Updated: April 20, 2026, 2:08 PM IST
| Washington
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے فضائی اور میزائل حملوں کے باوجود ڈرونز اور میزائلوں کی اہم صلاحیت برقرار رکھی ہوئی ہے، اخبار میں شائع کردہ جائزوں کے مطابق ایران نے جنگ سے پہلے اپنے ڈرون ہتھیاروں کا تقریباً۴۰؍ فیصد اور اپنے میزائل لانچروں کا ۶۰؍فیصد سے زائد حصہ بچا لیا ہے۔
ایرانی میزائل ۔ تصویر: ایکس
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی خفیہ اور فوجی حکام نے بتایا کہ ایران نے ہفتوں تک جاری رہنے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود اپنی فوجی طاقت کا بڑا حصہ محفوظ رکھا ہے اور ایک مضبوط تادیبی قوت برقرار رکھی ۔اخبار میں شائع کردہ جائزوں کے مطابق ایران نے جنگ سے پہلے اپنے ڈرون ہتھیاروں کا تقریباً۴۰؍ فیصد اور اپنے میزائل لانچروں کا۶۰؍ فیصد سے زائد"حصہ محفوظ رکھا ہے۔حکام نے بتایا کہ۸؍ اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے۱۰۰؍ سے زائد لانچر سسٹمز، جو غاروں اور بنکر میں چھپائے گئے تھے، دوبارہ حاصل کر لیے گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنی جنگی صلاحیت کو بحال کر رہا ہے۔
دریں اثناء ایران ڈپو اور زیر زمین سہولیات پر حملوں کے بعد ملبے تلے دبی میزائلوں کو بھی نکالنے کی کوشش کر رہا ہے، اور کچھ اندازوں کے مطابق وہ جنگ سے پہلے اپنے ہتھیاروں کا۷۰؍ فیصد تک ذخیرہ دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔اگرچہ ایران کے ہتھیار بنانے کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم امریکی حکام کا خیال ہے کہ ایران کے پاس آئندہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو یرغمال بنانے کی کافی صلاحیت موجود ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شمالی کوریا نےمتعدد بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا، جنوبی کوریا کا دعویٰ
بعد ازاں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران کی تادیبیحکمت عملی تیزی سے جغرافیہ اور غیر متناسب صلاحیتوں پر انحصار کرتی ہے۔اسرائیلی فوج کے سابق خفیہ افسر ڈینی سیٹرینووچ نے کہا، ’’اب سب جانتے ہیں کہ اگر مستقبل میں کوئی تنازع ہوا تو آبنائے ہرمزبند کرنا ایرانی نصابی کتاب کا پہلا سبق ہوگا۔‘‘اگرچہ امریکی جنگی جہاز آنے والے خطرات کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ تجارتی ٹینکروں کے پاس بہت کم دفاعی صلاحیت ہے۔ جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق، روس نے بھی اسٹریٹجک اثرات پر اپنی رائے دی ہے۔روسی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دیمتری میدویادیف نے کہا، ’’ایک بات یقینی ہے، ایران نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کا تجربہ کر لیا ہے۔ اسے آبنائے ہرمز کہتے ہیں۔ اس کی صلاحیت لامتناہی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران کا آبنائے ہرمز پر دوبارہ کنٹرول قائم ، ٹرمپ کا ’’بلیک میل ‘‘کے خلاف انتباہ
واضح رہےکہ ایران نے اب تک امریکی بحری اقدامات کے خلاف براہ راست کشیدگی میں اضافے سے گریز کیا ہے، جس میں ایک ناکہ بندی بھی شامل ہے جس نے سمندری تجارت کو درہم برہم کر دیا ہے۔تاہم امریکی حکام کے تبصرے کے مطابق سمندری تجارت ایران کی معاشی سرگرمیوں کا تقریباً۹۰؍ فیصد بنتی ہے، جس کا روزانہ تخمینہ۳۴۰؍ ملین ڈالر ہے، اور حالیہ دنوں میں اس کا زیادہ تر حصہ روک دیا گیا ہے۔