اسرائیلی حکومت نے رفح بارڈر کراسنگ کو محدود طور پر دوبارہ کھولنے کو یرغمالوں کی بازیابی سے مشروط کر دیا ہے۔ یہ اعلان امریکی دباؤ اور غزہ میں بڑھتے انسانی بحران کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 26, 2026, 3:02 PM IST | Jerusalem
اسرائیلی حکومت نے رفح بارڈر کراسنگ کو محدود طور پر دوبارہ کھولنے کو یرغمالوں کی بازیابی سے مشروط کر دیا ہے۔ یہ اعلان امریکی دباؤ اور غزہ میں بڑھتے انسانی بحران کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بنجامین نیتن یاہو کے دفتر نے اتوار کی رات (۲۵؍ جنوری) کہا کہ غزہ اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ کو صرف اسی صورت میں ’’محدود طور پر دوبارہ کھولنے‘‘ کی اجازت دی جائے گی جب آخری باقی ماندہ اسرائیلی یرغمالی کی لاش تلاش کرنے کے لیے کارروائی مکمل ہو جائے گی۔ یہ بیان امریکی ایلچیوں کے دورے کے بعد سامنے آیا، جنہوں نے مبینہ طور پر ہفتے کے آخر میں یروشلم میں ہونے والی بات چیت کے دوران اسرائیلی حکام پر کراسنگ دوبارہ کھولنے کیلئے زور دیا تھا۔ رفح کراسنگ کی دوبارہ کھولنے کا معاملہ، جو غزہ میں امداد کی ترسیل کیلئے ایک اہم راستہ ہے، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کیلئے پیش کئے گئے ابتدائی مرحلے کے منصوبے کا حصہ تھا۔ تاہم، یہ سرحدی گزرگاہ اس وقت سے بند ہے جب سے جنگ کے دوران اسرائیلی افواج نے اس پر کنٹرول سنبھالا تھا۔
عالمی لیڈران اور امدادی تنظیموں نے بارہا زور دیا ہے کہ مزید انسانی امدادی قافلوں کو غزہ تک رسائی دی جائے، کیونکہ یہ علاقہ دو سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے باعث شدید تباہی کا شکار ہے۔ علاقے کی فلسطینی آبادی کا انحصار طبی آلات، خوراک اور دیگر ضروری سامان پر ہے جو امداد کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے۔ بیان کے مطابق اسرائیل نے “صرف پیدل آمدورفت کیلئے، مکمل اسرائیلی تفتیشی نظام کے تحت کراسنگ دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس اقدام کا انحصار تمام زندہ یرغمالیوں کی واپسی اور حماس کی جانب سے تمام فوت شدہ یرغمالیوں کو تلاش کرنے اور واپس لانے کی صد فیصد کوشش پر ہوگا، بیان میں ایکس پر کہا گیا۔