• Fri, 18 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیتن یاہو نے انتخابی مہم شروع کی، ایران، غزہ، لبنان پر جارحیت کا فخریہ تذکر

Updated: September 18, 2026, 2:09 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے اپنی لیکوڈ پارٹی کی انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے ایران، غزہ، لبنان اور شام میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا دفاع کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صرف ان کی جماعت ہی اسرائیل کی سلامتی کی ضمانت دے سکتی ہے، جبکہ خطے میں اسرائیلی حملوں اور غزہ میں جاری جنگ پر انہیں عالمی تنقید کا سامنا ہے۔

Netanyahu. Photo: INN
نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این

اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے اپنی لیکوڈ پارٹی کی انتخابی مہم کا آغاز ایک خطاب سے کیا، جس میں انہوں نے محصور غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی، لبنان اور شام کے بعض علاقوں پر اسرائیلی حملوں و قبضے اور ایران پر کارروائیوں کو اجاگر کیا۔ غزہ میں جنگی جرائم کے الزام میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو مطلوب نیتن یاہو کو ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر ہونے والے حملے کو روکنے میں اپنی حکومت کی ناکامی پر بھی تنقید کا سامنا ہے۔ تاہم جمعرات کو انہوں نے اصرار کیا کہ ’’ہم اور ہماری پارٹی ہی اسرائیل کی سلامتی کی ضمانت دے سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے ۲۰۲۳ء کے بعد ایران، لبنان، شام اور غزہ میں اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’مہم مکمل ہونی چاہیے؛ ہمیں ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا اور حزب اللہ و حماس کو مکمل طور پر تباہ کرنا ہوگا۔‘‘ نیتن یاہو نے اپنے سیاسی حریفوں پر ’’علاقائی رعایتیں‘‘ دینے کا ارادہ رکھنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے لبنان، شام اور غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کی موجودگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم زمین دینے کے بجائے حاصل کرتے ہیں۔‘‘ وزیرِ اعظم نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ انہوں نے ’’مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بدل دیا ہے‘‘ اور وعدہ کیا کہ وہ اسے دوبارہ بھی تبدیل کریں گے، تاہم انہوں نے اس کی کوئی تفصیل پیش نہیں کی۔

یہ بھی پڑھئے: پنک کو یونیسیف سفیر کے عہدے سے ہٹانے کی پٹیشن پر ۶۰؍ ہزار دستخط

نیتن یاہو اسرائیل کی تاریخ کی سب سے زیادہ انتہا پسند حکومت کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کے دور میں ملک نسل کشی اور متعدد جنگوں میں داخل ہوا، جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی صہیونی بستیوں کی تعمیر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل غزہ میں روزانہ نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے اور یک طرفہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ جنوبی لبنان میں بھی اسرائیلی حملے اور قبضہ برقرار ہے۔ نیتن یاہو پہلے سربراہِ حکومت ہیں جنہیں مجرمانہ مقدمے کا سامنا ہے۔ ان پر بدعنوانی کے کئی الزامات عائد ہیں، جن سے وہ انکار کرتے ہیں۔ واضح ہو کہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ۲۷؍ اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں سخت مقابلہ متوقع ہے۔ نیتن یاہو اور ان کے انتہائی دائیں بازو اور قدامت پسند مذہبی اتحادیوں کا اتحاد ان کے اہم حریف، مرکز پسند گادی آئزن کوٹ کے اتحاد کے مقابل ہوگا، جسے دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں تعلیمی آزادی شدید طور پرمحدود، حکومت کے اثر ورسوخ میں اضافہ: رپورٹ

۲۶؍ جون کو لبنان اور اسرائیل نے واشنگٹن میں امریکہ کی سرپرستی میں ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت لبنانی سرزمین سے اسرائیلی فوج کی مرحلہ وار واپسی اور خالی کیے گئے علاقوں میں لبنانی فوج کی تعیناتی کی بات کی گئی تھی۔ معاہدے کے باوجود اسرائیل جنوبی لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور اب بھی جنوبی علاقے کے بعض حصوں پر قابض ہے۔ ان میں کچھ علاقے کئی دہائیوں سے اسرائیلی قبضے میں ہیں، جبکہ بعض پر حالیہ جنگوں اور فوجی کارروائیوں کے دوران قبضہ کیا گیا۔ لبنان نے جمعرات کو بتایا کہ ۲؍ مارچ سے ۱۷؍ ستمبر کے درمیان اسرائیلی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد ۴؍ ہزار ۳۸۶؍ ہوگئی ہے، جبکہ ۱۲؍ ہزار ۴۰۷؍ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت کے مطابق ۸؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے مجموعی طور پر ۸؍ ہزار ۹۵۳؍ افراد ہلاک اور ۳۰؍ ہزار ۶۴۳؍ زخمی ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے غزہ سے مصر علاج کیلئے جانے والے مریضوں کی تعداد ۱۳۶؍ سے ۶۱؍ کردی

اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اسرائیل غزہ میں نسل کشی پر مبنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ہی مقبوضہ مغربی کنارے میں فوجی حملوں اور فلسطینیوں اور ان کی املاک کے خلاف آبادکاروں کے تشدد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ غزہ کے فلسطینی حکام کے مطابق نسل کشی شروع ہونے کے بعد سے تقریباً ۸۰؍ ہزار فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ خدشہ ہے کہ ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حقیقی ہلاکتوں کی تعداد غزہ کے حکام کے بتائے گئے اعداد سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے اور یہ تقریباً ۲؍ لاکھ تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ غزہ کی جنگ، مقبوضہ مغربی کنارے اور لبنان پر حملوں کے علاوہ اسرائیلی فوج نے گزشتہ سال سے ایران کے خلاف دو جنگیں بھی لڑی ہیں۔ اس نے یمن اور قطر پر حملے کیے، جبکہ شام میں تقریباً روزانہ زمینی دراندازی اور توپ خانے سے گولہ باری بھی جاری رکھی۔ اسرائیل کئی دہائیوں سے فلسطین، لبنان اور شام کے علاقوں پر قابض ہے اور ان علاقوں سے انخلا یا متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت دینے سے انکار کرتا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK