اسرائیلی نشریاتی ادارے KAN کے سروے میں گادی آئزنکوٹ نے موزوں ترین وزیرِ اعظم کے سوال پر بنجامن نیتن یاہو کو ۵؍ فیصد پوائنٹس سے پیچھے چھوڑ دیا؛ تاہم دونوں سیاسی اتحاد ۱۲۰؍ رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار ۶۱؍ نشستوں سے دور ہیں۔
EPAPER
Updated: October 12, 2026, 9:59 PM IST | Jerusalem
اسرائیلی نشریاتی ادارے KAN کے سروے میں گادی آئزنکوٹ نے موزوں ترین وزیرِ اعظم کے سوال پر بنجامن نیتن یاہو کو ۵؍ فیصد پوائنٹس سے پیچھے چھوڑ دیا؛ تاہم دونوں سیاسی اتحاد ۱۲۰؍ رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار ۶۱؍ نشستوں سے دور ہیں۔
اسرائیل میں ۲۷؍ اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل اپوزیشن لیڈر اور سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ نے وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو کو ترجیحی وزیرِ اعظم کے سوال پر ۴۳؍ فیصد کے مقابلے میں ۳۸؍ فیصد سے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے KAN کے اتوار کو جاری کردہ سروے کے مطابق، آئزنکوٹ کی جماعت یاشار کو ۱۲۰؍ رکنی کنیسٹ میں ۲۲؍ نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ نیتن یاہو کی لیکود پارٹی ۲۰؍ نشستوں پر دکھائی گئی ہے۔ یہ سروے کسی حتمی انتخابی نتیجے کی پیش گوئی نہیں، بلکہ رائے دہندگان کی موجودہ ترجیحات کا اندازہ ہے۔ سروے میں نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد کو مجموعی طور پر ۵۳؍ نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت بنانے کے لیے درکار ۶۱؍ نشستوں سے ۸؍ کم ہیں۔ آئزنکوٹ کی قیادت والے اپوزیشن اتحاد کو ۵۰؍ نشستیں ملنے کا تخمینہ ہے، جبکہ باقی ۱۷؍ نشستیں ان جماعتوں کے حصے میں جاسکتی ہیں جنہیں سروے نے دونوں بڑے سیاسی دھڑوں سے باہر شمار کیا۔ اس تقسیم سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئزنکوٹ کی ذاتی برتری کے باوجود ان کے اتحاد کو بھی حکومت بنانے کے لیے دیگر جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: روسی ڈیزل معاہدہ: ٹرمپ کو دونوں جماعتوں کی تنقید کا سامنا
سروے کے مطابق، عرب جماعتوں کو مجموعی طور پر ۱۳؍ نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ ان میں جوائنٹ لسٹ کے لیے ۸؍ اور منصور عباس کی قیادت والی یونائیٹڈ عرب لسٹ، جسے رعام بھی کہا جاتا ہے، کے لیے ۵؍ نشستیں شامل ہیں۔ یہ نشستیں حکومت سازی کی ممکنہ صورتِ حال میں اہم ہوسکتی ہیں، لیکن عرب جماعتوں کی ممکنہ حمایت کو کسی اتحاد کی یقینی اکثریت تصور نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت سازی کا انحصار انتخابی نتائج کے بعد جماعتوں کے فیصلوں اور اتحادوں پر ہوگا۔ نیتن یاہو کے اتحاد میں قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کی جماعت اوتزما یہودیت کو ۹؍ نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ یونائیٹڈ تورات یہودیت کو ۸؍ اور شاس کو ۷؍ نشستیں ملنے کا تخمینہ ہے۔ مذہبی صیہونیت اور زیہوت کا مشترکہ اتحاد ۵؍ نشستوں پر دکھایا گیا ہے۔ سروے میں اوفر ونٹر کی قیادت والی امچا یسرائیل جماعت کو ۴؍ نشستیں ملنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا، جس کے ساتھ وہ انتخابی حد عبور کرتی دکھائی دیتی ہے۔
رائے دہندگان کی غیر یقینی کیفیت بھی سروے کا نمایاں پہلو ہے۔ ۳۰؍ فیصد شرکا نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا کہ کس جماعت کو ووٹ دیں گے، جبکہ ۲۱؍ فیصد نے کہا کہ وہ ووٹ ڈالنے سے گریز کرنے پر غور کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ ۵۴؍ فیصد شرکا نے نیتن یاہو اور آئزنکوٹ کے درمیان ٹیلی وژن پر براہِ راست مباحثے کی حمایت کی؛ ان میں لیکود کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھنے والے ۳۸؍ فیصد شرکا بھی شامل تھے۔ یہ اعداد انتخابات سے پہلے ووٹروں کے ایک حصے میں غیر فیصلہ کن کیفیت کی نشاندہی کرتے ہیں، اگرچہ حتمی نتائج پر ان کے اثرات کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ یہ سروے ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل میں ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے حملوں اور اس کے بعد ہونے والی جنگوں کے حوالے سے سیاسی جواب دہی انتخابی بحث کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے ۷؍ اکتوبر کو شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں بتایا کہ حملوں سے متاثرہ بعض خاندان نیتن یاہو حکومت سے سیکوریٹی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرنے اور آزادانہ سرکاری تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ نیتن یاہو نے ان ناکامیوں کی ذمہ داری سیکوریٹی حکام پر ڈالی ہے اور آزاد کمیشن کے قیام کی اجازت نہیں دی؛ دوسری طرف، ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کی قیادت میں اسرائیل نے متعدد محاذوں پر فوجی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کوئی تقسیم نہیں، کوئی سرحد نہیں: فرانسیسی خلا نورد کا زمین کو دیکھ کر تاثر
امریکی اخبار کے مطابق، سابق آرمی چیف آئزنکوٹ اور سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ نے اقتدار میں آنے کی صورت میں آزادانہ تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم، نیتن یاہو کے خلاف ناراضی کے باوجود ان کے سیاسی حریفوں کو حکومت بنانے کے لیے واضح پارلیمانی راستہ درکار ہوگا۔ واشنگٹن پوسٹ نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ بعض متاثرہ خاندان حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں، جبکہ دوسرے خاندان نیتن یاہو کی قیادت کی حمایت کرتے ہیں۔ اس لیے سیکوریٹی ناکامیوں پر جواب دہی کا مطالبہ اسرائیلی انتخابی بحث میں اہم ضرور ہے، لیکن ووٹرز کے درمیان اس معاملے پر یکساں رائے موجود نہیں۔ فنانشل ٹائمز نے بھی ۱۱؍ اکتوبر کی اپنی رپورٹ میں آئزنکوٹ کی قیادت والی اپوزیشن کی انتخابی حکمتِ عملی کا جائزہ لیا۔ اخبار کے مطابق، اپوزیشن لیڈر انتہائی دائیں بازو کی بعض پالیسیوں کو تبدیل کرنے، عالمی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد پر قابو پانے کے وعدے کررہے ہیں۔ تاہم، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل کی سلامتی سے متعلق پالیسیوں میں بڑی تبدیلی کا امکان محدود ہوسکتا ہے اور کوئی بھی نئی حکومت اتحادی جماعتوں اور پارلیمانی اعداد و شمار کی پابندیوں کا سامنا کرے گی۔ اسرائیلی انتخابات میں اب ۱۵؍ دن باقی ہیں۔ تازہ سروے میں آئزنکوٹ کو نیتن یاہو پر ترجیحی وزیرِ اعظم کے سوال پر برتری حاصل ہے، لیکن دونوں بڑے اتحاد اکثریت سے دور ہیں۔ ۳۰؍ فیصد غیر فیصلہ کن ووٹرز، ووٹ ڈالنے سے گریز پر غور کرنے والے ۲۱؍ فیصد افراد اور عرب جماعتوں کی ممکنہ نشستیں انتخابی منظرنامے کو غیر یقینی بناتی ہیں۔ حتمی صورتِ حال کا تعین ۲۷؍ اکتوبر کو ہونے والی ووٹنگ اور اس کے بعد حکومت سازی کے لیے ہونے والے مذاکرات سے ہوگا۔