Updated: July 22, 2026, 9:59 PM IST
| Istanbul
برطانیہ کے ۱۲؍ سالہ آٹسٹک اور قوت گویائی سے محروم بچے جوشوا ہیرس نے یہ ثابت کر دیا کہ محبت کی زبان بولنے کے لیے الفاظ ضروری نہیں ہوتے۔ اپنے والد ڈین ہیرس کے ساتھ مل کر انہوں نے Cake Not Hate مہم شروع کی، جس کا مقصد برطانیہ میں بڑھتے اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کے ماحول کا محبت، احترام اور انسانیت سے جواب دینا ہے۔ مساجد میں جا کر اپنے ہاتھوں سے تیار کیے گئے کیک تقسیم کرنے والے اس بچے کی کہانی اب برطانیہ سے نکل کر دنیا بھر میں امید اور بین المذاہب ہم آہنگی کی علامت بن چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ مہم ترکی تک پہنچ گئی، جہاں جوشوا نے استنبول کی متعدد مساجد کا دورہ کر کے اپنی یکجہتی کا پیغام جاری رکھا۔
کبھی کبھی دنیا کو بدلنے کے لیے نہ کوئی بڑی تقریر درکار ہوتی ہے، نہ سیاسی طاقت اور نہ ہی بلند آواز۔ بعض دفعہ ایک مسکراہٹ، ایک کیک اور ایک معصوم دل نفرت کے مضبوط ترین حصار بھی توڑ دیتا ہے۔برطانیہ کے ۱۲؍ سالہ جوشوا ہیرس اس حقیقت کی زندہ مثال ہیں۔ آٹسٹک ہونے کے باعث وہ بول نہیں سکتے، مگر ان کے اعمال نے وہ پیغام دنیا تک پہنچایا ہے جو شاید ہزاروں تقاریر بھی نہ پہنچا سکیں۔جوشوا نے اپنے والد ڈین ہیرس کے ساتھ مل کر Cake Not Hate کے نام سے ایک منفرد مہم شروع کی۔ اس مہم کا مقصد برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے اسلاموفوبیا، نفرت انگیز واقعات اور مساجد پر حملوں کے بعد خوف میں مبتلا مسلم برادری کو یہ احساس دلانا تھا کہ نفرت سب کی آواز نہیں، بلکہ محبت اور انسانیت اب بھی زندہ ہے۔
اس مہم کے تحت جوشوا اپنے ہاتھوں سے تیار کیے گئے کیک مختلف مساجد میں لے جاتے ہیں، نمازیوں میں تقسیم کرتے ہیں اور بغیر ایک لفظ بولے محبت، احترام اور یکجہتی کا پیغام دیتے ہیں۔ ان کے والد کا کہنا ہے کہ یہ مہم کسی سیاسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور غلط فہمیوں کو ختم کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی۔ ابتدا میں کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ایک چھوٹے بچے کی یہ کوشش اتنی بڑی تحریک بن جائے گی، مگر وقت کے ساتھ ساتھ برطانیہ کی درجنوں مساجد اس مہم کا حصہ بنتی گئیں۔ آجCake Not Hate صرف ایک مہم نہیں بلکہ امید، رواداری اور بین المذاہب احترام کی علامت بن چکی ہے۔
حالیہ پیش رفت میں جوشوا اور ان کے والد برطانیہ سے باہر بھی اپنا پیغام لے گئے۔ گزشتہ چند روز کے دوران انہوں نے ترکی کے شہر استنبول کی متعدد تاریخی مساجد کا دورہ کیا، جہاں نمازیوں میں کیک تقسیم کیے اور محبت کا پیغام عام کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ نفرت کا جواب نفرت نہیں بلکہ محبت، احترام اور انسانیت ہے، اور یہی پیغام وہ دنیا کے ہر معاشرے تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ ٹی آر ٹی ورلڈ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈین ہیرس نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے یہ مہم اس وقت شروع کی جب برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ان کے مطابق جوشوا بول نہیں سکتے، لیکن وہ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، اور یہی ان کی زبان ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیند کا بادشاہ، دوسرے دور اقتدار میں ٹرمپ ۲۳؍ بار جھپکی لیتے نظر آئے
جوشوا کی کہانی سوشل میڈیا پر بھی لاکھوں افراد کو متاثر کر رہی ہے۔ مختلف ممالک کے صارفین انہیں انسانیت، ہمدردی اور مذہبی ہم آہنگی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ جب ایک غیر مسلم، آٹسٹک اور قوت گویائی سے محروم یہبچہ مسلمانوں کے لیے محبت کا پیغام لے کر نکل سکتا ہے تو معاشرے کے دیگر افراد بھی نفرت کے بجائے احترام اور مکالمے کا راستہ اپنا سکتے ہیں۔ دنیا ایسے وقت سے گزر رہی ہے جب مذہب، نسل اور شناخت کے نام پر تقسیم بڑھتی جا رہی ہے۔ ایسے ماحول میں جوشوا ہیرس کی خاموش جدوجہد یہ یاد دلاتی ہے کہ محبت کے لیے آواز کی نہیں، صرف ایک سچے دل کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک چھوٹے سے کیک نے وہاں امید پیدا کی جہاں نفرت اپنی جڑیں مضبوط کرتی دکھائی دے رہی تھی۔
خیال رہے کہ جوشو ااور ان کے والد ڈین مسلمان نہیں ہیں لیکن بڑھتے اسلاموفوبیا کے خلاف انہوں نے یہ مہم شروع کی ہے تاکہ دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے میں ایک ادنیٰ سے کوشش کرسکیں۔ برطانیہ کے باہر دونوں سعودی عرب ، یو اے ای، اور اب ترکی کا دورہ کرچکے ہیں۔