Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۳؍سالہ عزیر ملک نے ۳۱؍موبائل ایپ اور ایک ویب سائٹ ڈیولپ کی،کوڈنگ ،ڈیولپنگ کو آن لائن سیکھا

Updated: April 19, 2026, 9:05 PM IST | Agency | Srinagar

سری نگر، کشمیر کےرہنے والے ۱۳؍سالہ عُزیر احمد نے ۳۱؍موبائل ایپ اور ایک ویب سائٹ ڈیولپ کرکے سبھی کو حیران کردیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ عزیر نے یہ سب کچھ ’سیلف لرننگ‘ کے دَم پر کیا ہے۔

Uzair And His Mother Can Be Seen.Photo:INN
تصویر میں عزیر اور اس کی والدہ دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر:آئی این این
سری نگر، کشمیر کےرہنے والے ۱۳؍سالہ عُزیر احمد نے ۳۱؍موبائل ایپ اور ایک ویب سائٹ ڈیولپ کرکے سبھی کو حیران کردیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ عزیر نے یہ سب کچھ ’سیلف لرننگ‘  کے دَم پر کیا ہے۔ اس ہونہار لڑکے نے آن لائن ذرائع سے ایپ اور سافٹ ویئر ڈیولپنگ کا فن سیکھا ہے۔سری نگر کے سیدپورہ عیدگاہ علاقےمیں سکونت پزیر عُزیر نویں جماعت میں زیر تعلیم ہے۔  آواز دی وائس کی رپورٹ کے مطابق عزیر کا کوڈنگ اور ایپ ڈیولپمنٹ کا سفر۲۰۲۱ء  میں شروع ہوا، جب وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ موبائل ایپس اور ویب سائٹس کیسے کام کرتے ہیں۔ اسے پہلی بار ’انسپریشن‘اس وقت ملی جب اس نے اپنے والد کے ایک دوست کو ایپ ڈیولپمنٹ پر کام کرتے دیکھا۔ اس لمحے نے عزیر کے اندر تجسس پیدا ہوا۔‘‘ عُزیر کا کہنا ہے کہ ’’مجھے یہ جاننے کا بہت شوق تھا کہ سب کچھ کیسے کام کرتا ہے،اسی تجسس نے مجھے خود سیکھنے کی ترغیب دی۔
 
 
رپورٹ کے مطابق عزیر نے کوڈنگ اور ایپ /ویب ڈیولپمنٹ سیکھنے کیلئے  انٹرنیٹ کا سہارا لیا۔ یوٹیوب ٹیوٹو ریلز، آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز اور جدید کورسز اس کا کلاس روم بن گئے۔ گزشتہ چند سال میں اس نے ویب ڈیولپمنٹ اور موبائل ایپ ڈیولپمنٹ سے متعلق درجن سے زائد آن لائن کورسز مکمل کیے۔ عزیز کے مطابق ’’ شروعات آسان نہیں تھی۔میں کم عمر تھا اور کئی کانسپٹ سمجھنا مشکل تھے، لیکن چونکہ مجھے آئی ٹی میں حقیقی دلچسپی تھی، اس لئے میں نے ہار نہیں مانی۔‘‘عزیر نے اپنے سفر کا آغاز ہوٹل اور گاڑیوں کی بکنگ کے لیے چھوٹی ایپس بنا کر کیا۔ ان ایپس کا مقصد مقامی لوگوں کو گھر بیٹھے ہوٹل یا گاڑیاں بک کرنے کی سہولت دینا تھا۔ اس وقت کئی ہوٹل سے متعلق ایپس تصدیق کے مراحل میں ہیں اور جلد ہی ایپ اسٹورز پر دستیاب ہوں گی۔اے آئی کے بڑھتے ہوئے اثر سے متاثر ہو کر عزیر نے چیٹ بوٹ ڈیولپمنٹ میں بھی قدم رکھا۔ اب تک وہ کم از کم سات اے آئی چیٹ بوٹس بناچکا ہے، جو سادہ گفتگو سے لے کر یوٹیلٹی بیسڈ اسسٹنٹس تک مختلف نوعیت کے ہیں۔ عزیرنے دو اسکولوں کے لئے اسکول انفارمیشن سسٹم بھی تیار کیا ہے، جس کے ذریعے اسکول آن لائن حاضری، فیس مینجمنٹ، بقایاجات کی نگرانی اور ہوم ورک جمع کروانے جیسے امور کو ڈیجیٹل طریقے سے سنبھال سکتے ہیں۔ فی الحال یہ ایپس محدود استعمال کے لیے صرف مخصوص افراد کے لیے دستیاب ہیں۔ عزیر کا سب سے بڑا پروجیٹ’فری وینس Freevance‘ہے، جو فی الحال ویب پلیٹ فارم کے طور پر موجود ہے اور جلد ہی موبائل ایپ کے طور پر بھی لانچ کیا جائے گا۔ یہ ایک نوکمیشن ماڈل پر مبنی پلیٹ فارم ہے۔ یہاں صارفین صرف۱۰؍ یا۲۰؍ روپے کی معمولی فیس دے کر جابز کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔ یہاں گرافک ڈیزائن، لوگو ڈیزائن، ویب ڈیولپمنٹ اور دیگر آئی ٹی مہارتوں سے متعلق کام دستیاب ہیں۔عزیز کا کہنا ہے کہ ’’میرا مقصد یہ ہے کہ چھوٹے کاروباری افراد اور نوجوانوں پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔ ٹیکنالوجی مددگار ہونی چاہیے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK