آسٹریلیا اور فرانس کے بعد ہندوستان بھی کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے پر غور کر رہا ہے۔ آئی ٹی وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ حکومت عمر کی بنیاد پر ضابطوں اور ڈیپ فیکس جیسے مسائل پر پلیٹ فارمز سے مشاورت کر رہی ہے۔
EPAPER
Updated: February 18, 2026, 10:38 PM IST | New Delhi
آسٹریلیا اور فرانس کے بعد ہندوستان بھی کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے پر غور کر رہا ہے۔ آئی ٹی وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ حکومت عمر کی بنیاد پر ضابطوں اور ڈیپ فیکس جیسے مسائل پر پلیٹ فارمز سے مشاورت کر رہی ہے۔
دنیا بھر میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ آسٹریلیا ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی نافذ کرنے والا پہلا ملک ہے، جہاں یہ قانون ۱۰؍ دسمبر ۲۰۲۵ء سے مؤثر ہو چکا ہے۔ اس پابندی میں ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فیس بک، ایکس، ریڈٹ، یوٹیوب، ٹویچ اور تھریڈز جیسے بڑے پلیٹ فارمز شامل ہیں۔ اسی طرح فرانس کی قومی اسمبلی نے ۱۵؍ سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پابندی کا بل منظور کیا ہے، جو اب سینیٹ میں زیرِ غور ہے۔ ڈنمارک، ناروے اور ملائیشیا بھی اسی نوعیت کی قانون سازی پر غور کر رہے ہیں۔
ہندوستان میں الیکٹرانکس اور آئی ٹی کے وزیر اشوینی ویشنو نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت عمر کی بنیاد پر ضابطوں پر سوشل میڈیا کمپنیوں سے بات چیت کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، ’’بہت سے ممالک نے عمر کی بنیاد پر ریگولیشن کو ضروری قرار دیا ہے۔ ہم ڈیپ فیکس اور عمر کی پابندیوں کے حوالے سے مختلف پلیٹ فارمز سے مشاورت کر رہے ہیں۔‘‘ رپورٹس کے مطابق، حکومت انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز ۲۰۲۱ء میں ترمیم پر غور کر سکتی ہے تاکہ ۱۶؍ سال سے کم عمر افراد کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کی جا سکے۔ تاہم، آسٹریلیا کی طرح مکمل پابندی کا فی الحال امکان کم بتایا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ ڈجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ کے تحت پہلے ہی ۱۸؍ سال سے کم عمر بچوں کے ڈیٹا کی پروسیسنگ کیلئے والدین کی تصدیق شدہ رضامندی لازمی ہے۔
حکومت کے حالیہ اقتصادی سروے میں بھی نوجوانوں میں اسکرین کے بے تحاشا استعمال پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا اور دیگر ڈجیٹل پلیٹ فارمز کا غیر متوازن استعمال نہ صرف ذہنی صحت بلکہ معیشت پر بھی منفی اثر ڈال رہا ہے۔ سروے میں عمر کی تصدیق، آٹو پلے فیچرز کی حد بندی اور ٹارگٹڈ اشتہارات پر پابندی جیسے اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔ اگر ہندوستان عمر کی بنیاد پر سوشل میڈیا رسائی محدود کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ ڈجیٹل پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے بچوں کے تحفظ میں مدد مل سکتی ہے، مگر اس کے نفاذ اور عمر کی مؤثر تصدیق ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ فی الحال حکومت صنعت کے ساتھ مشاورت کے مرحلے میں ہے، اور کسی حتمی فیصلے کا اعلان باقی ہے۔ تاہم، عالمی رجحان کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ ڈجیٹل پلیٹ فارمز پر بچوں کی حفاظت اب ایک اہم پالیسی ترجیح بنتی جا رہی ہے۔