• Fri, 25 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے،اسپین کے وزیراعظم کا اقوام متحدہ میں خطاب

Updated: September 25, 2026, 4:41 PM IST | Agency | New York

ہسپانوی وزیراعظم پيڈرو سانچیز نے جمعرات کے روز غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ جنگ کے تناظر میں قابض اسرائیل پر شدید تنقید کرتے ہوئے بنجامن نیتن یاہوکی حکومت پر نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھنے کا الزام عائد کیا، بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنے نیز اقوام متحدہ اور بین الاقوامی عدالتی اداروں کے کردار کو تقویت دینے پر زور دیا۔

Spanish Prime Minister Pedro Sánchez during his address. Photo: INN
ہسپانوی وزیر ا عظم پیڈروسانچیز خطاب کے دوران۔ تصویر: آئی این این

ہسپانوی وزیراعظم پيڈرو سانچیز نے جمعرات کے روز غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ جنگ کے تناظر میں قابض اسرائیل پر شدید تنقید کرتے ہوئے بنجامن نیتن یاہوکی حکومت پر نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھنے کا الزام عائد کیا، بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنے نیز اقوام متحدہ اور بین الاقوامی عدالتی اداروں کے کردار کو تقویت دینے پر زور دیا۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ۸۱؍ویں اجلاس سے اپنے خطاب کے دوران سانچيز نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی حکومت غزہ میں جاری اس عمل کی غیر مشروط مذمت کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’فلسطینی عوام کی آواز کو روکنے کی ہرکوشش ناکام ہوگی ‘‘

انہوں نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف صہیونی فوج کی کارروائیوں نسل کشی قرار دیا، ساتھ ہی اس دوہرے معیار پر بھی تنقید کی جو جنگوں اور بحرانوں کے معاملے میں بین الاقوامی سطح پر اپنایا جاتا ہے۔ہسپانوی وزیراعظم نے کہا کہ ایسی طاقتیںجو دنیا میں موجود ہیں اور’خود غرض، جاہل اور سنگ دل ‘ ہیں، غیر قانونی جنگیں لڑ رہی ہیں، بے گناہ شہریوں کو قتل کر رہی ہیں اور لاکھوں انسانوں کے مصائب سے صرفِ نظر کر رہی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ اقوام متحدہ اور کثیر جہتی نظام کو کمزور کرنے کی بھی کوششیں کر رہی ہیں۔سانچيز نے کہا کہ ان کے ملک نے گزشتہ ۸؍ برسوں کے دوران جارحانہ جنگوں کی مخالفت کی ہے، یوکرین، لبنان اور ایران کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ میڈرڈ نے ان کارروائیوں کو روکنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی ہےکیوں کہ یہ کارروائیاں اقوام متحدہ کے چارٹر سے متصادم ہیں۔انہوں نے اپنے خطاب میں ان اقدار پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی ضرورت پر زور دیا جن کی بنیاد پر اقوام متحدہ اور۲۰۳۰ءکے ایجنڈے کے اہداف قائم کیے گئے تھے، اور جنگوں و بحرانوں کے مقابلے میں کثیر جہتی تعاون کو فروغ دینے، بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کا سہارا لینے، بین الاقوامی عدالتی اداروں کی پشت پناہی کرنے اور خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کا محاسبہ کرنے کی دعوت دی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK