اے آئی فلم بھی جاری کی، جس میں مختلف عالمی تنازعات کو جوڑ کر امریکہ کو ’’عالمی جارح‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا، اور آخر میں مجسمہ آزادی پر میزائل حملہ دکھایا گیا۔
ایران کے مزید ۱۰؍ طنزیہ میمیز
(۱) ایک میم میں ٹرمپ کو ’’وائی فائی سگنل ڈھونڈتے‘‘ دکھایا گیا،کیپشن: ’’اتحادی کہاں ہیں؟ نو سگنل۔‘‘
(۲) نیتن یاہو کو شطرنج کے بورڈ پر دکھایا گیا جہاں ہر چال کے بعد وہ خود ہی چیک میٹ ہو جاتے ہیں۔
(۳) ایک اے آئی کلپ میں امریکی عقاب کو ڈرون سے بھاگتے ہوئے دکھایا گیا،کیپشن: ’’شکار خود شکار بن گیا۔‘‘
(۴) ایک میم میں ٹرمپ کو گوگل میپس کھول کر آبنائے ہرمز تلاش کرتے دکھایا گیا، ’’رزلٹ: روٹ ناٹ اویلیبل۔‘‘
(۵) ایک ویڈیو میں اسرائیلی ٹینک کو ویڈیو گیم کے ’’لو بیٹری‘‘ آئیکن کے ساتھ دکھایا گیا۔
(۶) ایک پوسٹ میں امریکی پرچم کو ’’ لوڈنگ! پلیز ویٹ۔‘‘ جبکہ ایران کا جھنڈا ’’کمپلیٹ ۱۰۰؍ فیصد۔‘‘
(۷) ایک طنزیہ کلپ میں یورپی لیڈرز کو گروپ چیٹ میں دکھایا گیا جہاں ٹرمپ میسج کرتے ہیں ’’ہیل‘‘ اور سبھی اسے ’’سین‘‘ کر کے چھوڑ دیتے ہیں۔
(۸) ایک میم میں نیتن یاہو کو ’’بریکنگ نیوز جنریٹر‘‘ کے سامنے دکھایا گیا،جہاں ہر خبر خود کے خلاف نکلتی ہے۔
(۹) ایک ویڈیو میں مجسمہ آزادی کو آنکھوں پر پٹی باندھے دکھایا گیا،کیپشن: ’’ناٹ سینگ وہاٹس ہیپننگ۔‘‘
(۱۰) ایک کارٹون میں امریکی میزائل کو ’’ریٹرن ٹو سینڈر‘‘ کے اسٹیمپ کے ساتھ واپس آتے دکھایا گیا۔
ماہرین کے مطابق، یہ ایک نئی قسم کی ’’ڈجیٹل وارفیئر‘‘ ہے، جہاں ایران نہ صرف زمین پر بلکہ آن لائن بھی بیانیہ کنٹرول کررہا ہے۔ کلیمسن یونیورسٹی کے ڈیرن لن ویل کے مطابق، ’’یہ ایک غیر متناسب جنگ ہے جہاں اے آئی پہلی بار اس پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے۔‘‘ یوں، جنگ اب صرف میدان میں نہیں لڑی جا رہی بلکہ ہر فون اسکرین، ہر میم، اور ہر ویڈیو میں جاری ہے، جہاں ہنسی بھی ایک ہتھیار بن چکی ہے۔