Updated: August 09, 2026, 9:59 PM IST
| Washington
سابق امریکی صدر بائیڈن کے بیٹے ہنـٹر بائیڈن نے بتایا کہ جو بائیڈن کا کینسر پھیل گیا ہے، جس سے انہیں شدید تکلیف ہو رہی ہے، حالانکہ بائیڈن اور ان کے وہائٹ ہاؤس مشیروں پر ان کی صحت کے مسائل کو چھپانے کے الزامات بھی لگتے رہے، خاص طور پر اس وقت جب انہوں نے اپنے جانشین ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف تباہ کن مباحثے کے بعد دوبارہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔
سابق امریکی صدر جو بائیڈن۔ تصویر: ایکس
سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ پروسٹیٹ کینسر جو بائیڈن کے جسم کے دیگر حصوں میں پھیل چکا ہے اور شدید تکلیف کا باعث بن رہا ہے۔ بعد ازاں جمعہ کو بی بی سی کو دیے گئے ایک مفصل انٹرویو میں ہنٹر بائیڈن جذباتی ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ اپنے والد کی صحت دیکھنا انتہائی مشکل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کینسر پھیل کر ان کی ہڈیوں تک جا پہنچا ہے، جو بہت تکلیف دہ ہے اور کئی حوالوں سے کمزور کر دینے والا ہے۔ ہنٹر نے کہا کہ یہ تشخیص خاندان کے لیے خاص طور پر مشکل رہی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ملازمت ختم ہونے کے بعد ۶۰؍ دن کی مہلت ختم کرنے کی تجویز
واضح رہے کہ ۸۳؍سال کی عمر میں بائیڈن امریکی صدارت سنبھالنے والے سب سے معمر شخص تھے، اور ان کی عمر ان کے چار سالہ دورِ صدارت میں ایک بڑی تشویش کا باعث رہی۔ تاہم بائیڈن اور ان کے وہائٹ ہاؤس مشیروں پر ان کی صحت کے مسائل کو چھپانے کے الزامات بھی لگتے رہے، خاص طور پر اس وقت جب انہوں نے اپنے جانشین ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف تباہ کن مباحثے کے بعد دوبارہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا۔ یا د رہے کہ جون۲۰۲۴ء میں ٹرمپ کے خلاف مباحثے میں ناقص کارکردگی اور ڈیموکریٹس کی طرف سے دباؤ کے بعد بائیڈن صدارتی دوڑ سے دستبردار ہو گئے تھے۔ ٹرمپ نے بائیڈن کے متبادل امیدوار، اس وقت کی نائب صدر کملا ہیرس کو شکست دی۔ جبکہ سابق صدر نے گزشتہ سال مئی میں اپنے کینسر کی تشخیص کا اعلان کیا تھا، جو وہائٹ ہاؤس چھوڑنے کے چار ماہ سے بھی کم عرصہ بعد تھا۔