اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف ۱۰؍ ہزار ۸۰۰؍ سے زیادہ فضائی حملے کئے گئے،اس کے ساتھ ہی ۴۰؍ روزہ جنگ کے دوران حکمت عملی کے لحاظ سے اہم علاقے اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
EPAPER
Updated: April 11, 2026, 9:04 PM IST | Tel Aviv
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف ۱۰؍ ہزار ۸۰۰؍ سے زیادہ فضائی حملے کئے گئے،اس کے ساتھ ہی ۴۰؍ روزہ جنگ کے دوران حکمت عملی کے لحاظ سے اہم علاقے اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی فوج نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ اس نے فروری کے آخر میں امریکہ کے ساتھ مل کر شروع کی گئی جنگ کے دوران ایران کے خلاف ۱۰؍ ہزار ۸۰۰؍ سے زائد فضائی حملے کیے۔فوج نے۸؍ اپریل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان عارضی جنگ بندی تک کی کارروائیوں کی تفصیلات شیئر کیں۔اس کے مطابق ایران میں۴؍ ہزار اسٹریٹجک اہداف اور۶۷۰۰؍ فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا، اور فضائی مہم کے دوران، جو تقریباً۴۰؍ دن جاری رہی، درجنوں جنگی طیارے بیک وقت کارروائیوں میں شامل تھے۔اسرائیل نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے حملوں میں۱۸۰۰۰؍ سے زائد گولہ بارود استعمال کیا، جو گزشتہ جون میں ایران کے خلاف۱۲؍ روزہ مہم کے دوران استعمال ہونے والے گولہ بارود سے تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔حالانکہ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھئے: سی این این: چین ایران کو فضائی دفاعی نظام دے سکتا ہے، کشیدگی برقرار
واضح رہے کہ خطے میں علاقائی کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کر دی۔جس کے بعد تہران نے ڈرون اور میزائل حملوں کے ساتھ جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور مشرق وسطیٰمیں امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا، اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا۔تاہم پاکستان نے جنگ کے ۴۰؍ دن گزرنے کے بعد ترکی، چین، سعودی عرب اور مصر کے ساتھ مل کر اس ہفتے واشنگٹن اور تہران کے درمیان دو ہفتے کا جنگ بندی معاہدہ کرانے میں کامیابی حاصل کرلی۔اس معاہدے کے تحت، دونوں فریق پائیدار امن کے لیے مذاکرات کرنے اسلام آباد میں ملاقات پر متفق ہوئے۔