Updated: July 17, 2026, 10:09 PM IST
| Tel Aviv
عبرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے انتہا پسند قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کی فلسطینی قیدیوں کے لیے مگرمچھوں سے گھری جیل بنانے کی متنازع تجویز پر قانونی پیش رفت کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کی وزیر نے مگرمچھوں کی قانونی درجہ بندی میں تبدیلی کے ایک حکم نامے پر دستخط کیے ہیں، جس کے بعد بعض سرکاری اداروں کو مخصوص شرائط کے تحت انہیں اپنی تنصیبات میں رکھنے کی اجازت مل سکتی ہے۔
انتہا پسند اسرائیلی وزیر اتامار بین گوئیر۔ تصویر: ایکس
اسرائیل میں فلسطینی قیدیوں کے لیے مگرمچھوں سے گھری ہوئی جیل بنانے کی متنازع تجویز ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں عبرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے اس منصوبے کی راہ میں حائل ایک اہم قانونی رکاوٹ دور کر دی ہے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ماحولیاتی تحفظ کی وزیر ایڈٹ سلمین نے ایک ایسے حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت مگرمچھوں کی ’’منظم جنگلی جانور‘‘ (Regulated Wild Animals) کے طور پر دوبارہ درجہ بندی کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس تبدیلی کے بعد اسرائیل کی جیل سروس سمیت بعض سرکاری اداروں کو مخصوص شرائط کے تحت مگرمچھ اپنی تنصیبات میں رکھنے کی قانونی اجازت مل سکتی ہے۔
چینل ۷؍ کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل مگرمچھوں کو محفوظ جنگلی جانور قرار دیا گیا تھا اور انہیں صرف لائسنس یافتہ چڑیا گھروں میں رکھنے کی اجازت تھی، جس کے باعث مجوزہ منصوبے پر قانونی عمل درآمد ممکن نہیں تھا۔ دوسری جانب چینل ۱۳؍ نے بتایا کہ یہ قانونی تبدیلی اسرائیل نیچر اینڈ پارکس اتھاریٹی کی جانب سے منصوبے پر اٹھائے گئے اعتراضات کے بعد عمل میں لائی گئی۔ عبرانی میڈیا نے اس منصوبے کو ’’مگرمچھوں والی جیل‘‘ کا نام دیا ہے۔ یہ تجویز تقریباً چھ ماہ قبل اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے پیش کی تھی۔ ان کی تجویز کے مطابق فلسطینی قیدیوں کے لیے ایک ایسی انتہائی حفاظتی جیل تعمیر کی جائے جس کے اطراف مگرمچھوں سے بھری آبی خندقیں ہوں، تاکہ فرار کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل امریکہ میں عوامی رائے کی جنگ ہار رہا ہے: نائب صدر
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی جیل سروس نے منصوبے کی فزیبلٹی کا ابتدائی جائزہ بھی شروع کر دیا ہے، جس میں مگرمچھوں کی دیکھ بھال، ان کے انتظام اور حفاظتی تقاضوں کا مطالعہ کرنے کے لیے چڑیا گھروں کے دورے بھی شامل ہیں۔ چینل ۷؍ کے مطابق بعض حکام کا خیال ہے کہ اگر اس منصوبے پر عمل درآمد کیا گیا تو مگرمچھوں سے گھری حفاظتی خندق روایتی سیکوریٹی انتظامات کے مقابلے میں اخراجات کم کرنے اور جیل کی حفاظت مزید سخت بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ایک کم عمر مگرمچھ کی قیمت تقریباً ۸؍ ہزار امریکی ڈالر جبکہ ایک بالغ مگرمچھ کی قیمت ۲۰؍ ہزار امریکی ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ تاہم اسرائیل کی جیل سروس نے اس منصوبے یا اس کے ممکنہ مقام کے بارے میں فوری طور پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا، نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ آیا اس تجویز پر عملی طور پر عمل درآمد کیا جائے گا یا نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: نصف ڈیموکریٹ کا اسرائیل کو امریکی فوجی امداد کے خلاف ووٹ
فلسطینی ذرائع کے مطابق اس وقت تقریباً ۹۵۰۰؍ فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ فلسطینی اور متعدد اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ بہت سے فلسطینی قیدیوں کو قید کے دوران بھوک، تشدد، طبی سہولیات کی کمی اور دیگر سخت حالات کا سامنا ہے، جبکہ ان حالات کے نتیجے میں متعدد قیدیوں کی ہلاکت بھی ہو چکی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام ماضی میں ایسے الزامات کی مختلف مواقع پر تردید یا ان کے بارے میں مختلف مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں۔