امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل امریکہ میں عوامی رائے کی جنگ ہار رہا ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ملکی حکومتیں امریکی پالیسی کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہیں، تاہم ان سے امریکی لیڈروں کے متاثر ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔
EPAPER
Updated: July 16, 2026, 10:13 PM IST | Washington
امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل امریکہ میں عوامی رائے کی جنگ ہار رہا ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ملکی حکومتیں امریکی پالیسی کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہیں، تاہم ان سے امریکی لیڈروں کے متاثر ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ اسرائیل امریکہ میں عوامی رائے کی جنگ ہار رہا ہے،امریکی نائب صدر نے ایران مذاکرات کو پٹڑی سے اتارنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ناقدین ’’جہنم میں جائیں‘‘اور اصرار کیا کہ وہ وہی کرتے رہیں گے جو انہیں امریکہ کے لیے صحیح لگتا ہے، اس تعلق سے انہوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے عوامی سطح پر کیے گئے اسی نوعیت کے تبصروں کا حوالہ دیا۔ بعد ازاں وینس نے خبردار کیا کہ اگرچہ غیر ملکی حکومتیں اکثر امریکی پالیسی کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہیں، لیکن تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب امریکی لیڈربیرونی اثر و رسوخ کو اپنے فیصلے متاثر کرنے کی اجازت دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ ان کےحالیہ مذاکرات کو ناکام بنانے کے لیے ایک غیر ملکی اثر و رسوخ کی مہم کو مالی امداد فراہم کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ملائیشیا میں مقیم کسی بھی اسرائیلی شہری کو ملک بدر کردیا جائے گا: وزیراعظم
دریں اثناء وینس نے پوڈکاسٹ ’’دی جو روگن ایکسپیریئنس‘‘ پر کہا، ’’ایک حقیقی غیر ملکی اثر و رسوخ کی مہم کو اس معاہدے کو تباہ کرنے کے لیے امداد فراہم کی جا رہی ہے جسے میں آگے بڑھا رہا تھا،اپنی اس بات کے ثبوت کے طور پر انہوں نے پیر کو ٹائم میگزین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا۔انہوں نے کہا ، ’’ان میں سے بہت سے لوگ جو وہ رقم وصول کر رہے تھے، وہ مجھ پر مکمل طور پر بےایمانی سے حملہ کر رہے تھے۔ آپ جانتے ہیں، میرا اس کا جواب یہ ہےجہنم میں جائیں۔ میں وہ کروں گا جو مجھے امریکی عوام کے لیے کرنا ہے۔میں سب سے پہلے امریکیوں کی نمائندگی کرتا ہوں، اور اسی طرح میں نے اس عہدے کو نبھانے کی کوشش کی ہے۔‘‘
علاوہ ازیں وینس نے ٹائم میگزین کے مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ مہم کے ایک سابق کارکن، جسے ان کے مطابق ’’اسرائیلی حکومت کے اندر بعض عناصر‘‘ نے معاوضہ دیا تھا، نے ایران سے مذاکرات کرنے پر ان کے خلاف حملے کیے ہیں۔انہوں نے کہا ،’’وہ جنونی انداز میں مجھ پر حملہ کر رہے ہیں، کہہ رہے ہیں کہ ہمیں ایران سے مذاکرات نہیں کرنے چاہئیں۔‘‘مزید برآں انہوں نے کہا کہ وہ ہر طرح کے شبہ سے بالاتر جانتے ہیں کہ اسرائیلی حکومت کے اندر موجود افراد نے امریکی پالیسی کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ وہ فوجی مہم جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین فائلز: جیفری سے بل گیٹس کے تعلقات پر وارن بفیٹ گیٹس فاؤنڈیشن سے علاحدہ
جب ایپسٹین کے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے تعلق کے بارے میںنقطہ نظرپوچھاگیا تو وینس نے جواب دیا، ’’ہاں، موساد یا سی آئی اے یا کوئی اور ڈارک اسٹیٹ، چاہے امریکہ میں ہو، اسرائیل میں ہو یا کسی اور ملک میں۔ اس کے واضح طور پر اسرائیلی انٹیلیجنس کے اعلیٰ ترین سطحوں سے تعلقات تھے۔‘‘وینس نے مزید کہا کہ ایپسٹین اسرائیلی ڈیپ اسٹیٹ کے ان عناصر سے منسلک دکھائی دیتاتھا جو ِ بائیں بازو سے تعلق رکھتا تھا۔انتظامیہ کے ایپسٹین معاملے کو سنبھالنے کے بارے میں وینس نے کہا، ’’اگر لوگ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم نے ایپسٹین پولیس کو غلط طریقے سے سنبھالا، خاص طور پر اس کی مواصلات کو۔‘‘
تاہم وینس نےبتایا کہ امریکی محکمہ انصاف نے حال ہی میں ایپسٹین فائلس شفافیت ایکٹ کے تحت جنوری میں۳۰؍ لاکھ سے زیادہ صفحات جاری کیے تھے۔ واضح رہے کہ ایپسٹین ۲۰۱۹ء میں نیویارک سٹی کی جیل میں جنسی اسمگلنگ کے الزامات پر مقدمے کا انتظار کرتے ہوئے مردہ پایا گیاتھا۔