پاکستان نے عندیہ دیا ہے کہ ایران اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ دوسرے مذاکراتی دور میں شرکت کرے گا، حالانکہ باضابطہ تصدیق تاحال نہیں ہوئی۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور جنگ بندی کے اختتام کے قریب پہنچنے کے باوجود سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
EPAPER
Updated: April 20, 2026, 9:31 PM IST | Islamabad
پاکستان نے عندیہ دیا ہے کہ ایران اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ دوسرے مذاکراتی دور میں شرکت کرے گا، حالانکہ باضابطہ تصدیق تاحال نہیں ہوئی۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور جنگ بندی کے اختتام کے قریب پہنچنے کے باوجود سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
پاکستان میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں باخبر ذرائع کے مطابق ایران اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ متوقع دوسرے مذاکراتی دور میں شرکت کرے گا۔ تاہم تہران کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی وفد کی اسلام آباد آمد منگل کو متوقع ہے، اور امکان ہے کہ اسی وفد کو دوبارہ بھیجا جائے گا جس نے رواں ماہ کے اوائل میں پہلے دور کے مذاکرات میں حصہ لیا تھا۔ اس وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف نے کی تھی، جبکہ عباس عراقچی بھی اس میں شامل تھے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان پر وحشیانہ حملہ، ۴؍قصبوں کے کئی گھروں کو تباہ کر دیا
دوسری جانب امریکی وفد کی قیادت ممکنہ طور پر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی وفد پیر کی رات یا منگل کو اسلام آباد پہنچے گا، جبکہ کچھ امریکی سیکوریٹی طیارے پہلے ہی شہر پہنچ چکے ہیں۔ اسلام آباد اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ یہاں دونوں ممالک کے درمیان انتہائی اہم مذاکرات کی میزبانی کی جا رہی ہے۔ محسن نقوی نے امریکی سفارت خانے کا دورہ کر کے سیکوریٹی انتظامات کا جائزہ لیا، جبکہ شہر اور قریبی راولپنڈی میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں اور تعلیمی ادارے عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ سے علاج کیلئے صرف ۷۰۰؍ مریض باہر جا سکے، نازک حالت میں ہزاروں مریض منتظر
یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان نافذ العمل دو ہفتوں کی جنگ بندی بدھ کو ختم ہونے والی ہے، جس سے صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔ اس سے قبل اپریل کے اوائل میں ہونے والے پہلے مذاکرات بے نتیجہ رہے تھے، تاہم انہی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی تھی۔ دوسری جانب کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب امریکہ نے ایک ایرانی جہاز کو خلیج عمان میں روک لیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جہاز ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا اور اب امریکی میرینز کے کنٹرول میں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کی فضائی حملوں کے باوجود ڈرون اور میزائل صلاحیت برقرار: رپورٹ
ایران نے اس اقدام کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کی دھمکی دی ہے، جس سے عالمی سپلائی چین اور توانائی کی منڈیوں پر اثرات کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف جنگ بندی میں توسیع ممکن ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں کسی بھی پیش رفت کا انحصار آئندہ چند دنوں پر ہے۔