ایران نے جنگی کشیدگی کے دوران سفارتی سوشل میڈیا کو ’’میم وار‘‘ میں بدل دیا۔ امریکہ اور اسرائیل پر طنزیہ میمز کی بارش۔ صارفین نے اسے ’’تفریح‘‘ قر ار دیا۔
EPAPER
Updated: March 25, 2026, 10:04 PM IST | Tehran
ایران نے جنگی کشیدگی کے دوران سفارتی سوشل میڈیا کو ’’میم وار‘‘ میں بدل دیا۔ امریکہ اور اسرائیل پر طنزیہ میمز کی بارش۔ صارفین نے اسے ’’تفریح‘‘ قر ار دیا۔
ایران اور اسرائیل و امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی، بلکہ ایک نیا محاذ سوشل میڈیا پر بھی کھل گیا ہے جہاں ایران نے ایک غیر معمولی ’’ڈجیٹل طنزیہ جنگ‘‘ چھیڑ دی ہے۔ ایرانی سفارتی مشنز، بشمول کابل، پریٹوریا اور حیدرآباد کے قونصل خانے، نے اپنے آفیشل اکاؤنٹس پر روایتی سفارتی بیانات کے بجائے میمز، طنزیہ جملے اور پاپ کلچر ریفرنسز کے ذریعےامریکہ اور اسرائیل کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا نیا اتحاد پلان، ہرمز محدود کھولا، خطے میں طاقت کا نیا توازن
یہ سب اس وقت شروع ہوا جب ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کیلئے بات چیت کی۔ اس کے جواب میں کابل میں ایرانی سفارت خانے نے ایک سخت پیغام جاری کرتے ہوئے کہا،’’ایران کی سخت وارننگ کے بعد ٹرمپ کی پسپائی‘‘ اور دعویٰ کیا کہ امریکی قیادت ممکنہ ایرانی ردعمل سے خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر ایران کا ’’Roast Mode‘‘ آن
ایران کے مختلف سفارت خانوں کی پوسٹس نے واضح کر دیا ہے کہ یہ صرف سفارتی جواب نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا ’’نریٹو وار‘‘ ہے جہاں طنز، مزاح اور نفسیاتی دباؤ کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔
(۱) پریٹوریا (جنوبی افریقہ)
یہاں ایرانی سفارت خانے نے آبنائے ہرمز کی ایک تصویر شیئر کی جس میں امریکی جھنڈوں میں لپٹے تابوت دکھائے گئے۔ کیپشن کا مطلب تھا، ’’یہی واحد امریکی موجودگی ہوگی جو یہاں سے گزرے گی۔‘‘ اس پوسٹ پر عالمی سطح پر شدید تنقید ہوئی، لیکن اس نے ایران کے جارحانہ ڈجیٹل انداز کو واضح کر دیا۔
عقبنشینی ترامپ پس از هشدار قاطع ایران
— Embassy of the I.R. Iran in Kabul, Afghanistan (@IRANinKabul) March 23, 2026
پس از آنکه جمهوری اسلامی تهدید کرد که در صورت هرگونه حمله آمریکا به زیرساختهای انرژی ایران، زیرساختهای انرژی کل منطقه را هدف قرار میدهد، ترامپ عقب نشست و گفت که دستور تعویق حمله را صادر کرده است. pic.twitter.com/3Jcl3k5YDN
(۲) تھائی جہاز واقعہ
ایک اور میم میں، ایک تباہ شدہ جہاز سے بھاگتے ہوئے عملے کو دکھایا گیا، جسے ایک ’’ڈرے ہوئے بچے‘‘ سے تشبیہ دی گئی۔ اس پر تھائی لینڈ کی جانب سے سفارتی احتجاج بھی سامنے آیا، جس کے بعد پوسٹ ڈیلیٹ کر دی گئی۔
— Iran Embassy SA (@IraninSA) March 23, 2026
(۳) یوکرین تنازع
ولادیمیر زیلنسکی کے بیان کے جواب میں ایرانی مشن نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے انہیں اور امریکیوں کو ’’مسخرے اور احمق‘‘ قرار دیا اور یہاں تک کہ ٹام اینڈ جیری کے میمز کے ذریعے ان کا مذاق اڑایا۔
The history of the entity is less than the age of trees inside Iran`s Consulate in Hyderabad.#Iran https://t.co/fn4euDci0D pic.twitter.com/GvQm3BBfv9
— Iran Consulate - Hyderabad (@IraninHyderabad) March 22, 2026
(۴) حیدرآباد قونصل خانہ
ہندوستان میں ایرانی قونصل خانے نے نیتن یاہو کے ایران مخالف بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کی تاریخی حیثیت کا مذاق اڑایا، یہ کہتے ہوئے کہ ’’ہمارے احاطے کے درخت بھی اسرائیل سے پرانے ہیں۔‘‘
(۵) امریکہ: ہم خطے کو کنٹرول کرتے ہیں
ایران: پھر ہرمز سے گزرنے کی اجازت کیوں مانگتے ہو؟
(۶) اسرائیل: ہم ایران کو روک دیں گے
ایران: پہلے خود کو سنبھال لو
(۷) امریکہ: ہم نے وارننگ دی ہے
ایران: ہم نے جواب دیا ہے اور وہ بھی زور دار
(۸) امریکی بحریہ داخل ہوتی ہوئی
ایران: باس لیول میں خوش آمدید
(۹) امریکی میڈیا: اسٹریٹجک پریشر
ایران: یعنی گھبراہٹ؟
(۱۰) اسرائیل: ہم خطرے میں ہیں
ایران: تم ہمیشہ ہی رہتے ہو
(۱۱) امریکہ: پابندیاں لگائیں گے
ایران: پھر بھی ہم کھڑے ہیں
(۱۲) جنگ کی دھمکیاں
ایران: ہم دھمکیاں نہیں دیتے، عمل کرتے ہیں
(۱۳) امریکہ: ہم عالمی طاقت ہیں
ایران: مقامی مسائل، عالمی غرور
(۱۴) اسرائیل کا بیانیہ
ایران: تم سرخی ہو، ہم تاریخ ہیں
یہ بھی پڑھئے: بوشہر جوہری پلانٹ کو نقصان، ایران کا امریکی اسرائیلی حملوں پر بڑا الزام
جنگ + میمز = نئی سفارتی حکمت عملی
ماہرین کے مطابق، ایران کی یہ حکمت عملی ’’Hybrid Warfare‘‘ کا حصہ ہے، جہاں فوجی کارروائی، بیانیہ کنٹرول اور ڈجیٹل مزاح، سبھی ایک ساتھ استعمال کئے جا رہے ہیں تاکہ عالمی رائے عامہ کو متاثر کیا جا سکے۔