• Fri, 23 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران پر ممکنہ امریکی حملوں سے اسرائیل خوف زدہ، الرٹ جاری

Updated: January 23, 2026, 4:32 PM IST | Agency | Gaza

تل ابیب کو ایسا لگ رہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیاتو جوابی کارروائی میں ایران ، اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنائے گا۔

A senior Israeli military official has admitted that the army was alerted after a report from Israeli intelligence. Picture: INN
اسرائیلی فوج کے اعلیٰ عہدیدار ان نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کی رپورٹ کے بعد فوج کو الرٹ کردیا گیا ہے۔ تصویر: آئی این این
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے سیکورٹی اور دفاعی اداروں نے تیاری اور چوکسی کی سطح بلند ترین درجے تک بڑھا دی ہے، یہ اقدام خطے میں بڑھتی کشیدگی اور ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی سے متعلق اطلاعات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔اخبار ہارٹز نے رپورٹ کیا کہ یہ ہنگامی تیاری اسرائیلی قیادت کے ان سنگین خدشات کے باعث کی گئی ہے جن کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ایک اسٹریٹجک فوجی حملے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ 
سیکورٹی اندازوں کے مطابق یہ حملہ آئندہ چند دنوں میں عملی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے باعث پورا خطہ شدید خطرات کی زد میں آ چکا ہے۔اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کے اندرونی اندازوں کے مطابق اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو تہران کی قیادت جوابی کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کرے گی، تاہم سب سے بڑا خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے بجائے یا اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو براہ راست محاذ آرائی میں گھسیٹنے کا فیصلہ کر سکتا ہے، جس کے لیے اسرائیلی اہداف بالخصوص تل ابیب پر میزائل حملے کیے جا سکتے ہیں۔اسرائیلی فوج کے اعلیٰ عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ الرٹ کی سطح بڑھا دی گئی ہے، تاہم اس بات کا کوئی مکمل یقین نہیں کہ ایران اپنے ردعمل میں اسرائیل کو براہ راست یا اولین ہدف بنائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ اقدامات احتیاطی نوعیت کے ہیں جن کا مقصد ہر ممکن منظرنامے کے لیے مکمل تیاری کو یقینی بنانا ہے، ان اقدامات میں فضائی دفاعی نظام کو فعال رکھنا اور داخلی محاذ کا تحفظ شامل ہے۔ 
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطہ شدید سفارتی اور فوجی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے، امریکی صدر ٹرمپ اپنی نئی مدت کے دوسرے سال کے آغاز پر مشرق وسطیٰ سے متعلق ایک نیا توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے باعث آنے والے مہینوں میں صورتحال کے رخ کے حوالے سے عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK