Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ سے علاج کیلئے صرف ۷۰۰؍ مریض باہر جا سکے، نازک حالت میں ہزاروں مریض منتظر

Updated: April 20, 2026, 11:00 AM IST | Mumbai

فلسطینی ہلال احمر نے اعلان کیا ہے کہ فروری۲۰۲۶ء کے اوائل میں رفح کراسنگ کو محدود پیمانے پر دوبارہ کھولے جانے کے بعد سے اب تک صرف ۷۰۰؍ مریض ہی علاج کے لیے غزہ پٹی سے باہر جا سکے ہیں جبکہ اس وقت بھی۱۸؍ ہزار سے زائد مریض اور زخمی طبی انخلاء کے منتظر ہیں۔

Thousands of patients are in critical condition in the Gaza Strip. Photo: INN
غزہ پٹی میں ہزاروں مریض نازک حالت میں ہیں۔ تصویر: آئی این این

فلسطینی ہلال احمر نے اعلان کیا ہے کہ فروری۲۰۲۶ء کے اوائل میں رفح کراسنگ کو محدود پیمانے پر دوبارہ کھولے جانے کے بعد سے اب تک صرف ۷۰۰؍ مریض ہی علاج کے لیے غزہ پٹی سے باہر جا سکے ہیں جبکہ اس وقت بھی۱۸؍ ہزار سے زائد مریض اور زخمی طبی انخلاء کے منتظر ہیں۔ہلال احمر کے ترجمان رائد النمس نے کہا کہ موجودہ انخلاء کی رفتار انتہائی سست ہے اور یہ بڑھتی ہوئی ضروریات کے حجم سے مطابقت نہیں رکھتی، انہوں نے طبی وسائل کی شدید کمی کے سائے میں غزہ پٹی میں صحت کے بحران کے مزید سنگین ہونے کے بارے میں خبردار کیا۔

یہ بھی پڑھئے: بدھ کو ایران امریکہ جنگ بندی کا آخری دن، تلخیوں کے باوجود اسلام آباد میں گفتگو

انہوں نے وضاحت کی کہ نازک حالت میں ہزاروں  مریض مناسب طبی دیکھ بھال نہ ملنے کے باعث موت کے دہانے پر ہیں۔ انہوں نے انخلاء کی فہرستوں میں اپنی باری کا انتظار کرنے والے مریضوں میں سے کئی کی اموات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم انسانی جانوں کے ضیاع کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں اور ایسے کئی مریض ہیں جو محض تاخیر کے باعث اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔رائد النمس نے بتایا کہ کیسز کا انتخاب طبی معیارات کے مطابق کیا جاتا ہے جن کا انحصار صحت کی نازک صورتحال پر ہوتا ہے، تاہم سیکور یٹی منظوریوں سے جڑی پیچیدہ کارروائیاں مریضوں کے باہر جانے میں رکاوٹ بن رہی ہیں جس کے نتیجے میں ان کی صحت مسلسل بگڑتی جا رہی ہے ۔یہ صورتحال کراسنگ کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کے سائے میں پیش آ رہی ہے جہاں قابض اسرائیل رفح کراسنگ کے فلسطینی حصے سمیت غزہ  پٹی کے تمام داخلی راستوں پر قابض ہے جس نے مریضوں کے لیے علاج کی خاطر بیرونِ ملک سفر کرنے کے امکانات کو محدود کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیل کے ذریعے پانی کے دو ٹھیکداروں کا قتل، یونیسیف کا برہمی کا اظہار

ہلال احمر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کرے تاکہ کراسنگز کو مستقل بنیادوں پر کھولنے کو یقینی بنایا جا سکے، طبی معاملات کو سیاسی رسہ کشی سے الگ رکھا جائے اور طبی انخلاء کے لیے محفوظ اور مستقل راستے فراہم کیے جائیں۔اس سلسلے میں غزہ واپس آنے والے شہریوں نے اطلاع دی ہے کہ انہیں شدید کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا جس میں گھنٹوں تک حراست اور تفتیش شامل تھی تب کہیں جا کر انہیں گزرنے کی اجازت دی گئی۔ واضح رہے کہ جنگ سے پہلے کراسنگ کے ذریعے سفر کی نقل و حرکت  اسرائیل کی براہ راست مداخلت کے بغیر کافی حد تک ہموار تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK