Updated: September 03, 2026, 12:00 PM IST
| London
برطانیہ میں ۵۵؍ ہزار سے زائد افراد نے وزیر اعظم سے اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی کے حوالے سے جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ ، ایک پٹیشن میں اینڈی برنہم کی حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے حقوق کو برقرار رکھے اور غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کے حوالے سے احتساب کو یقینی بنائے۔
برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنہم۔ تصویر: آئی این این
فلسطین حامی گروپوں نے بدھ کو۵۵؍ ہزار سے زائد دستخطوں پر مشتمل ایک عرضی برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم کے حوالے کی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ وہ غزہ میں نسل کشی پر اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرائیں۔امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر شیئر کی گئی ویڈیو فوٹیج میں فلسطین یکجہتی مہم (پی ایس سی) کی نائب ڈائریکٹر ریوکا برنارڈ، برٹش فلسطینی کمیٹی کی ڈائریکٹر سارہ حسینی، اور اسرائیلی اقدامات کی کھلی نقاد برطانوی معروف اداکارہ جولیٹ اسٹیونسن کو ڈاؤننگ اسٹریٹ میں برنہم کے دفتر میں پٹیشن پیش کرتے دکھایا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ”آر ایس ایس کی جانب سے لاحق خطرات حقیقی ہیں“: برطانیہ میں موہن بھاگوت کے بائیکاٹ کا مطالبہ
بعد ازاں ویڈیو میں برنارڈ نے کہا کہ وہ برنہم سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون اور فلسطینی عوام کے حقوق کو برقرار رکھیں اور اسرائیل کو اس نسل کشی پر جوابدہ ٹھہرائیں ،جو وہ کر رہا ہے، یہ ایک جاری نسل کشی ہے جو وہ مسلسل کر رہا ہے۔‘‘ جبکہ حسینی نے کہا کہ قبضے، نسل پرستی (اپارتھیڈ) اور نسل کشی کے حوالے سے ٹکڑوں میں کوئی نقطہ نظر نہیں ہو سکتا۔انہوں نے مزید کہا، ’’تو آج کی یہ پٹیشن درحقیقت ایک یاد دہانی ہے کہ وسیع تر برطانوی عوام بہت گہری نظر رکھیں گے کہ آیا یہ نئی حکومت بامعنی پالیسی تبدیلی کا عہد کر سکتی ہے جو واقعی احتساب طویل التوا انصاف فراہم کر سکے جس کے فلسطینی مستحق ہیں۔‘‘ مزید برآں اپنی طرف سے، اسٹیونسن نے کہا،’’ہم اینڈی برنہم اور ان کی حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ برطانیہ کی اس معاملے پر پوزیشن تبدیل کریں، کیونکہ ہم نے کیئر سٹارمر (سابق وزیراعظم) کو اس کے ساتھ ملی بھگت کرتے دیکھا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران امریکہ مذاکرات کی بحالی کیلئے کوششیں جاری ہیں : قطر
واضح رہے کہ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اکتوبر۲۰۲۳ء سے اب تک غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی نے کم از کم۷۳۴۷۰؍ فلسطینیوں کو شہید اور۱۷۴۵۴۰؍ دیگر کو زخمی کیا ہے۔ جن میں زیادہ تر متاثرین خواتین اور بچے ہیں، جبکہ غزہ کا تقریباً ۹۰؍ فیصد شہری انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔