عراق نے معاشی اور مالی دباؤ کے درمیان اپنی قومی کرنسی عراقی دینار کی قدر میں نمایاں کمی کردی ہے۔ مرکزی بینک نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں سرکاری شرح مبادلہ کو۱۳۲۰؍ دینار سے بڑھا کر ۱۵۲۰؍ دینار فی ڈالر مقرر کردیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 07, 2026, 7:04 PM IST | Baghdad
عراق نے معاشی اور مالی دباؤ کے درمیان اپنی قومی کرنسی عراقی دینار کی قدر میں نمایاں کمی کردی ہے۔ مرکزی بینک نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں سرکاری شرح مبادلہ کو۱۳۲۰؍ دینار سے بڑھا کر ۱۵۲۰؍ دینار فی ڈالر مقرر کردیا ہے۔
عراق نے معاشی اور مالی دباؤ کے درمیان اپنی قومی کرنسی عراقی دینار کی قدر میں نمایاں کمی کردی ہے۔ مرکزی بینک نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں سرکاری شرح مبادلہ کو۱۳۲۰؍ دینار سے بڑھا کر ۱۵۲۰؍ دینار فی ڈالر مقرر کردیا ہے۔ اس طرح سرکاری سطح پر دینار کی قدر میں تقریباً ۱۵؍ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ نئی شرح ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء سے نافذ کردی گئی ہے۔ عراقی حکومت اور مرکزی بینک کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی معیشت تیل کی برآمدات میں رکاوٹ، غیر ملکی زرمبادلہ کی آمد میں کمی اور خطے میں جاری جنگی صورتحال کے باعث شدید دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ عراق کی سرکاری آمدنی کا بڑا حصہ تیل کی فروخت سے حاصل ہوتا ہے، اس لیے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے حکومت کے مالی وسائل کو متاثر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ابھیشیک بچن کا انکشاف: شاہ رخ خان نے میرے کریئر کی ’ذاتی ذمہ داری‘ لی
عراقی مرکزی بینک کے مطابق حکومت کی وزارت خزانہ سے ڈالر خریدنے کی شرح ۱۵۰۰؍ دینار فی ڈالر مقرر کی گئی ہے، جبکہ بینکوں کو ڈالر تقریباً ۱۵۱۰؍ دینار میں فراہم کیا جائے گا۔ عام صارفین کے لیے ڈالر کی سرکاری فروخت کی شرح ۱۵۲۰؍دینار فی امریکی ڈالر ہوگی۔ مالیاتی اداروں، بینکوں اور زرِ مبادلہ کے مراکز کو سابقہ شرح ختم کرکے نئی شرح نافذ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس سے قبل سرکاری شرح ۱۳۲۰؍ دینار فی ڈالر تھی، جسے فروری۲۰۲۳ء میں مقرر کیا گیا تھا۔ موجودہ تبدیلی تین سال سے زائد عرصے بعد شرح مبادلہ میں پہلی بڑی سرکاری تبدیلی ہے۔
عراق کی معیشت کا انحصار تیل کی آمدنی پر بہت زیادہ ہے۔ تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والے ڈالر حکومت کے لیے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پنشن، درآمدات اور دیگر اخراجات پورے کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں خطے کی جنگی صورتحال اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث عراق کی تیل برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔رپورٹس کے مطابق عراق کی تیل برآمدات اگست میں تقریباً ۲۳؍لاکھ ۴۰؍ ہزار بیرل یومیہ رہ گئی تھیں، جبکہ اس سے پہلے یہ مقدار ۳۶؍ لاکھ بیرل یومیہ سے زیادہ تھی۔ اس کمی کا براہ راست اثر ملک میں آنے والے غیر ملکی زرمبادلہ پر پڑا ہے۔
دینار کی قدر کم کرنے سے حکومت کو ہر ایک ڈالر کی تیل آمدنی کے بدلے زیادہ دینار حاصل ہوں گے۔ اس طرح اگر عالمی منڈی سے حکومت کو ایک ڈالر ملتا ہے تو نئی شرح کے تحت اس کے عوض پہلے کے مقابلے میں زیادہ مقامی کرنسی حاصل ہوگی۔ماہرین کے مطابق یہ اقدام حکومت کے لیے مالیاتی دباؤ کم کرنے اور بجٹ کے اخراجات پورے کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ عراق کے آئندہ بجٹ میں اخراجات تقریباً ۲۱۷؍ کھرب دینار، یعنی۱۶۶؍ارب ڈالر رکھے گئے ہیں، جبکہ بجٹ خسارہ ۴۰؍ کھرب دینار سے زیادہ رہنے کا اندازہ ہے۔
دینار کی قدر میں کمی کا سب سے بڑا اثر درآمدی اشیا کی قیمتوں پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ عراق خوراک، ادویات، گاڑیوں، تعمیراتی سامان اور متعدد دیگر اشیا کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ مقامی کرنسی کمزور ہونے کی صورت میں بیرون ملک سے خریدی جانے والی اشیا کی لاگت بڑھ سکتی ہے، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دینار کی قدر میں کمی سے مہنگائی اور گھریلو قوتِ خرید متاثر ہوسکتی ہے۔ یعنی اگر آمدنی میں اسی تناسب سے اضافہ نہ ہو تو عام شہریوں کے لیے ضروری اشیا اور درآمدی مصنوعات خریدنا زیادہ مہنگا ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایک اور یادگار شاہکار کے بعد میسی نے آنسوؤں کے ساتھ ارجنٹائنا کو الوداع کہہ دیا
عراق میں سرکاری شرح میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری منڈی میں بھی ڈالر کی قیمت میں تیزی دیکھی گئی۔ رپورٹس کے مطابق نئی سرکاری شرح کے اعلان کے بعد بعض مقامات پر متوازی منڈی میں ڈالر کی قیمت ۱۷۰۰؍ دینار سے بھی تجاوز کرگئی، جس سے سرکاری اور غیر سرکاری شرح کے درمیان فرق مزید نمایاں ہوگیا۔
رپورٹس کے مطابق موجودہ اقدام گزشتہ چند برسوں میں عراق کی کرنسی کی قدر میں دوسری بڑی کمی ہے۔ دسمبر ۲۰۲۰ء میں تیل کی قیمتوں میں شدید گراوٹ اور بجٹ بحران کے دوران عراق نے دینار کی شرح میں بڑی تبدیلی کی تھی۔ اس وقت شرح تقریباً ۱۱۸۲؍ سے بڑھا کر ۱۴۵۰؍ دینار فی ڈالر کردی گئی تھی۔ بعد میں اسے مزید ایڈجسٹ کرکے ۱۳۲۰؍ دینار کی سرکاری شرح تک لایا گیا۔موجودہ فیصلہ عراق کی معیشت پر تیل کے حد سے زیادہ انحصار، خطے کی کشیدہ صورتحال اور تیل برآمدات میں رکاوٹ سے پیدا ہونے والے مالی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومت کے لیے اس اقدام سے مقامی کرنسی میں آمدنی بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ درآمدی اشیا مہنگی ہونے اور عام شہریوں کی قوتِ خرید پر دباؤ بڑھنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔