فلسطینی ریاست کے ترجمان نبیل ابو رودینے نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے پہلے دن عرب اور بین الاقوامی وفود کے خطابات میں فلسطینی عوام کیآزادی اور خودمختاری کے حق پر زور دیا گیا، انہوں نے بتایا کہ اجلاس سے محمود عباس کے بذریعہ ویڈیوخطاب کے فیصلے کو۳؍کے مقابلے ۱۵۲؍ ووٹوں سے منظور کیا گیا۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے بذریعہ ویڈیو جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ تصویر: آئی این این
ریاست ِ فلسطین کے پریس سیکریٹری نبیل ابو رودینےنے کہا کہ فلسطین کو نظر انداز کرنے اور اس کے عوام کی آواز کو دنیا تک پہنچنے سے روکنے کی تمام کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔فلسطین کی سرکاری خبر ایجنسی ڈبلیو اے ایف اے(وفا)کے مطابق ابو رودینے نے کہا ’’ صدرِ فلسطین محمود عباس اور ان کے وفد کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت اور فلسطین کی نمائندگی کرتے ہوئے خطاب کرنے سے روکنے سے فلسطینی عوام کی آواز کے دنیا تک پہنچنے کا راستہ بند نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ عرب اور بین الاقوامی وفود کے خطاب میں مسئلہ فلسطین نمایاں رہا اور فلسطینی عوام کی آزادی اور خودمختاری کے حق کو اجاگر کیا گیا۔ہمارے عوام کی آواز دنیا کے تمام براعظموں میں زور و شور کے ساتھ سنی جا رہی ہے اور اقوام متحدہ کے فیصلوں اور اکثریتی رکن ممالک کے موقف میں جگہ بنا رہی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’ہم اسرائیلی اقدامات پرخاموش نہیں رہیں گے‘‘
اقوام متحدہ کی۸۱؍ ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس کیلئے امریکہ کی جانب سے ویزا نہ دینے پر عباس کے جنرل اسمبلی کو ویڈیو کے ذریعے خطاب کرنے کے فیصلے کو۱۵۲؍ حامی اور ۳؍ مخالف ووٹوں کے ساتھ منظور کیے جانے کی یاد دہانی کراتے ہوئے ابو رودینے نے کہا کہ یہ فلسطینی عوام کے حقوق کو نظر انداز کرنے کی کوششوں کے خلاف ایک بڑا جھٹکا ہے۔ابو ردینے نے کہا کہ مذکورہ ووٹنگ ایک بین الاقوامی ریفرنڈم کی حیثیت رکھتی ہے جو فلسطینی عوام کی جائز جدوجہد کے لیے عالمی حمایت کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے، اور اس کے ذریعے جنگل کا قانون کی پالیسی اور دوہرا معیار مسترد کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ فلسطین اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کاروائیوں اور تمام بین الاقوامی فورمز میں مضبوط طور پر موجود رہے گا اور وہ فلسطینی عوام کی موجودگی اور اپنی زمینوں کے ساتھ وابستگی کا دفاع جاری رکھیں گے۔ابو ردینے نے کہا کہ فلسطینی قیادت، خاص طور پر محمود عباس کی قیادت میں، اسرائیلی قبضے کی تمام شکلوں کے خاتمے اور۱۹۶۷ء کی سرحدوں میں، دار الحکومت مشرقی بیت المقدس کے ساتھ، مکمل خودمختار ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے ہدف کے تحت سیاسی، سفارتی اور قانونی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یہ بھی پڑھئے: سعودی مفتی اعظم کی حوثیوں کے خلاف فوجیوں کو متحد رہنے کی ہدایت
سیکریٹری ابو رودینے نے کہا کہ جب تک بیت المقدس قبضے میں رہے گا امن اور سلامتی خطرے میں رہے گی ۔امریکہ نے نہ صرف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرنے والے فلسطینی صدر محمود عباس بلکہ وہ فلسطینی حکام جن کی جنرل اسمبلی کے لیے امریکہ آمد کی توقع تھی، کی ویزا درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔اس کے بعد جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں عباس کا اسمبلی کو ویڈیو کے ذریعے خطاب کرنے کا فیصلہ۳؍کے مقابلے ۱۵۲؍ ووٹوں سے منظور کیا گیا تھا۔واضح رہےکہ محمود عباس نے اپنے خطاب میںاسرائیلی پالیسیوں کوفلسطینیوں کے وجود کیلئے خطرہ قراردیااوربین الاقوامی برادری کو متنبہ کیا کہ فلسطین میںایک اور نکبہ کی اجازت نہ دیجائے۔اقوام متحدہ کے لیڈروںنے اس کا نوٹس لیا ہے۔