امریکی صدر کو کھلا چیلنج، کہا: ہم جانتے ہیں کہ واشنگٹن کے سامنے کیسے ڈٹ کر رہنا ہے۔
EPAPER
Updated: August 10, 2026, 9:35 AM IST | Tel Aviv
امریکی صدر کو کھلا چیلنج، کہا: ہم جانتے ہیں کہ واشنگٹن کے سامنے کیسے ڈٹ کر رہنا ہے۔
اسرائیل نے اتوار کو ایک بار پھر واضح کردیا کہ اسے امن منظور نہیں۔ وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے غزہ کیلئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کے منصوبہ کومسترد کرتے ہوئےیہ کہہ کر غزہ سے فوجیں واپس نہ بلانے کا اعلان کیا ہے کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ امریکی صدر کے سامنے کس طرح اپنے موقف پر ڈٹے رہنا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اتوار کو کابینہ کے اجلاس میںاعلان کیا کہ ’’اسرائیل(ٹرمپ کی)۱۵؍ نکاتی دستاویز کو مسترد کرتا ہے۔‘‘ واضح رہے کہ حماس نے اس منصوبہ کو منظور کرلیا ہے اور غیر مسلح ہونےکیلئے بھی تیار ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج اس وقت تک کسی قسم کی واپسی نہیں کرے گی جب تک حماس کو حقیقی طور پر غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا۔ صہیونی وزیراعظم نے کہا کہ ان کی فوج اپنے جوانوں اور اسرائیلی شہریوں کے خلاف خطرات کو ناکام بنانے کا سلسلہ بھی جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق اسرائیل اس معاملے پر امریکی حکومت سے بات چیت کر رہا ہے۔نیتن یاہو نے کہاکہ ’’اُن(امریکہ) کے پاس کچھ تجاویز ہیں۔ میں سے کچھ ہمیں قابل قبول ہیں اور کچھ قابل قبول نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ان معاملات پر اپنے مؤقف پر کیسے قائم رہنا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: سابق صدر جو بائیڈن کا کینسر پھیل گیا، شدید تکلیف میں مبتلا: ہنـٹر بائیڈن
اس خبر کے لکھے جانے تک اسرائیل کی ہٹ دھرمی پر وائٹ ہاؤس سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ٹرمپ نے۳۰؍ جولائی کو ایک ’تاریخی‘ معاہدے کا اعلان کیا تھا، جس میں ’حماس اور غزہ میں موجود تمام دیگر مسلح گروپوں کو مکمل طور پر غیر مسلح‘ کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ انہوں نے اسے ’پائیدار امن اور سلامتی کی جانب ایک اہم قدم‘ قرار دیا تھا۔
۷۳۳۰۰؍فلسطینی شہریوں کا اسرائیل نےاکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد جنگ کے نام پر قتل عام کیا۔
نیتن یاہو کی نظر اکتوبر کے الیکشن پر
اسرائیلی وزیر اعظم کے سابق معاون مچل بارک کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے غزہ منصوبے کو عوامی طور پر مسترد کرنا بڑی حد تک آئندہ انتخابات سے جڑا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ حکومت کی میعاد چند ماہ کی بچی ہے اور اکتوبر میں اسرائیل میں الیکشن ہونے ہیں۔ مچل بار کے مطابق یہ قدم واشنگٹن کے بجائے نیتن یاہو نے اپنے سیاسی حامیوں کو مدنظر رکھ کر اٹھایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ناگاساکی: دنیا میں جاری کشیدگی کے درمیان جوہری بم حملےکی ۸۱؍ ویں یاد گاری تقریب
حماس کا منصوبہ پر عمل درآمد کا مطالبہ
نیتن یاہو کے اعلان کے بعد حماس نے ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کیلئے ۱۵؍ نکاتی منصوبے پر بدستور قائم ہے۔حماس نے کہا کہ اب ترجیح معاہدہ پر مکمل عمل درآمد ہے، جس میں فلسطینیوں کے خلاف حملوں کا مکمل خاتمہ، اسرائیلی فوج کی واپسی، سرحدی گزرگاہوں کو کھولنا اور امداد کی بحالی، رہائش کے سامان اور تعمیر نو کیلئے درکار اشیاءکو غزہ میں داخل ہونے دینا شامل ہے۔ حماس نے ثالثوں اور اسرائیل کی طرف سے ضمانت دینے والے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ’’اپنی ذمہ داری نبھائیں ‘‘ اور ایسی کسی بھی ’’خلاف ورزی یا خلاف ورزیوں‘‘ کو روکیں جو امن مساعی کو پٹری سے اتارتی ہے۔