Updated: April 11, 2026, 8:01 PM IST
| Washington
سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کا خیال ہے کہ چین آئندہ ہفتوں میں ایران کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کر سکتا ہے، جب کہ امریکہ اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی برقرار ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کھیپ تیسرے ممالک کے ذریعے بھیجی جا سکتی ہے۔ تاہم چین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے آج ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ چین آئندہ چند ہفتوں میں ایران کو نئے فضائی دفاعی نظام فراہم کر سکتا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ جنگ کے بعد ایک نازک جنگ بندی برقرار ہے۔ رپورٹ میں ایسے ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے جو حالیہ انٹیلی جنس جائزوں سے واقف ہیں۔ ان کے مطابق ایران اس جنگ بندی کے دوران اپنے عسکری ڈھانچے کو بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کی مدد حاصل کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دبئی: ۳۱؍ مئی تک فی دن ایک غیر ملکی پرواز کی اجازت، ہندوستان سب سے زیادہ متاثر
رپورٹ کے مطابق، یہ بھی اشارے ملے ہیں کہ چین ان دفاعی نظاموں کی ترسیل کے لیے تیسرے ممالک کا استعمال کر سکتا ہے تاکہ ان کی اصل شناخت کو چھپایا جا سکے۔ زیر بحث ہتھیاروں میں کندھے سے فائر کیے جانے والے طیارہ شکن میزائل شامل ہیں، جنہیں ’’مین پیڈس‘‘ کہا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ نظام حالیہ پانچ ہفتوں پر محیط لڑائی کے دوران کم بلندی پر پرواز کرنے والے امریکی فوجی طیاروں کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہوئے تھے۔ انٹیلی جنس اندازوں کے مطابق، اگر جنگ بندی ٹوٹتی ہے تو یہ ہتھیار دوبارہ اسی نوعیت کا خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔
اس رپورٹ کے جواب میں واشنگٹن میں قائم چینی سفارت خانے کے ترجمان نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’چین نے کبھی بھی اس تنازع کے کسی بھی فریق کو ہتھیار فراہم نہیں کیے۔ زیر بحث معلومات غلط اور بے بنیاد ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ایک ذمہ دار ملک کے طور پر چین ہمیشہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرتا ہے۔ ہم امریکی فریق پر زور دیتے ہیں کہ وہ بے بنیاد الزامات لگانے، غلط بیانی کرنے اور سنسنی پھیلانے سے گریز کرے، اور تمام متعلقہ فریق کشیدگی کو کم کرنے میں مثبت کردار ادا کریں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: پاکستانی وزیرِ دفاع نے اسرائیل کو سرطانی ریاست کہا، اسرائیل کی مذمت، پوسٹس حذف
اعداد و شمار کے مطابق ۲۸؍ فروری کو شروع ہونے والے اس تنازعے میں تقریباً ۳؍ ہزار ایرانی فوت ہوئے، جبکہ کم از کم ۱۳؍ امریکی فوجی بھی مارے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اس دوران عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی بھی متاثر ہوئی، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں خلل کے باعث تیل کی ترسیل پر اثر پڑا۔ رپورٹ کے مطابق، اگرچہ جنگ بندی نافذ ہے، تاہم خطے میں عسکری تیاری اور صلاحیتوں کے حوالے سے خدشات بدستور برقرار ہیں۔