Inquilab Logo Happiest Places to Work

’جنگ بندی‘ کے باوجود لبنان پر پھر اسرائیلی حملہ

Updated: June 08, 2026, 12:22 PM IST | Beirut

فوج کے اعلیٰ افسران سمیت تقریباً ۱۲؍ افراد جاں بحق، لبنانی صدر جوزف عون اور وزیراعظم نواف سلام نے حملے کی مذمت کی۔

Locals survey the destruction after Israeli attacks on Lebanon. Photo: INN
لبنان پر اسرائیلی حملوں کے بعد مقامی افراد تباہی کا جائزہ لیتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

سنیچر کے روز اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کی دھجیاں اڑاتے ہوئے جنوبی لبنان میں فضائی حملہ کردیا جس میں فوج کے اعلیٰ افسران سمیت کم ۱۲؍ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ تقریباً ۲۲؍ افردا زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حملہ دونوں ممالک کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی مشروط جنگ بندی پر اتفاق رائے کے دو ہی دنوں بعد ہوا ہے۔ لبنانی فوج نے بتایا کہ خردالی-نباتیہ روڈ پر ایک فوجی گاڑی پر ہونے والے اسرائیلی حملے میں ایک بریگیڈیئر جنرل، ایک کیپٹن اور ایک سپاہی کی موت ہو گئی۔ 
حملے کو جائز ٹھہراتے ہوئے اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز ہونے والا حملہ ایک ’’فعال جنگی علاقے‘‘ میں ہوا تھا۔ فوج نے یہ بھی کہا کہ `اس واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ جبکہ دوسری جانب لبنانی فوج کا کہنا ہے کہ ’’جان بوجھ کر اور بار بار کئے جانے والے سفاکانہ اسرائیلی جارحیت کا جاری رہنا، حل تک پہنچنے کی تمام کوششوں کو ناکام بنانے کے مقصد سے ہے۔ ‘‘
لبنان کے صدر جوزف عون نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے جہاں اسے `’’لبنان کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین و معیارات کی سنگین خلاف ورزی‘‘ قرار دیا ہے وہیں لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے اسے ’’گھناؤنی واردات اور تمام لبنانیوں پر حملہ‘‘ قرار دیا ہے۔ 
وزیراعظم سلام نے حملے میں ہلاک ہونے والے بریگیڈیئر جنرل وسام صبرا، کیپٹن ایلی خوری اور سپاہی حسین گوزال کے اہل خانہ اور رفقاء کے ساتھ ساتھ لبنانی فوج سے تعزیت کا اظہار کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ہندوستان میں بائیک چلاتے اور شیرکی سواری کرتے اپنی اے آئی ویڈیو شیئرکی

دوسری جانب حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں گھسنے والی اسرائیلی فوج اور مرکاوہ ٹینک پر حملے کیے اور ساتھ ہی ہفتے کو صہیونی فوج کے خلاف ۲۲؍ آپریشنز کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ ان کے مطابق ان جھڑپوں کے دوران قابض اسرائیل کا ایک فوجی افسر اور ایک سپاہی واصلِ جہنم ہو گیا جبکہ کئی دیگر غاصب فوجی شدید زخمی ہوئے ہیں۔ عبرانی ٹی وی چینل ”۱۲“ نے اعتراف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں ایک دھماکہ خیز ڈرون طیارے کے حملے میں ہلاک ہونے والا فوجی اسرائیلی فوج کی ”ایجوز“ کمانڈو یونٹ کا کپتان رینک کا افسر تھا۔ اس کے علاوہ جنوبی لبنان میں ہی برپا ہونے والے مسلح معرکوں کے دوران ایک اور اسرائیلی فوجی ہلاک کئی دیگر زخمی ہوئے ہیں جن میں سے بعض کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ 
حزب اللہ کے دعوے کے مطابق ۲؍مارچ ۲۰۲۶ء سے لے کر اب تک جنوبی لبنان پر مسلط کردہ سفاکانہ جارحیت کے منہ توڑ جواب میں اس کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں کے نتیجے میں اسرائیل کے تقریباً ۲۹؍ فوجی افسر اور سپاہی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً ۱۲۵۰؍ افسران اور اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: خلیجی ممالک کے جنگی نقصان کی تلافی کیلئے ایرانی اثاثوں کے استعمال پرغور

یاد رہے کہ امریکہ کی ثالثی میں واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ بیان کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے بدھ کو جنگ بندی پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم اس کے حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا ’مکمل خاتمہ‘ ضروری قرار دیا گیا ہے۔ حزب اللہ نے امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہوئے جنگ بندی کے معاہدے کو بھی مسترد کردیا ہے۔ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نعیم قاسم نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کو شرم ناک قرار دیا۔ نعیم قاسم نے ٹی وی پر پڑھ کر سنائے گئے ایک تحریری بیان میں مذاکرات کو بے معنی، شرم ناک اور توہین آمیز قرار دیا۔ 
اسرائیل کا لبنان سے داغے گئے دو میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ
اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لبنان سے اسرائیلی علاقے کی جانب داغے گئے دو میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ واقعہ یفتاح اور راموت نفتالی کے علاقوں میں خطرے کے سائرن بجنے کے بعد پیش آیا، جس کے بعد فضائی دفاعی نظام کو متحرک کیا گیا۔ دوسری جانب حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں بدستور جاری ہیں، جبکہ حزب اللہ نے ان تجاویز کو مسترد کر دیا ہے جن میں جنگ بندی کو اس کے غیر مسلح ہونے سے مشروط کیا گیا تھا۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی مستقل جنگ بندی سے قبل اسرائیل کو اپنی فوجی کارروائیاں بند کرنا ہوں گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK