Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل نے بالآخر ہند رجب کے قتل کا اعتراف کرلیا

Updated: August 21, 2026, 3:18 PM IST | Agency | Washington

۲۰۲۴ء میں پیش آنیوالے اس انسانیت سوزحملے کے ساتھ ساتھ ۱۵؍امدادی کارکنوں کے قتل کی بھی تحقیقات کرنے کا اعلان کیا ،کار میں سفر کررہی ۵؍سالہ ہند رجب اور اس کی فیملی کواسرائیلی ٹینک نے نشانہ بنایا تھا، اس معاملے نے دنیا بھر کو جھنجوڑدیا تھا، اس پر دستاویز فلم بھی بن چکی ہے۔

File photo of Hind Rajab. Picture: INN
ہند رجب کی فائل فوٹو۔ تصویر: آئی این این

اسرائیلی افواج نے پہلی بار غزہ میں ۵؍ سالہ فلسطینی  بچی ہند رجب کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے قتل کی مجرمانہ تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔اسرائیل نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ۲۹؍ جنوری۲۰۲۴ء کو ہند رجب اور مارچ۲۰۲۵ء میں غزہ میں اپنے فوجیوں کے ہاتھوں۱۵؍ انسانی امدادی کارکنوں کے قتل کی تحقیقات شروع کرے گا۔ اسرائیل نے اس سے قبل ان ہلاکتوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا اور مہینوں بعد اپنی ابتدائی تحقیقات میں کہا تھا کہ ہند رجب اور اسکی فیملی کی ہلاکت کے معاملے میں اس کی افواج گاڑی کے قریب یا فائرنگ کی حد میں موجود نہیں تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: بے گناہ مسلم نوجوان کے خلاف اپیل پر حکومت کو منہ کی کھانی پڑی

معلوم ہوکہ ہند رجب شمالی غزہ میں ایک گاڑی میں سفر کرنے والے خاندان کے سات اراکین میں سے ایک تھی جس پر فائرنگ کی گئی تھی۔پہلے حملے میں گاڑی میں سوار ہند کے چچا،چاچی اور کزن جاں بحق ہوئےاور خوش قسمتی سے وہ زندہ بچ گئی تھی۔ اس دوران اسرائیلی ٹینک کار کے پاس سے نہیں ہٹا اور اسرائیلی فوجی اس پر مسلسل حملے کرتے۔ اس دوران کار میں پھنسی ہند رجب نے اپنے عزیزوں کی لاشوں کے درمیان چھپ کر کئی گھنٹوں تک فون پر فلسطین ہلالِ احمر کے پیرامیڈیکس سے مدد کی اپیل کی تھی جبکہ اسے بچانے کے لیے بھیجی گئی ایمبولینس پر بھی فائرنگ کی گئی تھی۔۱۲؍ دن بعد ہند رجب کی بے جان لاش گولیوں سے چھلنی ایک گاڑی سے ملی۔

آئی ڈی ایف بیان میں کیا کہا

اسرائیلی افواج(آئی ڈی ایف) نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’حقائق کا جائزہ لینے کے بعد اور فلسطین ہلالِ احمر کی ایمبولینس کی نقل و حرکت کے تال میل میں مبینہ خامیاں سامنے آنے پر، ملٹری پولیس کرمنل انویسٹی گیشن برانچ کے ذریعے واقعے کی مجرمانہ تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘‘آئی ڈی ایف نے  کہا،’’تحقیقات کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوجی دستوں نے ایک ایسی گاڑی پر فائرنگ کی جو ان کی جانب آ رہی تھی۔‘‘

تفتیش کے اعلان پر ہند رجب کی والدہ کا ردعمل یہ رہا

سی این این کی رپورٹ کے مطابق ہند رجب کی والدہ، وسام حمادہ نے اس تحقیقات کو ’’بہت تاخیر سے اٹھایا گیا قدم قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ’’تحقیقات ابھی شروع ہی نہیں ہوئی ہیں۔‘‘جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں حمادہ نے کہا، ’’میں کوئی مخفی فوجی تحقیقات نہیں چاہتی۔ میں ایک آزاد، شفاف تحقیقات اور اس واقعے کے ذمہ دار تمام افراد کے خلاف حقیقی احتساب چاہتی ہوں۔‘‘ اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور نے اسرائیل کی ماضی کی تحقیقات کو ’’آزاد اور قابلِ اعتبار نہیں‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی۔ انہوں نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ اس بار ہونے والی تحقیقات بھی اس سے مختلف ہوں گی۔اگر تحقیقات واقعی قابلِ اعتبار ہوئیں تو اسکے نتیجے میں قاتل گرفتار ہونے چاہئے۔

دھیان رہے کہ راملہ کےفلسطینی پیرامیڈیکس کے ساتھ ہند رجب کی فون کالز کی ریکارڈنگز نے بین الاقوامی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا اور اس کی موت اور غزہ میں ہلاک ہونے والے ہزاروں دیگر بچوں کے احتساب کے مطالبات کو تقویت دی۔اس واقعے سے متاثر ہو کر بنائی گئی دستاویزی فلم’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ کو ۲۰۲۶ء میں آسکر کیلئے نامزد کیا گیا۔ نیز کئی عالمی فلم فیسٹیول بھی اس فلم کی پزیرائی کی گئی۔ 

یہ بھی پڑھئے: انگلینڈ: دنیا کی معمر ترین خاتون ایتھل کیٹرہم ۱۱۷؍ برس کی ہو گئیں، طویل عمر کا راز بتایا

ہند رجب کا قتل کب اور کیسے ہواتھا؟

۲۹؍ جنوری۲۰۲۴ء کو ہند رجب اور اسکے خاندان نے اسرائیلی انخلا کے احکامات کے بعد غزہ شہر میں واقع اپنے محلے سے نکلنے کی کوشش کی۔ وہ ایک سیاہ رنگ کی کِیا کار میں سوار تھے، جسے ہند کے چچا چلا رہے تھے۔ ہند کی والدہ، وسام حمادہ، اسی روز اس المناک واقعے سے کچھ دیر پہلے پیدل علاقہ چھوڑنے کے بعد اپنی بیٹی سے جدا ہو گئی تھیں۔ جب خاندان خطرناک سڑکوں سے گزر رہا تھا تو اسرائیلی فورسیز  نے گاڑی پر۳۰۰؍ سے زائد گولیاں برسائیں، جس کے نتیجے میں ہند کے۶؍ رشتہ دار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ ان میں اسکی۱۵؍سالہ کزن لیان بھی شامل تھی، جو جان لیوا گولی لگنے سے قبل ایمرجنسی ڈسپیچرز سے بات کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔زخمی حالت میں اپنے خاندان کے افراد کی لاشوں کے درمیان پھنسی پانچ سالہ ہند کئی گھنٹوں تک زندہ رہی۔ اس دوران اس نے فون پرفلسطینی ہلالِ احمر سوسائٹی کے کارکنوں سے انتہائی بے بسی کے عالم میں کہاتھا : ’’مجھے بہت ڈرلگ رہاےہے،براہِ کرم آ جائیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK