اسرائیل میں الیکشن ہونے والے جس کیلئے ایک مہینے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔ تاہم مرکزی انتخابی کمیشن کی جانب سے تمام عرب جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کے اقدام نے قومی سلامتی، قومی شناخت اور جمہوری نمائندگی کے باہمی تعلق پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو۔ تصویر:آئی این این
اسرائیل میں الیکشن ہونے والے جس کیلئے ایک مہینے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔ تاہم مرکزی انتخابی کمیشن کی جانب سے تمام عرب جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کے اقدام نے قومی سلامتی، قومی شناخت اور جمہوری نمائندگی کے باہمی تعلق پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگر۲۷؍ اکتوبر کے انتخابات تک یہ پابندیاں برقرار رہیں تو اسرائیل کے عرب شہری جو ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں، اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) میں اپنی نمائندگی کے سب سے اہم ذریعے سے محروم ہو جائیں گے۔ تاہم یہ فیصلہ حتمی نہیں اور سپریم کورٹ آئندہ چند روز میں اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:عمران خان کی رہائی کیلئے حکومت سے مذاکرات بے نتیجہ
کن عرب جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکا گیا ہے؟
ان جماعتوں میں سب سے نمایاں نام رعام کا ہےجسے یونائیٹڈ عرب لسٹ بھی کہا جاتا ہے۔ کنیسٹ کی ۱۲۰؍ سیٹوںمیں سے اس وقت اس کی ۵؍ سیٹیں ہیں اور یہ قدامت پسند اسلامی سیاسی موقف رکھتی ہے۔رعام نے رواں سال کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ وہ یہودی امیدواروں کو بھی اپنے ٹکٹ پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے گی۔
پابندی کا اطلاق جوائنٹ لسٹ پر بھی ہوتا ہے جو۳؍ پارٹیوں کا اتحاد ہے: بائیں بازو کی یہودی اور عرب جماعت حدش، عرب قوم پرست جماعت تعال اور فلسطینی قوم پرست جماعت بلد۔
یہ اتحاد جزوی طور پر اس لئے قائم کیا گیا تھا کہ ووٹ تقسیم نہ ہوں اور جماعتیں اسرائیل کی ۳ء۲۵؍ فیصد کی انتخابی حد عبور کر سکیں۔ حدش اور تعال کے پاس اس وقت کنیسٹ میں مجموعی طور پر ۵؍ سیٹیںہیں جبکہ بلد کو موجودہ پارلیمان میں کوئی نمائندگی حاصل نہیں۔
مرکزی انتخابی کمیشن نے جوائنٹ لسٹ کے ۲؍ انفرادی امیدواروں کو بھی نااہل قرار دیا ہے۔
اگرچہ کمیشن کی سربراہی سپریم کورٹ کا ایک موجودہ جج کرتا ہے، تاہم پابندی کے بارے میں حتمی فیصلہ سپریم کورٹ ہی کرے گی۔ حقوق کی تنظیم عدالہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ ان جماعتوں کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرے گی۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی جماعت لیکود اور عوتسما جیسی دائیں بازو کی جماعتوں نے ان عرب سیاسی جماعتوں اور ان کے بعض امیدواروں کو نااہل قرار دلوانے کیلئے درخواستیں دائر کی تھیں۔
یہ بھی پڑھئے:امریکی وسط مدتی انتخاب: ٹرمپ کا انتخابی حربہ، ریپبلکن پارٹی کامیاب ہوئی تو ہر ووٹر کو ۵؍ہزار ڈالر
کنیسٹ سے متعلق بنیادی قانون کی ایک شق کے تحت ایسے امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جا سکتا ہے جو اسرائیل کے یہودی اور جمہوری ریاست ہونے کی ’نفی‘ کرتے ہوں، ’نسل پرستی پر اکساتے‘ ہوں یا اسرائیل کے خلاف کسی دشمن ریاست یا دہشت گرد تنظیم کی مسلح جدوجہد کی حمایت کرتے ہوں۔
پابندی کے حامیوں کا موقف ہے کہ بعض جماعتوں کے لیڈروں کے بیانات اور سرگرمیاں ان قانونی حدود سے تجاوز کرتی ہیں۔ ’ڈی ڈبلیو‘ کی خبر کے مطابق درخواست گزاروں نے رعام اور جوائنٹ لسٹ سے منسلک بعض تنظیموں کے ایسے اداروں سے روابط کا حوالہ دیا جو ان کے بقول حماس سے وابستہ ہیں۔ تاہم رعام اور جوائنٹ لسٹ نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
کیا ماضی میں بھی ایسا ہوا ہے؟
اسرائیل کے انتخابی حکام ماضی میں بھی عرب جماعتوں اور امیدواروں کو نااہل قرار دینے کی کوششیں کرتے رہے ہیں لیکن تمام بڑی عرب قیادت والی جماعتوں کو بیک وقت باہر کرنا ایک بے مثال اقدام ہوگا۔
بلد کو انتخابات سے روکنے کے فیصلے ماضی میں بھی کئے گئے۔ تاہم سپریم کورٹ نے ہر مرتبہ اسے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔
۱۹۸۵ءمیں قانون میں ترمیم کے ذریعے انتخابی کمیشن کو امیدواروں اور جماعتوں کی نااہلی کیلئے دائر چیلنجز پر فیصلہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس کے بعد سے سپریم کورٹ نے صرف ایک ایسے فیصلے کو برقرار رکھا ہے جو۱۹۸۸ء میں انتہائی قوم پرست آرتھوڈوکس یہودی جماعت کاچ کے خلاف دیا گیا تھا۔