Updated: May 18, 2026, 9:10 PM IST
| New York
نیویارک ٹائمز کی ایک تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف خفیہ فوجی کارروائیوں کی حمایت کیلئے عراق کے مغربی صحرا میں دو خفیہ فوجی تنصیبات قائم کیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ اڈے فضائی مدد، ایندھن بھرنے، انٹیلی جنس اور طبی سہولیات کیلئے استعمال ہوتے رہے اور جون ۲۰۲۵ء کی ایران اسرائیل ۱۲؍ روزہ جنگ میں بھی ان کا کردار رہا۔ عراق نے باضابطہ طور پر اسرائیلی فوجی موجودگی کی تردید کی ہے، تاہم مارچ میں النخیب کے قریب ’’پراسرار فضائی سرگرمی‘‘ کی تصدیق کی گئی۔
امریکی اخبار The New York Times کی ایک تازہ تحقیقاتی رپورٹ نے مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی کے تناظر میں ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے عراق کے مغربی صحرا میں دو خفیہ فوجی تنصیبات قائم کر رکھی تھیں، جنہیں ایران کے خلاف خفیہ کارروائیوں کیلئے استعمال کیا جاتا رہا۔ رپورٹ میں عراقی، امریکی اور علاقائی سیکوریٹی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہ خفیہ مقامات کم از کم ایک سال سے فعال تھے اور انہیں اسرائیلی فضائی آپریشنز، نگرانی، ایندھن بھرنے، طبی امداد اور انٹیلی جنس سپورٹ کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: کانز ۲۰۲۶ء: ہاویئر بارڈیم کی ٹرمپ، نیتن یاہو، پوتن پر شدید تنقید
رپورٹ کے مطابق ان دو تنصیبات میں سے ایک اس وقت منظر عام پر آئی جب مارچ ۲۰۲۶ء میں عراق کے صوبہ الانبار کے صحرائی علاقے النخیب کے قریب مقامی چرواہے عواد الشماری نے غیر معمولی فوجی نقل و حرکت دیکھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس نے علاقے میں ہیلی کاپٹر، عارضی رن وے، فوجی خیمے اور مسلح اہلکار دیکھنے کے بعد مقامی حکام کو اطلاع دی۔ بعد ازاں، رپورٹ کے مطابق، الشماری پراسرار حالات میں مردہ پایا گیا، جبکہ اس مقام کی تفتیش کیلئے بھیجی گئی عراقی فورسز پر گولہ باری ہوئی جس میں ایک فوجی ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق، یہ خفیہ مقامات جون ۲۰۲۵ء میں ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی ۱۲؍ روزہ جنگ کے دوران فعال کردار ادا کرتے رہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی طیاروں اور ڈرونز نے عراق کے مغربی صحرا کو ایران کی جانب آپریشنل راہداری کے طور پر استعمال کیا۔
اس سے قبل The Wall Street Journal بھی خطے میں اسرائیل کے خفیہ فوجی انفراسٹرکچر سے متعلق رپورٹس شائع کر چکا ہے، تاہم نیویارک ٹائمز کی حالیہ تحقیق کو اب تک کی سب سے تفصیلی رپورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ عراقی حکومت نے ان الزامات کی باضابطہ طور پر تردید کی ہے۔ انادولو ایجنسی سے گفتگو میں ایک سینئر عراقی سیکوریٹی اہلکار نے اسرائیلی فوجی اڈوں کی موجودگی کے دعووں کو ’’جھوٹا‘‘ قرار دیا، تاہم اس نے اعتراف کیا کہ مارچ میں النخیب کے علاقے میں ’’پراسرار فضائی سرگرمی‘‘ ضرور دیکھی گئی تھی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ عراق کی خودمختاری کیلئے ایک بڑا چیلنج ہوگا، کیونکہ بغداد طویل عرصے سے اپنی سرزمین کو علاقائی طاقتوں کے تصادم سے دور رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطین کا مسجدِ اقصیٰ کے قریب املاک پر قبضے کے اسرائیلی منصوبے کی مذمت
عراق پہلے ہی امریکہ، ایران نواز ملیشیاؤں اور اسرائیل کے درمیان پراکسی کشیدگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ گزشتہ برسوں میں اسرائیل پر عراق کے اندر ایران نواز مسلح گروہوں کے ٹھکانوں پر متعدد خفیہ حملوں کے الزامات لگتے رہے ہیں، اگرچہ اسرائیل شاذ و نادر ہی ان کارروائیوں کی باضابطہ ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ سیکوریٹی ماہرین کے مطابق عراق کا مغربی صحرا، خصوصاً الانبار اور النخیب کے علاقے، اپنی جغرافیائی وسعت، کم آبادی اور شام، اردن اور سعودی عرب سے قربت کے باعث خفیہ فوجی سرگرمیوں کیلئے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل کی جدید فوجی حکمت عملی اب صرف فضائی حملوں تک محدود نہیں بلکہ وہ خطے میں ’’فاروَرڈ آپریشنل نیٹ ورکس‘‘ قائم کر رہا ہے تاکہ ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس انکشاف سے خطے میں پہلے سے موجود عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب غزہ جنگ، ایران۔اسرائیل کشیدگی اور شام و لبنان میں جاری تنازعات نے پورے مشرق وسطیٰ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔