اسرائیل کے غیر حتمی انتخابات کے بعد آئزنکوٹ نے وسیع نئی حکومت بنانے کا عزم ظاہر کیاہے، یشار لیڈر نے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ۴؍ اصولوں کی بنیاد پر شامل ہوں کیونکہ کسی بھی اہم بلاک نے پارلیمانی اکثریت حاصل نہیں کی۔
EPAPER
Updated: November 02, 2026, 2:04 PM IST | Tel Aviv
اسرائیل کے غیر حتمی انتخابات کے بعد آئزنکوٹ نے وسیع نئی حکومت بنانے کا عزم ظاہر کیاہے، یشار لیڈر نے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ۴؍ اصولوں کی بنیاد پر شامل ہوں کیونکہ کسی بھی اہم بلاک نے پارلیمانی اکثریت حاصل نہیں کی۔
اسرائیلی اپوزیشن یشار پارٹی کے لیڈر گادی آئزنکوٹ نے سنیچر کو کہا کہ وہ ایک وسیع نئی حکومت بنانے کے لیے کام کریں گے اور اس طرح ایک اور انتخاب کرانے کی ضرورت کو ٹالیں گے۔ وائی نیٹ کے مطابق اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ سے ملاقات کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں، آئزنکوٹ نے منگل کے غیر حتمی پارلیمانی انتخابات کے بعد اپنی اتحادی شرائط اور ترجیحات کا خاکہ پیش کیا۔انہوں نے کہا، ’’ان اصولوں کی بنیاد پر، میں قومی مفاد کے لیے پرعزم ایک وسیع صیہونی حکومت قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔‘‘آئزنکوٹ نے مستقبل کے اتحاد میں شامل ہونے کے لیے چار شرائط کو دہرایا، ’’اسرائیل کو ایک یہودی، جمہوری، لبرل اور مساوات پسند ریاست کے طور پر تسلیم کرنا؛ اسرائیل کے اعلان آزادی کی اقدار سے وابستگی؛ تمام اسرائیلی شہریوں کے لیے لازمی فوجی، قومی یا شہری خدمت؛ اور حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر تسلیم کرنا جس کی غزہ میں فوجی اور حکومتی صلاحیتوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔‘‘انہوں نے کہا، ’’ہم جو حکومت قائم کریں گے اس کا دروازہ ہر اس منتخب عہدیدار کے لیے کھلا ہوگا جو ان اصولوں کو قبول کرتا ہے اور اس موقع پر کھڑا ہونے کے لیے تیار ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: الخلیل: اسرائیلی فوجی لاک ڈاؤن، مسماری کا نواں دن، ۵؍ ہزار فلسطینی بے گھر
`عوام نے اپنی بات کہی
انہوں نےاس بات پر زور دیتے ہوئے کہ زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ اور اسرائیل کو درپیش چیلنجز کے لیے ایک اور انتخاب کی ضرورت کو ٹالنے کے لیے کوششوں کی ضرورت ہے ،اپنے سیاسی شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی اور ان کے تعاون کو وسیع کرنے کا عہد کیا ۔آئزنکوٹ نے کہا،’’ ۲۷؍ اکتوبر کو، عوام نے اپنی بات کہی۔اسرائیل کی اگلی حکومت کی تشکیل کا تعین صرف اسرائیلی شہریوں کو کرنا چاہیے، بغیر کسی بیرونی مداخلت یا ہیرا پھیری کے۔‘‘
بعد ازاں ان کی فوری ترجیحات میں ریاستی کمیشن آف انکوائری کا قیام، تمام شہریوں کے لیے لازمی سروس متعارف کرانا، فوجی اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ، اور خدمات انجام دینے والوں کے لیے فوائد اور شناخت کو بہتر بنانا شامل ہے۔انہوں نے حکومت کی عدالتی اصلاحات سے وابستہ قانون سازی کو منسوخ کرنے کا بھی عہد کیا۔علاوہ ازیں انہوں نے کہا، ’’کسی کو آپ کو گمراہ نہ کرنے دیں: اسرائیل میں، یہ کنیسٹ (پارلیمنٹ) ہے جو حکومت کو اعتماد کا ووٹ دیتی ہے، اس کے برعکس نہیں۔‘‘ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے امکان پر بات کرتے ہوئے، آئزنکوٹ نے کہا کہ نئی حکومت کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ان کی حمایت محدود ہوگی۔انہوں نے کہا، ’’جب تک نئی حکومت نہیں بن جاتی، میں صرف اسرائیل کے خلاف براہ راست اور فوری خطرات کے جواب میں فوجی کارروائی کی حمایت کروں گا جن کا حکومت کے حلف اٹھانے تک انتظار نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ریپبلکن کے وسط مدتی انتخاب میں پیچھے رہنے پر ٹرمپ کا ایران پرحملہ زیرغور: رپورٹ
واضح رہے کہ ان کا یہ تبصرہ کنیسٹ انتخابات کے حتمی نتائج کے اعلان کے بعد سامنے آئے، جس نے نیتن یاہو کے بلاک کو۵۳؍ نشستیں دیں، جبکہ آئزنکوٹ کی قیادت والے اپوزیشن بلاک کے لیے ۴۸؍ اور۱۲۰؍ نشستوں والی پارلیمنٹ میں عرب جماعتوں کے لیے۱۹؍ نشستیں تھیں۔جبکہ کسی بھی اہم بلاک نے اپنے طور پر حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل نہیں کی۔