Updated: August 19, 2026, 9:01 PM IST
| Mumbai
یوٹیوبر اور پوڈکاسٹر رنویر الہابادیا نے دعویٰ کیا ہے کہ فلم انڈسٹری کے مقابلے میں کانٹینٹ کریئیشن میں زیادہ لوگوں کیلئے مالی کامیابی کے مواقع موجود ہیں، ان کے مطابق بالی ووڈ کے صرف چند بڑے ستارے ہی حقیقی معنوں میں بہت زیادہ پیسہ کماتے ہیں جبکہ کریئیٹر اکنامی میں ہزاروں افراد پائیدار آمدنی حاصل کرسکتے ہیں، ان کے بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا۔
یوٹیوبر رنویر الہابادیا۔ تصویر: آئی این این
یوٹیوبر رنویر الہابادیا نے منگل کو دعویٰ کیا کہ فلم انڈسٹری کے مقابلے میں کانٹینٹ کریئیشن سے زیادہ آمدنی ہوتی ہے۔ منگل کو ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں الہابادیا نے مؤقف اختیار کیا کہ اگرچہ فلم انڈسٹری کے صرف چند بڑے ستارے ہی ’’حقیقی پیسہ‘‘ کماتے ہیں، لیکن کریئیٹر اکنامی کہیں زیادہ لوگوں کو مالی طور پر کامیاب ہونے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے لکھا، ’’لوگ سمجھتے ہیں کہ فلم انڈسٹری کانٹینٹ کریئیشن سے زیادہ پیسے دیتی ہے۔ عام طور پر اس کے برعکس ہوتا ہے۔ بالی ووڈ کی چوٹی پر موجود شاید صرف ۳۰؍ افراد ہی حقیقی معنوں میں بہت زیادہ پیسہ کماتے ہیں، جبکہ کانٹینٹ کریئیشن میں ہزاروں لوگوں کیلئے پائیدار کام کھڑا کرنے کی گنجائش ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگوں کو کبھی بھی اس طرح مشہور ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی جیسے ایک اداکار کو ہونا پڑتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: جانی ڈیپ ’پائریٹس آف دی کیریبیئن ۶‘ میں ’معاون‘ اداکار کے طور پر نظر آئیں گے؟
ان کے تبصرے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملے جلے ردعمل سامنے آئے۔ کئی ایکس صارفین نے ان کی بات سے اتفاق کیا، جبکہ کچھ لوگوں نے نشاندہی کی کہ کانٹینٹ کریئیشن میں بھی ایک سخت درجہ بندی موجود ہے اور صرف بہت کم تعداد میں کریئیٹرز ہی نمایاں آمدنی حاصل کر پاتے ہیں۔ ایک صارف نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کا بڑھتا ہوا استعمال صورتحال کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔ ایک اور صارف نے لکھا، ’’پھر بھی آپ کسی اداکار کو کئی دہائیوں تک اس کے کسی ایسے کردار کی وجہ سے یاد رکھیں گے جسے اس نے نبھایا، توقعات پر پورا اترا اور اسے یادگار بنایا، اس کے برعکس آپ کے نام نہاد بے وقوف انسٹاگرام ریل اسٹارز کو لوگ چند ہفتوں میں بھول جاتے ہیں۔ ہر چیز کو صرف پیسے کے حساب سے نہیں پرکھا جاسکتا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: باکس آفس: سلمان خان، پربھاس کا تصادم طے، عید ۲۷ء پر دونوں کی فلمیں ریلیز ہوں گی
الہابادیا کا یہ بیان فلمساز اور کوریوگرافر فرح خان کے اپنے کیریئر کے حوالے سے دیے گئے ایک ایسے ہی بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔ فرح خان نے ۲۰۲۴ء میں اپنا یوٹیوب چینل شروع کیا تھا اور کھانے پکانے کے وولاگز شیئر کرنا شروع کیا تھا۔ انہوں نے اس سے قبل انکشاف کیا تھا کہ کانٹینٹ کریئیشن سے انہیں اپنے کیے گئے کسی بھی دوسرے کام کے مقابلے میں زیادہ آمدنی ہوئی ہے۔ ثانیہ مرزا کے ساتھ ایک پوڈکاسٹ کے دوران فرح خان کو یاد دلایا گیا کہ انہوں نے ایک ایسی فلم کی ہدایتکاری کی تھی جس نے باکس آفس پر ۳۰۰؍ کروڑ روپے سے زیادہ کا کاروبار کیا تھا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کی ذاتی آمدنی سب سے زیادہ کانٹینٹ کریئیشن سے ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود اگر انہیں دوبارہ انتخاب کرنا ہو تو وہ آخرکار ہدایتکاری ہی کو ترجیح دیں گی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’حیوان‘‘ ملیالم فلم ’’اوپم‘‘ کا ریمیک نہیں ہے: پریہ درشن کی وضاحت
’’بیئربائسیپس‘‘ کے نام سے مشہور رنویر الہابادیا یوٹیوبر، پوڈکاسٹر اور کاروباری شخصیت ہیں۔ فروری ۲۰۲۵ء میں کامیڈین سمئے رائنا کے یوٹیوب شو ’’انڈیاز گوٹ لیٹنٹ‘‘ میں بطور مہمان جج شرکت کے بعد ان کے کیریئر کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان کے ایک سوال نے بڑے پیمانے پر ردعمل، پولیس شکایات اور قانونی کارروائی کو جنم دیا۔ یہ تنازع بالآخر سپریم کورٹ تک پہنچا۔ مارچ ۲۰۲۵ء میں عدالت نے انہیں شائستگی سے متعلق کچھ شرائط کے ساتھ اپنا پوڈکاسٹ دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی تھی۔