Updated: August 09, 2026, 10:00 PM IST
| Nagasaki
جاپان کے شہر ناگاساکی میں دنیا میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے درمیان امریکی جوہری بم حملے کی ۸۱؍ویں یادگاری تقریب کا انعقادہوا، اس دوران جوہری ہتھیاروں پر نئی بحث کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے جو ملک کے طویل عرصے سے جاری امن پسند موقف کو چیلنج کر رہا ہے۔
جاپان کے شہر ناگاساکی نے مشرق وسطیٰ کے جاری تنازع اور روس-یوکرین جنگ کے دوران اتوار کو امریکہ کی طرف سے اس شہر پرجوہریبم گرانے کی۸۱؍ ویں یاد گار منائی، اس دوران جوہری ہتھیاروں پر نئی بحث کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے جو ملک کے طویل عرصے سے جاری امن پسند موقف کو چیلنج کر رہا ہے۔ ناگاساکی کے میئر شیرو سوزوکی نے جنوب مغربی شہر پر حملے کی سالانہ یادگاری تقریب میں پڑھے گئے امن کے اعلامیے میں کہا گیا کہ جوہری ہتھیارضروری برائی، نہیں بلکہ مطلق برائی ہیں، اور کبھی بھی انسانیت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں رہ سکتے۔ جبکہ وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے جمعرات کو ہیروشیما کی یادگاری تقریب میں اپنے اس پیغام کو دہرایا کہ جاپان اپنے تین غیر جوہری اصولوں پر کاربند ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان، سعودی اور ترکی کا دفاعی معاہدہ ایران کیخلاف نہیں ہے: خاقان فیدان
مقامی وقت کے مطابق صبح۱۱ بج کر ۲؍ منٹ پرجب امریکی بمبار طیارے نے ’’فیٹ مین‘‘ نام کا پلوٹونیم آلہ ناگاساکی پر گرا کر دھماکہ کیا تھا، ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی ۔ واضح رہے کہ یہ یادگاری تقریب ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مشرق وسطیٰ کا تنازع اور روس-یوکرین جنگ عالمی سطح پربے چینی پیدا کررہی ہے۔سوزوکی نے جوہری طاقتوں اور جوہری روک تھام پر انحصار کرنے والے ممالک کو جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے سے خبردار کیا، اور اشارہ کیا کہ اب بھی۱۲۰۰۰؍ سے زائد جوہری وارہیڈز موجود ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے مشرق وسطیٰ اور یوکرین کے تنازعات پر تشویش کا اظہار کیا، جہاں جوہری طاقتیں روس اور امریکہ ملوث ہیں۔علاوہ ازیں تاکائیچی نے کہا کہ اس عہد کے تحت کہ ناگاساکی جوہری حملے کا شکار ہونے والا آخری مقام رہے، اور جنگ میں جوہری تباہی کا سامنا کرنے والے واحد ملک کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے، جاپان ایسے ہتھیاروں سے پاک دنیا کے حصول کے لیے ’’حقیقت پسندانہ اور عملی‘‘ کوششوں کو فروغ دے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایٹم بم حملےکی تباہ کاری کے بارے میں پوری دنیا میں درست تفہیم کو فروغ دینے کی اہمیت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے اعلیٰ جنرل ایران جنگ سے نکلنے کے راستے کی تلاش میں؛ وسیع تر جوابی کارروائی کا خطرہ برقرار
اس سال کی یادگاری تقریب اس وقت ہو رہی ہے جب جاپان کے طویل عرصے سے چلے آ رہے تین غیر جوہری اصولوں،جوہری ہتھیاروں کی پیداوار، قبضہ یا اجازت نہ دینےپر نظرثانی کی بحث تیز ہو رہی ہے۔گزشتہ ماہ، وزیر دفاع شنجیرو کویزومی نے کہا کہ ٹوکیو کو جوہری ہتھیاروں پر بحث کی ضرورت ہے، کیونکہ کچھ یورپی ممالک زیادہ جوہری روک تھام کے خواہاں ہیں۔
ذہن نشین رہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران۶؍ اگست۱۹۴۵ء کو ہیروشیما پر ایٹم بم حملے میں اندازاًایک لاکھ ۴۰؍ ہزار افراد ہلاک ہوئے، جبکہ تین دن بعد ناگاساکی شہر پر گرائے گئے ایٹم بم سے اندازاً۷۴؍ افراد جاں بحق ہوئے۔ نتیجے میں جاپان نے۱۵؍ اگست کو ہتھیار ڈال دیے، جس کے ساتھ دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ ہوگیا۔